🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
150. - باب معاشرة الزوجين - ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن هذا الخبر تفرد به الزهري
میاں بیوی کی باہمی معاشرت کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس دعوے کو رد کرتا ہے کہ یہ خبر زہری نے منفرد طور پر روایت کی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4188
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ الشَّيْبَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، عَنْ سِمَاكٍ أَبِي زُمَيْلٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ، قَالَ: لَمَّا اعْتَزَلَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَاءَهُ دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ، وَالنَّاسُ يَنْكُتُونَ بِالْحَصَى، وَيَقُولُونَ: طَلَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَاءَهُ، وَذَلِكَ قَبْلُ أَنْ يُؤْمَرْنَ بِالْحِجَابِ، فَقَالَ عُمَرُ: لأَعْلَمَنَّ ذَلِكَ الْيَوْمَ، فَدَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ، فَقُلْتُ: يَا بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ، لَقَدْ بَلَغَ مِنْ شَأْنِكِ أَنْ تُؤْذِيَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، قَالَتْ: مَالِي وَمَالَكَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ، عَلَيْكَ بِعَيْبَتِكَ، فَدَخَلْتُ عَلَى حَفْصَةَ بِنْتِ عُمَرَ فَقُلْتُ لَهَا: يَا حَفْصَةُ لَقَدْ بَلَغَ مِنْ شَأْنُكِ أَنْ تُؤْذِيَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، وَلَقَدْ عَلِمْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لا يُحِبُّكِ، وَلَوْلا أَنَا لَطَلَّقَكِ، فَبَكَتْ أَشَدَّ الْبُكَاءِ، فَقُلْتُ: أَيْنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، قَالَتْ: هُوَ فِي خِزَانَتِهِ فِي الْمَشْرُبَةِ، فَدَخَلْتُ فَإِذَا أَنَا بِرَبَاحٍ غُلامٍ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاعِدٍ عَلَى أُسْكُفَّةِ الْمَشْرُبَةِ مُدَلٍّ رِجْلَيْهِ عَلَى نَقِيرٍ مِنْ خَشَبٍ، وَهُوَ جِذْعٌ يَرْقَى عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيَنْحَدِرُ، فَنَادَيْتُ: يَا رَبَاحُ اسْتَأْذِنْ لِي عِنْدَكَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَظَرَ إِلَى الْغُرْفَةِ، ثُمَّ نَظَرَ إِلَيَّ فَلَمْ يَقُلْ شَيْئًا، فَقُلْتُ: يَا رَبَاحُ اسْتَأْذِنْ لِي عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِنِّي أَظُنُّ أَنَّ رَسُولَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ظَنَّ أَنِّي جِئْتُ مِنْ أَجْلِ حَفْصَةَ، وَاللَّهِ لَئِنْ أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِضَرْبِ عُنُقِهَا لأَضْرِبَنَّ عُنُقَهَا، وَرَفَعْتُ صَوْتِي، فَأَوْمَأَ إِلَيَّ بِيَدِهِ، فَدَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُضْطَجِعٌ عَلَى حَصِيرٍ، قَالَ: فَجَلَسْتُ فَإِذَا عَلَيْهِ إِزَارٌ لَيْسَ عَلَيْهِ غَيْرُهُ، وَإِذَا الْحَصِيرُ قَدْ أَثَّرَ فِي جَنْبِهِ، فَنَظَرْتُ بِبَصَرِي فِي خِزَانَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا بِقَبْضَةٍ مِنْ شَعِيرٍ نَحْوَ الصَّاعِ، وَمِثْلُهَا قُرْظٌ فِي نَاحِيَةِ الْغُرْفَةِ، وَإِذَا أَفِيقٌ، قَالَ أَبُو حَفْصٍ: الأَفِيقُ: الإِهَابُ الَّذِي قَدْ ذَهَبَ شَعْرُهُ وَلَمْ يُدْبَغْ، فَابْتَدَرَتْ عَيْنَايَ، فَقَالَ:" مَا يُبْكِيكَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ؟"، قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، وَمَا لِي لا أَبْكِي وَهَذَا الْحَصِيرُ قَدْ أَثَّرَ فِي جَنْبِكَ وَهَذِهِ خِزَانَتُكَ، وَلا أَرَى فِيهَا إِلا مَا أَرَى، وَذَلِكَ قَيْصَرُ، وَكِسْرَى فِي الثِّمَارِ وَالأَنْهَارِ، وَأَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ وَصَفْوَتُهُ، وَهَذِهِ خِزَانَتُكَ، قَالَ:" يَا ابْنَ الْخَطَّابِ أَلا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ لَنَا الآخِرَةُ وَلَهُمُ الدُّنْيَا؟"، قُلْتُ: بَلَى، فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ وَأَنَا أَرَى فِي وَجْهِهِ الْغَضَبَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا يَشُقُّ عَلَيْكَ مِنْ شَأْنِ النِّسَاءِ؟ فَإِنْ كُنْتَ طَلَّقْتَهُنَّ، فَإِنَّ اللَّهَ، وَمَلائِكَتَهُ، وَجِبْرِيلَ، وَمِيكَائِيلَ، وَأَنَا، وَأَبُو بَكْرٍ مَعَكَ، وَقَلَّمَا تَكَلَّمْتُ وَأَحْمَدُ اللَّهَ بِكَلامٍ إِلا رَجَوْتُ أَنْ يَكُونَ اللَّهُ يُصَدِّقُ قُولِي، وَأُنْزِلَتْ هَذِهِ الآيَةُ آيَةُ التَّخْيِيرِ عَسَى رَبُّهُ إِنْ طَلَّقَكُنَّ أَنْ يُبْدِلَهُ أَزْوَاجًا خَيْرًا مِنْكُنَّ سورة التحريم آية 5، وَإِنْ تَظَاهَرَا عَلَيْهِ فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ مَوْلاهُ سورة التحريم آية 4، وَكَانَتْ عَائِشَةُ، وَحَفْصَةُ تُظَاهِرَانِ عَلَى سَائِرِ نِسَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَطَلَّقْتَهُنَّ؟، قَالَ:" لا"، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَأَنْزِلُ فَأُخْبِرُهُنَّ أَنَّكَ لَمْ تُطَلِّقْهُنَّ؟، قَالَ:" نَعَمْ إِنَّ شِئْتَ"، فَلَمْ أَزَلْ أُحَدِّثُهُ حَتَّى تَحَسَّرَ الْغَضَبُ عَنْ وَجْهِهِ، وَحَتَّى كَشَّرَ فَضَحِكَ، وَكَانَ مِنْ أَحْسَنِ النَّاسِ ثَغْرًا، فَنَزَلَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَنَزَلْتُ أَتَشَبَّثُ بِالْجَذَعِ، وَنَزَلَ كَمَا يَمْشِي عَلَى الأَرْضِ مَا يَمَسُّهُ بِيَدِهِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كُنْتَ فِي الْغُرْفَةِ تِسْعًا وَعِشْرِينَ، فَقُمْتُ عَلَى بَابِ الْمَسْجِدِ فَنَادَيْتُ بِأَعْلَى صَوْتِي: لَمْ يُطَلِّقِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَاءَهُ، وَنَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ وَإِذَا جَاءَهُمْ أَمْرٌ مِنَ الأَمْنِ أَوِ الْخَوْفِ أَذَاعُوا بِهِ سورة النساء آية 83 إِلَى قَوْلِهِ لَعَلِمَهُ الَّذِينَ يَسْتَنْبِطُونَهُ مِنْهُمْ سورة النساء آية 83، فَكُنْتُ أَنَا اسْتَنْبَطْتُ ذَلِكَ الأَمْرَ، وَأَنْزَلَ اللَّهُ آيَةَ التَّخْيِيرِ .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ بات بتائی کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج سے علیحدگی اختیار کی تو میں مسجد میں داخل ہوا وہاں لوگ کنکریوں کو کرید رہے تھے اور یہ کہہ رہے تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج کو طلاق دے دی ہے یہ حجاب کا حکم نازل ہونے سے پہلے کی بات ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں (میں نے سوچا) میں آج اس بارے میں ضرور معلومات حاصل کروں گا میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا میں نے کہا: اے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی صاحب زادی! اب آپ کا معاملہ یہاں تک پہنچ گیا ہے آپ اللہ اور اس کے رسول کو اذیت پہنچاتی ہیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے خطاب کے صاحب زادے! میرا اور آپ کا کیا واسطہ آپ اپنا گھر سنبھالیں پھر میں حفصہ بنت عمر کے پاس آیا میں نے کہا: اے حفصہ اب تمہارا معاملہ یہاں تک پہنچ گیا ہے تم اللہ اور اس کے رسول کو اذیت پہنچاؤ مجھے یہ بات پتہ ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تم سے محبت نہیں ہے اور اگر میں نہ ہوتا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں طلاق دے دینی تھی اس پر حفصہ زور و شور سے رونے لگیں میں نے دریافت کیا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کہاں ہیں انہوں نے بتایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بالا خانے میں آرام فرما ہیں میں وہاں آیا تو وہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا غلام رباح موجود تھا وہ بالا خانے کی سیڑھیوں پر بیٹھا ہوا تھا اس نے تختے پر پاؤں پھیلائے ہوئے تھے جو کھجور کے تنوں سے بنا ہوا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس پر چڑھ کر اوپر تشریف لے جاتے تھے اور اس کے ذریعے نیچے تشریف لایا کرتے تھے میں نے اسے مخاطب کیا اے رباح! تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے میری حاضری کی اجازت مانگو اس نے بالا خانے کی طرف دیکھا پھر میری طرف دیکھا اور کوئی جواب نہیں دیا میں نے کہا: اے رباح تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے میری حاضری کی اجازت مانگو مجھے یہ لگتا ہے شاید نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ سمجھ رہے ہوں کہ میں حفصہ کی وجہ سے آیا ہوں حالانکہ اللہ کی قسم اگر اللہ کے رسول مجھے حکم دیں کہ میں اس کی گردن اڑا دوں تو میں اس کی گردن بھی اڑا دوں گا میں نے بلند آواز میں یہ بات کہی (اس لڑکے نے اوپر جا کر اجازت مانگی) اور پھر میری طرف اشارہ کیا تو میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت چٹائی پر لیٹے ہوئے تھے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں وہاں بیٹھ گیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف تہبند باندھا ہوا تھا اس کے علاوہ کوئی اور چیز آپ کے جسم پر نہیں تھی اور آپ کے پہلو پر چٹائی کا نشان موجود تھا جب میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کمرے کا جائزہ لیا تو وہاں تقریباً ایک صاع جو موجود تھے اور ایک صاع کے قریب درخت کے پتے تھے اور وہاں افیق موجود تھی۔ ابوحفص نامی راوی کہتے ہیں: افیق سے مراد وہ کھال ہے، جس کے بال اتار دیئے گئے ہوں لیکن ابھی اس کی دباغت نہ کی گئی ہو۔ (سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں) میری آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: اے خطاب کے صاحب زادے ا تم کیوں رو رہے ہو میں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی میں کیوں نہ روؤں اس چٹائی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو پر نشان ڈال دیا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس کمرے میں مجھے وہ چیزیں جو نظر آ رہی ہیں حالانکہ قیصر اور کسریٰ پھلوں اور نہروں کے اندر (یعنی نعمتوں کے اندر) رہ رہے ہیں جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول اور اس کے محبوب ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساز و سامان اتنا سا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے خطاب کے صاحب زادے کیا تم اس بات سے راضی نہیں ہو کہ ہمارے لیے آخرت ہو اور ان کے لیے دنیا ہو۔ میں نے عرض کی: جی ہاں (سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں) جب میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر غصے کے آثار دیکھے میں نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ ان خواتین کے حوالے سے پریشان نہ ہوں کیونکہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں طلاق دے دیتے ہیں تو اللہ تعالیٰ اس کے فرشتے جبرائیل، میکائیل اور میں اور ابوبکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہیں۔ (سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں) کئی مرتبہ ایسا ہوا کہ میں نے اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرتے ہوئے کوئی کلام کیا اور میں نے یہ امید رکھی کہ اللہ تعالیٰ اس بات کی تصدیق کر دے گا تو اختیار دینے سے متعلق یہ آیت نازل ہوئی۔ اور اگر وہ (رسول) تم (یعنی ازواج مطہرات) کو طلاق دے دیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو ایسی بیویاں دیدے گا جو تم سے بہتر ہوں گی۔ (ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:) اور اگر وہ دونوں (اس رسول) پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کرتی ہیں تو بے شک اللہ اس کا مددگار ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دیگر تمام ازواج کے حوالے سے دباؤ ڈالنا چاہتی تھیں۔ (سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں) میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ نے انہیں طلاق دے دی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی نہیں۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں واپس جا کر ان لوگوں کو بتا دوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں طلاق نہیں دی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں اگر تم چاہو تو (بتا دو) اس کے بعد میں مسلسل نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بات چیت کرتا رہا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا غصہ ختم ہو گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر مزاج ٹھیک ہونے کے آثار نمودار ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہنسنے لگے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسکراہٹ بہت خوبصورت تھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بالا خانے سے نیچے تشریف لائے میں نے نیچے آتے ہوئے تنے کا سہارا لیا حالانکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح اترے تھے جس طرح ہم عام زمین پر چلتے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ کے ذریعے اسے چھوا بھی نہیں تھا میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ انتیس دن سے بالا خانے میں مقیم ہیں پھر میں مسجد کے دروازے پر کھڑا ہوا میں نے بلند آواز میں اعلان کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج کو طلاق نہیں دی ہے۔ تو اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ اور جب ان کے پاس امن یا خوف سے متعلق کوئی معاملہ آتا ہے تو وہ اسے پھیلا دیتے ہیں۔ یہ آیت یہاں تک ہے: تو وہ لوگ اس بارے میں جان لیتے ہیں جو ان میں سے استنباط کرتے ہیں۔ (سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں) تو میں وہ شخص ہوں جس نے اس معاملے میں استنباط کیا تو اللہ تعالیٰ نے اختیار دینے سے متعلق آیت نازل کر دی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4188]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 4176»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن الإسناد: م (4/ 188 - 190).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن على شرط مسلم

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عمر بن الخطاب العدوي، أبو حفصصحابي
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباس
Newعبد الله بن العباس القرشي ← عمر بن الخطاب العدوي
صحابي
👤←👥سماك بن الوليد الحنفي، أبو زميل
Newسماك بن الوليد الحنفي ← عبد الله بن العباس القرشي
صدوق حسن الحديث
👤←👥عكرمة بن عمار العجلي، أبو عمار
Newعكرمة بن عمار العجلي ← سماك بن الوليد الحنفي
صدوق يغلط
👤←👥عمر بن يونس الحنفي، أبو حفص
Newعمر بن يونس الحنفي ← عكرمة بن عمار العجلي
ثقة
👤←👥محمد بن المثنى العنزي، أبو موسى
Newمحمد بن المثنى العنزي ← عمر بن يونس الحنفي
ثقة ثبت
👤←👥الحسن بن سفيان الشيباني، أبو العباس
Newالحسن بن سفيان الشيباني ← محمد بن المثنى العنزي
ثقة