صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
162. باب الوقوف بعرفة والمزدلفة والدفع منهما - ذكر خبر ثان يصرح بإباحة ما ذكرنا
عرفات اور مزدلفہ میں وقوف اور وہاں سے روانگی کا بیان - دوسری خبر کا ذکر جو ہمارے بیان کردہ کی اجازت کو واضح کرتی ہے
حدیث نمبر: 3864
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ زِيَادٍ السُّوسِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: لَوَدِدْتُ أَنِّي كُنْتُ اسْتَأْذَنْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا اسْتَأْذَنَتْ سَوْدَةُ، فَأُصَلِّيَ الصُّبْحَ بِمِنًى، وَأَرْمِي الْجَمْرَةَ قَبْلَ أَنْ يَأْتِيَ النَّاسُ، فَقُلْتُ لِعَائِشَةَ: وَكَانَتْ سَوْدَةُ اسْتَأْذَنَتْهُ؟، قَالَتْ:" نَعَمْ إِنَّهَا كَانَتِ امْرَأَةً ثَقِيلَةً ثَبِطَةً، فَاسْتَأْذَنَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَذِنَ لَهَا" .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میری یہ خواہش ہے کہ میں نے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح اجازت لے لی ہوتی، جس طرح سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا نے لی تھی اور میں صبح کی نماز منی میں ادا کرتی جمرہ کو کنکریاں لوگوں کے آنے سے پہلے مار لیتی۔ راوی کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: کیا سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لی تھی؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں وہ ایک بھاری بھرکم خاتون تھیں، تو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت مانگی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3864]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 3853»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - مضى (3850). تنبيه!! رقم (3850) = (3861) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
الرواة الحديث:
القاسم بن محمد التيمي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق