صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
151. - باب معاشرة الزوجين - ذكر الزجر عن ضرب النساء إلا عند الحاجة إلى أدبهن ضربا غير مبرح
میاں بیوی کی باہمی معاشرت کا بیان - اس بات سے منع کرنے کا ذکر کہ عورتوں کو مارا جائے سوائے اس وقت جب ان کی تأدیب کی ضرورت ہو، وہ بھی غیر شدید مار کے ساتھ
حدیث نمبر: 4189
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا تَضْرِبُوا إِمَاءَ اللَّهِ"، قَالَ: فَذَئِرَ النِّسَاءُ، وَسَاءَتْ أَخْلاقُهُنَّ عَلَى أَزْوَاجِهِنَّ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: ذَئِرَ النِّسَاءُ، وَسَاءَتْ أَخْلاقُهُنَّ عَلَى أَزْوَاجِهِنَّ مُنْذُ نَهَيْتَ عَنْ ضَرْبِهِنَّ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَاضْرِبُوا" فَضَرَبَ النَّاسُ نِسَاءَهُمْ تِلْكَ اللَّيْلَةَ، فَأَتَى نِسَاءٌ كَثِيرٌ يَشْتَكِينَ الضَّرْبَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حِينَ أَصْبَحَ:" لَقَدْ طَافَ بِآلِ مُحَمَّدٍ اللَّيْلَةَ سَبْعُونَ امْرَأَةً كُلُّهُنَّ يَشْتَكِينَ الضَّرْبَ وَايْمُ اللَّهِ لا تَجِدُونَ أُولَئِكَ خِيَارُكُمْ" .
سیدنا ایاس بن ابو ذباب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” «لَا تَضْرِبُوا إِمَاءَ اللَّهِ» ”اللہ کی کنیزوں (یعنی اپنی بیویوں کو) نہ مارو۔““ راوی کہتے ہیں: اس پر عورتیں شیر ہو گئیں اور اپنے شوہروں کے حوالے سے ان کے اخلاق خراب ہو گئے، تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عرض کی: عورتیں شیر ہو گئیں اور اپنے شوہروں کے ساتھ ان کے اخلاق خراب ہو گئے ہیں جب سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی پٹائی کرنے سے منع کیا ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” «فَاضْرِبُوهُنَّ» ”تم ان کی پٹائی کر دیا کرو۔““ لوگوں نے اس رات اپنی بیویوں کی اتنی پٹائی کی کہ اگلے دن پٹائی کی شکایت لے کر بہت سی خواتین نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گئیں، تب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت یہ ارشاد فرمایا: ”گزشتہ رات محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر پر بہت سی خواتین آئیں، ان سب نے یہی شکایت کی کہ ان کی پٹائی ہوئی ہے، اللہ کی قسم! «لَيْسَ أُولَئِكَ بِخِيَارِكُمْ» ”تم ان لوگوں کو اپنے میں سے بہترین نہیں پاؤ گے“ (جو اپنی بیویوں کی پٹائی کرتے ہیں)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4189]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4189، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2781، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2146، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2265، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1985، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 14893» «رقم طبعة با وزير 4177»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «المشكاة» (3261 / التحقيق الثاني)، «صحيح أبي داود» (1863).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 4189 in Urdu
عبد الله بن عبد الله العدوي ← إياس بن عبد الله الدوسي