صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
5. ذكر البيان بأن تخيير المرء امرأته بين فراقه أو الكون معه إذا اختارت نفسه لم يكن ذلك طلاقا-
- اس بات کا بیان کہ آدمی کا اپنی بیوی کو جدائی یا ساتھ رہنے کا اختیار دینا، اگر وہ خود کو چن لے تو یہ طلاق نہیں
حدیث نمبر: 4267
أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ بِحِرَّانَ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ . وَعَنْ إِِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " خَيَّرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاخْتَرْنَاهُ، فَهَلْ كَانَ ذَلِكَ طَلاقًا؟" .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اختیار دیا، تو ہم نے آپ کو اختیار کر لیا تو کیا یہ چیز طلاق شمار ہوئی تھی؟ [صحیح ابن حبان/كتاب الطلاق/حدیث: 4267]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 4253»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (1913)، «تخريج فقه السيرة» (449): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
الرواة الحديث:
مسروق بن الأجدع الهمداني ← عائشة بنت أبي بكر الصديق