صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
241. باب ما جاء في حج النبي صلى الله عليه وسلم واعتماره - ذكر وصف اعتمار المصطفى صلى الله عليه وسلم
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حج و عمرہ کا بیان - مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمرہ کی صفت کا ذکر
حدیث نمبر: 3945
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ السَّخْتِيَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا، وَعُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ الْمَسْجِدَ، فإذا عبد الله بن عمر جالس إلى حجرة عائشة، وإذا الناس يصلون في المسجد صلاة الضحى، قَالَ: فَسَأَلْنَاهُ عَنْ صَلاتِهِمْ، فَقَالَ: بِدْعَةٌ، ثُمَّ، قَالَ: اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعًا، إِحْدَاهُنَّ فِي رَجَبٍ فَكَرِهْنَا أَنْ نُكَذِّبَهُ، أَوْ نَرُدَّ عَلَيْهِ، وَسَمِعْنَا اسْتِنَانَ عَائِشَةَ فِي الْحُجْرَةِ، فَقَالَ عُرْوَةُ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ أَلا تَسْمَعِينَ مَا يَقُولُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ؟، قَالَتْ: مَا يَقُولُ؟، قَالَ: يَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اعْتَمَرَ أَرْبَعَ عُمَرٍ، إِحْدَاهُنَّ فِي رَجَبٍ، فَقَالَتْ:" يَرْحَمُ اللَّهُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، مَا اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَمْرَةً، إِلا وَهُوَ شَاهِدٌ، وَمَا اعْتَمَرَ فِي رَجَبٍ قَطُّ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: فِي قَوْلِ بْنِ عُمَرَ: اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَ عُمَرٍ إِحْدَاهُنَّ فِي رَجَبٍ، أَبْيَنُ الْبَيَانِ أَنَّ الْخَيِّرَ الْمُتْقِنَ الْفَاضِلَ قَدْ يَنْسَى بَعْضَ مَا يَسْمَعُ مِنَ السُّنَنِ أَوْ يَشْهَدُهَا، لأَنَّ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا اعْتَمَرَ إِلا أَرْبَعَ عُمَرٍ، الأُولَى عَمْرَةُ الْقَضَاءِ سَنَةَ الْقَابِلِ مِنْ عَامِ الْحُدَيْبِيَةِ، وَكَانَ ذَلِكَ فِي رَمَضَانَ، ثُمَّ الْعُمْرَةُ الثَّانِيَةُ حَيْثُ فَتْحَ مَكَّةَ، وَكَانَ فَتْحُ مَكَّةَ فِي رَمَضَانَ، ثُمَّ خَرَجَ مِنْهَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ هَوَازِنَ، وَكَانَ مِنْ أَمْرِهِ مَا كَانَ، فَلَمَّا رَجَعَ وَبَلَغَ الْجِعْرَانَةَ، قَسَّمَ الْغَنَائِمَ بِهَا، وَاعْتَمَرَ مِنْهَا إِلَى مَكَّةَ، وَذَلِكَ فِي شَوَّالٍ، وَاعْتَمَرَ الْعُمْرَةَ الرَّابِعَةَ فِي حَجَّتِهِ، وَذَلِكَ فِي ذِي الْحِجَّةِ سَنَةَ عَشْرَةِ مِنَ الْهِجْرَةِ.
مجاہد بیان کرتے ہیں: میں اور عروہ بن زبیر مسجد میں داخل ہوئے، وہاں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے کے پاس تشریف فرما تھے، لوگ مسجد میں چاشت کی نماز ادا کر رہے تھے۔ راوی کہتے ہیں: ہم نے ان سے ان لوگوں کی اس نماز کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا: یہ بدعت ہے، پھر انہوں نے یہ بات بتائی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چار مرتبہ عمرہ کیا تھا، جن میں ایک عمرہ رجب کے مہینے میں کیا تھا۔ ہمیں یہ بات اچھی نہیں لگی کہ ہم ان کی بات کو غلط قرار دیں یا ان کو جواب دیں، ہم نے حجرے میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے مسواک کرنے کی آواز سنی تو ان سے کہا: اے ام المؤمنین! کیا آپ سن رہی ہیں کہ سیدنا ابوعبدالرحمن رضی اللہ عنہما کیا فرما رہے ہیں؟ انہوں نے دریافت کیا: کیا فرما رہے ہیں؟ عروہ نے بتایا: یہ کہہ رہے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چار عمرے کیے تھے، جن میں سے ایک عمرہ رجب کے مہینے میں تھا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: «يَرْحَمُ اللهُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ» ”اللہ تعالیٰ ابوعبدالرحمن پر رحم کرے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو بھی عمرہ کیا تھا یہ بھی اس میں شامل تھے، لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رجب میں کوئی بھی عمرہ نہیں کیا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا یہ کہنا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چار عمرے کیے تھے، ان میں سے ایک عمرہ رجب کے مہینے میں تھا؛ اس قول کا واضح بیان موجود ہے کہ بہتر، متقن اور فاضل شخص بھی بعض اوقات کسی ایسی چیز کو بھول سکتا ہے جو حدیث اس نے سنی ہو یا جس میں وہ موجود رہا ہو، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف چار ہی عمرے کیے تھے: پہلا عمرہ قضا کا تھا جو حدیبیہ کے سال کے اگلے سال تھا اور یہ رمضان کے مہینے میں ہوا تھا؛ اور دوسرا عمرہ اس وقت ہوا تھا جب مکہ فتح کیا تھا اور مکہ بھی رمضان میں فتح ہوا تھا؛ پھر آپ وہاں سے ہوازن تشریف لے گئے تھے، پھر غزوہ حنین ہوا، جب وہاں سے واپس تشریف لائے اور جعرانہ کے مقام پر پہنچے، وہاں آپ نے مالِ غنیمت تقسیم کیا اور وہاں سے عمرہ کرنے کے لیے مکہ کی طرف روانہ ہو گئے، یہ شوال کے مہینے کی بات ہے؛ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چوتھا عمرہ حج کے موقع پر کیا تھا جو سن دس ہجری کے ذوالحجہ کے مہینے میں کیا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3945]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1775، 1777، 4253، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1255، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 3070، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3945، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 4203، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1992، والترمذي فى (جامعه) برقم: 936، 937، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2998، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8925، وأحمد فى (مسنده) برقم: 5483» «رقم طبعة با وزير 3934»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيح» (1738): ق نحوه. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 3945 in Urdu
عروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق