صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
23. - ذكر الخبر الدال على أن هذا الزجر إنما زجر إذا ركن أحدهما إلى صاحبه وهو العلة التي ذكرناها
- ذکر اس خبر کا جو اس بات کی دلیل ہے کہ یہ ممانعت اس وقت ہے جب ایک شخص دوسرے پر بھروسہ کرے اور یہی وہ وجہ ہے جو ہم نے ذکر کی
حدیث نمبر: 4049
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ مَوْلَى الأَسْوَدِ بْنِ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ ، أَنَّ أَبَا عَمْرِو بْنَ حَفْصٍ طَلَّقَهَا الْبَتَّةَ، وَهُوَ غَائِبٌ بِالشَّامِ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا وَكِيلَهُ بِشَعِيرٍ، فَسَخِطَتْهُ، فَقَالَ: وَاللَّهِ مَا لَكَ عَلَيْنَا مِنْ شَيْءٍ، فَجَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: " لَيْسَ لَكِ عَلَيْهِ نَفَقَةٌ"، وَأَمَرَهَا أَنْ تَعْتَدَّ فِي بَيْتِ أُمِّ شَرِيكٍ، ثُمَّ قَالَ:" تِلْكَ امْرَأَةٌ يَغْشَاهَا أَصْحَابِي، فَاعْتَدِّي عِنْدَ أُمِّ مَكْتُومٍ، فَإِنَّهُ رَجُلٌ أَعْمَى، فَإِذَا حَلَلْتِ فَآذِنِينِي"، قَالَتْ: فَلَمَّا حَلَلْتُ ذَكَرْتُ لَهُ أَنَّ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ، وَأَبَا جَهْمٍ خَطَبَانِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَا أَبُو جَهْمٍ فَلا يَضَعُ عَصَاهُ عَنْ عَاتِقِهِ، وَأَمَّا مُعَاوِيَةُ فَصُعْلُوكٌ لا مَالُ لَهُ، انْكِحِي أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ"، قَالَتْ: فَكَرِهْتُهُ، ثُمَّ قَالَ:" انْكِحِي أُسَامَةَ" فَنَكَحْتُهُ، فَجَعَلَ اللَّهُ فِيهِ خَيْرًا، وَاغْتَبَطْتُ بِهِ .
سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: سیدنا ابوعمرو بن حفص رضی اللہ عنہ نے انہیں طلاق بتہ دے دی وہ اس وقت شام گئے ہوئے تھے انہوں نے اپنے وکیل کو کچھ ”جو“ دے کر اس خاتون کے پاس بھیجا اس خاتون نے اس وکیل پر ناراضگی کا اظہار کیا، اس وکیل نے کہا: اللہ کی قسم! تمہیں دینے کیلئے ہمارے ذمے اس کے علاوہ کوئی اور چیز لازم نہیں ہے۔ وہ خاتون نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور آپ کے سامنے اس مسئلے کا ذکر کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں خرچ دینا اس پر لازم نہیں ہے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون کو ہدایت کی کہ وہ سیدہ ام شریک رضی اللہ عنہا کے ہاں عدت بسر کرے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ ایک ایسی خاتون ہے جس کے ہاں میرے اصحاب آتے جاتے رہتے ہیں تم ابن ام مکتوم کے ہاں عدت بسر کرو کیونکہ وہ ایک نابینا شخص ہے، جب تمہاری عدت ختم ہو جائے گی، تو تم مجھے اطلاع دے دینا۔ سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: جب میری عدت ختم ہوئی تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا کہ معاویہ بن ابوسفیان اور ابوجہم نے مجھے نکاح کا پیغام بھجوایا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جہاں تک ابوجہم کا تعلق ہے تو وہ اپنے کندھے سے لاٹھی کو رکھتا نہیں ہے جہاں تک معاویہ کا تعلق ہے تو وہ نادار آدمی ہے اس کے پاس مال نہیں ہے تم اسامہ بن زید کے ساتھ نکاح کر لو۔ سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، مجھے وہ پسند نہیں تھے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم اسامہ کے ساتھ شادی کر لو، تو میں نے ان کے ساتھ شادی کر لی۔ اللہ تعالیٰ نے اس شادی میں اتنی بھلائی رکھی کہ مجھ پر رشک کیا جاتا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4049]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 4038»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (6/ 208 / 1804): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
الرواة الحديث:
أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← فاطمة بنت قيس الفهرية