🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
221. باب التمتع - ذكر السبب الذي من أجله أمرهم صلى الله عليه وسلم بالإحلال ولم يحل هو بنفسه
تمتع کے حج کا بیان - اس وجہ کا ذکر جس کی بنا پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں احلال کا حکم دیا اور خود احلال نہ کیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3925
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ حَفْصَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا شَأْنُ النَّاسِ، حَلُّوا وَلَمْ تَحِلَّ أَنْتَ مِنْ عُمْرَتِكَ؟، فَقَالَ: " إِنِّي لَبَّدْتُ رَأْسِي، وَقَلَّدْتُ هَدْيِي، فَلا أَحِلُّ حَتَّى أَنْحَرَ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی کہ کیا وجہ ہے کہ لوگوں نے احرام کھول دیا ہے اور آپ نے عمرے کے بعد احرام نہیں کھولا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے اپنے سر کے بالوں کو جمایا ہوا ہے اور قربانی کا جانور ساتھ رکھا ہوا ہے اس لیے جب تک میں قربانی نہیں کرتا اس وقت تک احرام نہیں کھولوں گا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3925]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 3914»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (1585): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥حفصة بنت عمر العدويةصحابي
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن عمر العدوي ← حفصة بنت عمر العدوية
صحابي
👤←👥نافع مولى ابن عمر، أبو عبد الله
Newنافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي
ثقة ثبت مشهور
👤←👥مالك بن أنس الأصبحي، أبو عبد الله
Newمالك بن أنس الأصبحي ← نافع مولى ابن عمر
رأس المتقنين وكبير المتثبتين
👤←👥أحمد بن أبي بكر القرشي، أبو مصعب
Newأحمد بن أبي بكر القرشي ← مالك بن أنس الأصبحي
ثقة
👤←👥عمر بن سنان المنبجي، أبو بكر
Newعمر بن سنان المنبجي ← أحمد بن أبي بكر القرشي
ثقة