صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
268. باب ما يباح للمحرم وما لا يباح - ذكر الإباحة للمحرم أكل لحم الصيد إذا لم يكن أعان عليه بشيء
محرم کے لیے مباح اور غیر مباح امور کا بیان - اس بات کی اجازت کہ محرم صید کا گوشت کھائے اگر اس نے اس پر کوئی مدد نہ کی ہو
حدیث نمبر: 3976
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ بِتُسْتَرَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مُكْرَمٍ بِالْبَصْرَةَ شَيْخَانِ حَافِظَانِ، قَالا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعُقَيْلِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ:" بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا قَتَادَةَ الأَنْصَارِيَّ عَلَى الصَّدَقَةَ، وَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ مُحْرِمُونَ، حَتَّى نَزَلُوا بِعُسْفَانَ ثَنِيَّةِ الْغَزَّالِ، فَإِذَا هُمْ بِحِمَارٍ وَحْشِيٍّ، فَجَاءَ أَبُو قَتَادَةَ، وَهُوَ حِلٌّ فَنَكَّسُوا رُؤُوسَهُمْ كَرَاهِيَةَ أَنْ يُحِدُّوا أَبْصَارَهُمْ فَيَفْطَنَ، فَرَآهُ فَرَكِبَ فَرَسَهُ، وَأَخَذَ الرُّمْحَ، فَسَقَطَ مِنْهُ السَّوْطُ، فَقَالَ: نَاوِلْنِيهِ، فَقُلْنَا: لا نُعِينُكَ عَلَيْهِ بِشَيْءٍ، فَحَمَلَ عَلَيْهِ فَعَقَرَهُ، قَالَ: ثُمَّ جَعَلُوا يَشْوُونَ مِنْهُ، ثُمَّ قَالُوا: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَظْهُرِنَا، وَكَانَ تَقَدَّمَهُمْ، فَأَتَوْهُ، فَسَأَلُوهُ، فَلَمْ يَرَ بِهِ بَأْسًا" ، وَأَظُنُّهُ قَالَ: مَعَكُمْ مِنْهُ شَيْءٌ شَكَّ عُبَيْدُ اللَّهِ.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوقتادہ انصاری رضی اللہ عنہ کو زکاۃ وصول کرنے کے لیے بھیجا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب احرام باندھ کر روانہ ہو گئے، یہاں تک کہ انہوں نے ”عسفان“ میں موجود ”غزال“ نامی گھاٹی میں پڑاؤ کیا، وہاں ایک حمارِ وحشی (یعنی زیبرہ) موجود تھا۔ سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ آئے، انہوں نے اس وقت احرام نہیں باندھا ہوا تھا، دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس بات کو ناپسند کرتے ہوئے اپنے سر جھکا لیے کہ کہیں ان کی نگاہوں کا پیچھا کرتے ہوئے سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کو (اس شکار کے بارے میں) پتا نہ چل جائے، سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے بھی (اس شکار کو) دیکھ لیا، وہ اپنے گھوڑے پر سوار ہوئے، انہوں نے نیزہ پکڑا، ان کی سوٹی نیچے گر گئی تو انہوں نے کہا: یہ مجھے پکڑا دیں، تو ہم نے کہا: ہم اس بارے میں کسی بھی حوالے سے آپ کی مدد نہیں کریں گے، تو سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے اس پر حملہ کر کے اسے مار گرایا۔ راوی بیان کرتے ہیں: پھر انہوں نے اس کا کچھ گوشت بھون لیا، انہوں نے یہ کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان موجود ہیں، (راوی کہتے ہیں) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت آگے تشریف لے جا چکے تھے، وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، آپ سے اس بارے میں دریافت کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں کوئی حرج نہیں سمجھا، (راوی کہتے ہیں) میرا خیال ہے روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے پاس اس میں سے (کچھ گوشت) ہے؟“ یہ شک عبیداللہ نامی راوی کو ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3976]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3976، والطحاوي فى (شرح معاني الآثار) برقم: 3810، والطبراني فى (الأوسط) برقم: 4542» «رقم طبعة با وزير 3965»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (1623).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 3976 in Urdu
عياض بن عبد الله العامري ← أبو سعيد الخدري