صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
220. باب التمتع - ذكر البيان بأن المصطفى صلى الله عليه وسلم أمر من لم يكن معه الهدي بكل الإحلال لا بالبعض منه
تمتع کے حج کا بیان - اس بات کا بیان کہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو مکمل احلال کا حکم دیا جس کے ساتھ ہدی نہ ہو، نہ کہ جزوی احلال کا
حدیث نمبر: 3924
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ، فَقَدِمْنَا مَكَّةَ، فَطُفْنَا بِالْبَيْتِ، وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، ثُمَّ قَامَ فِينَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " مَنْ لَمْ يَكُنْ مِنْكُمْ سَاقَ هَدْيًا فَلْيَحْلِلْ وَلْيَجْعَلْهَا عَمْرَةً"، فَقُلْنَا: حِلٌّ مِنْ ذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟، قَالَ:" الْحِلُّ كُلُّهُ"، فَوَاقَعْنَا النِّسَاءَ، وَلَبِسْنَا، وَتَطَيَّبْنَا بِالطِّيبِ، فَقَالَ أُنَاسٌ: مَا هَذَا الأَمْرُ، نَأْتِي عَرَفَةَ، وَأُيُورُنَا تَقْطُرُ مَنِيًّا؟، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ فِينَا كَالْمُغْضَبِ، فَقَالَ:" وَاللَّهِ لَقَدْ عَلِمْتُمْ أَنِّي أَتْقَاكُمْ، وَلَوْ عَلِمْتُ أَنَّكُمْ تَقُولُونَ هَذَا مَا سُقْتُ الْهَدْيَ، فَاسْمَحُوا بِمَا تُؤْمَرُونَ بِهِ"، فَقَامَ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، عُمْرَتُنَا هَذِهِ الَّتِي أَمَرْتَنَا بِهَا أَلِعَامِنَا هَذَا أَمْ لِلأَبَدِ؟، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بَلْ لِلأَبَدِ" .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ حج کا تلبیہ پڑھتے ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئے اور مکہ آ گئے ہم نے بیت اللہ کا طواف کیا صفا اور مروہ کی سعی کی پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور ارشاد فرمایا: تم میں سے جس شخص کے ساتھ قربانی کا جانور نہیں ہے وہ احرام کھول دے اور اسے عمرے میں تبدیل کر دے۔ ہم نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم کس حد تک احرام ختم کریں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مکمل طور پر (راوی کہتے ہیں) ہم نے اپنی بیویوں کے ساتھ صحبت بھی کی، سلے ہوئے کپڑے بھی پہن لیے، خوشبو بھی لگا لی کچھ لوگوں نے یہ بات کہی۔ اب تو یہ ہو گا، جب ہم عرفہ کی طرف جائیں گے، تو ہماری شرمگاہوں سے منی کے قطرے ٹپک رہے ہوں گے۔ اس بات کی اطلاع نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی آپ ہمارے درمیان یوں کھڑے ہوئے جیسے غصے کے عالم میں ہوں۔ آپ نے ارشاد فرمایا: اللہ کی قسم! تم لوگ یہ بات جانتے ہو کہ میں تم سب سے زیادہ پرہیزگار ہوں اور مجھے پتہ چلا ہے کہ تم نے یہ بات کہی ہے۔ اگر میں نے قربانی کا جانور ساتھ نہ لیا ہوتا (تو میں بھی احرام کھول دیتا) تمہیں، جس چیز کا حکم دیا جائے اس کی پیروی کیا کرو سیدنا سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے۔ انہوں نے عرض کی: یا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم ! عمرے کے بارے میں حکم اس سال کے لیے خاص ہے یا ہمیشہ کے لیے ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلکہ ہمیشہ کے لیے ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3924]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 3913»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - مضى (3780). تنبيه!! رقم (3780) = (3791) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح
الرواة الحديث:
محمد بن مسلم القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري