صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
32. باب النفقة - ذكر كتبة الله جل وعلا الأجر الجزيل للمرأة إذا أنفقت على زوجها وعيالها من مالها-
نفقہ کا بیان - اس بات کا ذکر کہ اللہ جل وعلا اس عورت کے لیے عظیم اجر لکھتا ہے جو اپنے مال سے اپنے شوہر اور اہل و عیال پر خرچ کرتی ہے
حدیث نمبر: 4247
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ أَبُو مُحَمَّدٍ الْخَصِيبُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ هِشَامَ بْنَ عُرْوَةَ ، حَدَّثَهُ عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنْ رَيْطَةَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ أُمِّ وَلَدِهِ، وَكَانَتِ امْرَأَةً صَنَاعًا وَلَيْسَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ مَالٌ، وَكَانَتْ تُنْفِقُ عَلَيْهِ وَعَلَى وَلَدِهِ مِنْ ثَمَرَةِ صَنْعَتِهَا. وَقَالَتْ: وَاللَّهِ لَقَدْ شَغَلْتَنِي أَنْتَ وَوَلَدُكَ عَنِ الصَّدَقَةِ، فَمَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَتَصَدَّقَ مَعَكُمْ. فَقَالَ: مَا أُحِبُّ إِِنْ لَمْ يَكُنْ لَكِ فِي ذَلِكَ أَجْرٌ أَنْ تَفْعَلِي، فَسَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ وَهِيَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِِنِّي امْرَأَةٌ وَلِيَ صَنْعَةٌ فَأَبِيعُ مِنْهَا، وَلَيْسَ لِي، وَلا لِزَوْجِي، وَلا لِوَلَدِي شَيْءٌ، وَشَغَلُونِي فَلا أَتَصَدَّقُ، فَهَلْ لِي فِي النَّفَقَةِ عَلَيْهِمْ مِنْ أَجْرٍ؟ فَقَالَ:" لَكِ فِي ذَلِكَ أَجْرٌ مَا أَنْفَقْتِ عَلَيْهِمْ، فَأَنْفِقِي عَلَيْهِمْ" .
عبیداللہ بن عبداللہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی ام ولد سیدہ ریطہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے نقل کرتے ہیں کہ وہ ایک کاریگر خاتون تھیں، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس مال نہیں تھا تو وہ خاتون سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ اور ان کی اولاد پر اپنے ہنر کی آمدن خرچ کیا کرتی تھیں۔ ایک مرتبہ انہوں نے یہ کہا: ”اللہ کی قسم! آپ نے اور آپ کے بچوں نے مجھے صدقہ کرنے کے قابل نہیں رہنے دیا، میں آپ کی موجودگی میں صدقہ کرنے کی استطاعت نہیں رکھتی۔“ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اگر اس میں اجر نہیں ہے، تو مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ تم ایسا کرو۔“ پھر سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور ان کی اہلیہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کیا، اس خاتون نے عرض کی: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں ایک عورت ہوں جسے ایک ہنر آتا ہے، میں اس کام کو فروخت کر دیتی ہوں، میرا، میرے شوہر اور میری اولاد کا کوئی اور ذریعہ آمدن نہیں ہے، ان لوگوں کی وجہ سے میں صدقہ نہیں کر پاتی، تو کیا ان پر خرچ کرنے کا مجھے اجر ملے گا؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ان پر جو خرچ کرتی ہو اس کا تمہیں اجر ملے گا، تم ان پر خرچ کرتی رہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرضاع/حدیث: 4247]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4247، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7854» «رقم طبعة با وزير 4233»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (3/ 390).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 4247 in Urdu
عبيد الله بن عبد الله الهذلي ← زينب بنت عبد الله الثقفية