🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
6. ذكر البيان بأن عائشة لما خيرها المصطفى صلى الله عليه وسلم اختارت الله جل وعلا وصفيه صلى الله عليه وسلم-
- اس بات کا بیان کہ جب عائشہ رضی اللہ عنہا کو مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے اختیار دیا تو انہوں نے اللہ جل وعلا اور اس کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو چنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4268
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: لَمْ أَزَلْ حَرِيصًا أَنْ أَسْأَلَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ عَنِ الْمَرْأَتَيْنِ اللَّتَيْنِ مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ اللَّهُ: إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا سورة التحريم آية 4، حَتَّى حَجَّ عُمَرُ فَحَجَجْتُ مَعَهُ، فَلَمَّا كَانَ فِي بَعْضِ الطَّرِيقِ عَدَلَ لِيَتَوَضَّأُ وَعَدَلْتُ مَعَهُ بِالإِِدَاوَةِ، فَتَبَرَّزَ ثُمَّ أَتَانِي، فَسَكَبْتُ عَلَى يَدَيْهِ فَتَوَضَّأَ، فَقُلْتُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، مَنِ الْمَرْأَتَانِ مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّتَانِ قَالَ اللَّهُ: إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا سورة التحريم آية 4؟ فَقَالَ عُمَرُ: وَاعَجَبًا لَكَ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ، ثُمَّ قَالَ: هِيَ عَائِشَةُ، وَحَفْصَةُ. ثُمَّ أَنْشَأَ يَسُوقُ الْحَدِيثَ، فَقَالَ: كُنَّا مَعْشَرُ قُرَيْشٍ قَوْمًا نَغْلِبُ النِّسَاءَ، فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ وَجَدْنَاهُمْ قَوْمًا تَغْلِبُهُمْ نِسَاؤُهُمْ، فَطَفِقَ نِسَاؤُنَا يَتَعَلَّمْنَ مِنْ نِسَائِهِمْ، وَكَانَ مَنْزِلِي فِي بَنِي أُمَيَّةَ بْنِ زَيْدٍ فِي الْعَوَالِي، قَالَ: فَتَغَضَّبْتُ يَوْمًا عَلَى امْرَأَتِي فَإِِذَا هِيَ تُرَاجِعْنِي، فَأَنْكَرْتُ أَنْ تُرَاجِعَنِي، فَقَالَتْ: مَا تُنْكِرُ أَنْ أُرَاجِعَكَ، فَوَاللَّهِ إِِنَّ أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَتُرَاجِعْنَهُ، وَتَهْجُرُهُ إِِحْدَاهُنَّ الْيَوْمَ إِِلَى اللَّيْلِ. قَالَ: فَانْطَلَقْتُ، فَدَخَلْتُ عَلَى حَفْصَةَ، فَقُلْتُ: أَتُرَاجِعِينَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، وَتَهْجُرُهُ إِِحْدَانَا الْيَوْمَ إِِلَى اللَّيْلِ. قَالَ: قَدْ قُلْتِ، قَدْ خَابَ مَنْ فَعَلَ ذَلِكَ مِنْكُنَّ وَخَسِرَ، أَفَتَأْمَنُ إِِحْدَاكُنَّ أَنْ يَغْضَبَ اللَّهُ عَلَيْهَا لِغَضَبِ رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِِذَا هِيَ قَدْ هَلَكَتْ، لا تُرَاجِعِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلا تَسْأَلِيهِ شَيْئًا، وَسَلِينِي مَا بَدَا لَكِ، وَلا يَغُرَّنَّكِ إِِنْ كَانَتْ جَارَتُكِ هِيَ أَوْسَمُ وَأَحَبُّ إِِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْكِ، يُرِيدُ عَائِشَةَ، قَالَ: وَكَانَ لِي جَارٌ مِنَ الأَنْصَارِ، وَكُنَّا نَتَنَاوَبُ النُّزُولَ إِِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَنْزِلُ يَوْمًا وأَنْزِلُ يَوْمًا، فَيَأْتِينِي بِخَبَرِ الْوَحْيِ وَغَيْرِهِ، وَأَنْزِلُ فَآتِيهِ بِمِثْلِ ذَلِكَ، وَكُنَّا نَتَحَدَّثُ أَنَّ غَسَّانَ تُنْعِلُ الْخَيْلَ لِتَغْزُوَنَا، قَالَ: فَنَزَلَ صَاحِبِي يَوْمًا ثُمَّ أَتَانِي، فَضَرَبَ عَلَى بَابِي، ثُمَّ نَادَانِي، فَخَرَجْتُ إِِلَيْهِ، فَقَالَ: حَدَثَ أَمْرٌ عَظِيمٌ. فَقُلْتُ: مَاذَا؟ أَجَاءَتْ غَسَّانُ؟ قَالَ: بَلْ أَعْظَمُ مِنْ ذَلِكَ وَأَطْوَلُ، طَلَّقَ رَسُولُ اللَّهِ نِسَاءَهُ. فَقُلْتُ: خَابَتْ حَفْصَةُ وَخَسِرَتْ، قَدْ كُنْتُ أَظُنُّ هَذَا كَائِنًا، فَلَمَّا صَلَّيْتُ الصُّبْحَ شَدَدْتُ عَلَيَّ ثِيَابِي، ثُمَّ نَزَلْتُ، فَدَخَلْتُ عَلَى حَفْصَةَ، فَإِِذَا هِيَ تَبْكِي، فَقُلْتُ: أَطَلَّقَكُنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: لا أَدْرِي، هُوَ ذَا هُوَ مُعْتَزِلٌ فِي هَذِهِ الْمَشْرُبَةِ. قَالَ: فَأَتَيْتُ غُلامًا لَهُ أَسْوَدَ، فَقُلْتُ: اسْتَأْذَنْ لِعُمَرَ فَدَخَلَ الْغُلامُ، ثُمَّ خَرَجَ إِِلَيَّ، وَقَالَ: قَدْ ذَكَرْتُكَ لَهُ فَلَمْ يَقُلْ شَيْئًا، فَانْطَلَقْتُ حَتَّى أَتَيْتُ الْمَسْجِدَ، فَإِِذَا قَوْمٌ حَوْلَ الْمِنْبَرِ جُلُوسٌ يَبْكِي بَعْضُهُمْ إِِلَى بَعْضٍ، قَالَ: فَجَلَسْتُ قَلِيلا، ثُمَّ غَلَبَنِي مَا أَجِدُ، فَأَتَيْتُ الْغُلامَ، فَقُلْتُ: اسْتَأْذَنْ لِعُمَرَ فَدَخَلَ، ثُمَّ خَرَجَ إِِلَيَّ، فَقَالَ: قَدْ ذَكَرْتُكَ لَهُ فَصَمَتَ، فَرَجَعْتُ فَجَلَسْتُ إِِلَى الْمِنْبَرِ، ثُمَّ غَلَبَنِي مَا أَجِدُ، فَأَتَيْتُ الْغُلامَ، فَقُلْتُ: اسْتَأْذَنْ لِعُمَرَ فَدَخَلَ ثُمَّ خَرَجَ إِِلَيَّ، فَقَالَ: قَدْ ذَكَرْتُكَ لَهُ فَسَكَتَ، فَوَلَّيْتُ مُدْبِرًا، فَإِِذَا الْغُلامُ يَدْعُونِي، وَيَقُولُ: ادْخُلْ فَقَدْ أَذِنَ لَكَ، فَدَخَلْتُ فَسَلَّمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِِذَا هُوَ مُتَّكِئٌ عَلَى رَمْلِ حَصِيرٍ قَدْ أَثَّرَ بِجَنْبِهِ، فَقُلْتُ: أَطَلَّقْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ نِسَاءَكَ؟ قَالَ: فَرَفَعَ رَأْسَهُ إِِلَيَّ، وَقَالَ:" لا". فَقُلْتُ: اللَّهُ أَكْبَرُ، لَوْ رَأَيْتَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَكُنَّا مَعْشَرُ قُرَيْشٍ قَوْمًا نَغْلِبُ النِّسَاءَ، فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ وَجَدْنَا قَوْمًا تَغْلِبُهُمْ نِسَاؤُهُمْ، فَطَفِقَ نِسَاؤُنَا يَتَعَلَّمْنَ مِنْ نِسَائِهِمْ، فَتَغَضَّبْتُ عَلَى امْرَأَتِي يَوْمًا، فَإِِذَا هِيَ تُرَاجِعَنِي فَأَنْكَرْتُ ذَلِكَ عَلَيْهَا، فَقَالَتْ: أَتُنْكِرُ أَنْ أُرَاجِعَكَ، فَوَاللَّهِ إِِنَّ أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيُرَاجِعْنَهُ، وَتَهْجُرُهُ إِِحْدَاهُنَّ الْيَوْمَ إِِلَى اللَّيْلِ. قَالَ: فَقُلْتُ: قَدْ خَابَ مَنْ فَعَلَ ذَلِكَ مِنْهُنَّ وَخَسِرَتْ، أَتَأْمَنُ إِِحْدَاهُنَّ أَنْ يَغْضَبَ اللَّهُ عَلَيْهَا لِغَضَبِ رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِِذَا هِيَ قَدْ هَلَكَتْ. قَالَ: فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَدَخَلْتُ عَلَى حَفْصَةَ، فَقُلْتُ لَهَا: لا تُرَاجِعِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلا تَسْأَلِيهِ شَيْئًا، وَسَلِينِي مَا بَدَا لَكَ، وَلا يَغُرَّنَّكِ أَنْ كَانَتْ جَارَتُكِ هِيَ أَوْسَمُ وَأَحَبُّ إِِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْكِ. قَالَ: فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُخْرَى، فَقُلْتُ: أَسْتَأْنِسُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" نَعَمْ". فَجَلَسْتُ، فَرَفَعْتُ رَأْسِي فِي الْبَيْتِ، فَوَاللَّهِ مَا رَأَيْتُ فِيهِ شَيْئًا يَرُدُّ الْبَصَرَ إِِلا أُهُبًا ثَلاثَةً، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يُوَسِّعَ عَلَى أُمَّتِكَ، فَقَدْ وَسَّعَ اللَّهُ عَلَى فَارِسَ وَالرُّومِ وَهُمْ لا يَعْبُدُونَهُ. قَالَ: فَاسْتَوَى جَالِسًا، وَقَالَ:" أَفِي شَكٍّ أَنْتَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ، أُولَئِكَ قَوْمٌ عُجِّلَتْ لَهُمْ طَيِّبَاتُهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا". فَقُلْتُ: اسْتَغْفِرْ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَكَانَ أَقْسَمَ لا يَدْخُلُ عَلَيْهِنَّ شَهْرًا مِنْ شِدَّةِ مَوْجِدَتِهِ عَلَيْهِنَّ حَتَّى عَاتَبَهُ اللَّهُ" . قَالَ قَالَ الزُّهْرِيُّ ، فَأَخْبَرَنِي عُرْوَةُ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: فَلَمَّا مَضَى تِسْعٌ وَعِشْرُونَ، دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَدَأَ بِي، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِِنَّكَ أَقْسَمْتَ أَنْ لا تَدْخُلَ عَلَيْنَا شَهْرًا، وَإِِنَّكَ دَخَلْتَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ أَعُدُّهُنَّ. فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِِنَّ الشَّهْرَ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ"، ثُمَّ قَالَ:" يَا عَائِشَةُ، إِِنِّي ذَاكِرٌ لَكِ أَمْرًا، فَلا أُرِيدُ أَنْ تَعْجَلِي فِيهِ حَتَّى تَسْتَأْمِرِي أَبَوَيْكِ"، قَالَتْ: ثُمَّ قَرَأَ عَلَيَّ الآيَةَ: يَأَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لأَزْوَاجِكَ إِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا فَتَعَالَيْنَ أُمَتِّعْكُنَّ وَأُسَرِّحْكُنَّ سَرَاحًا جَمِيلا وَإِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الآخِرَةَ فَإِنَّ اللَّهَ أَعَدَّ لِلْمُحْسِنَاتِ مِنْكُنَّ أَجْرًا عَظِيمًا سورة الأحزاب آية 28 - 29، قَالَتْ عَائِشَةُ: قَدْ عَلِمَ وَاللَّهِ أَنَّ أَبَوَيَّ لَمْ يَكُونَا يَأْمُرَانِي بِفِرَاقِهِ، فَقُلْتُ: أَفِي هَذَا أَسْتَأْمِرُ أَبَوَيَّ؟ فَإِِنِّي أُرِيدُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الآخِرَةَ .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں ایک طویل عرصے سے اس بات کا خواہش مند تھا کہ میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ان دو خواتین کے بارے میں دریافت کروں جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج سے تعلق رکھتی ہیں، جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے۔ اگر تم دونوں اللہ کی بارگاہ میں، توبہ کر لو (تو یہ مناسب ہو گا) کیونکہ تم دونوں کے دل مائل ہو گئے تھے۔ (سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں) یہاں تک کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ حج کے لیے گئے ان کے ہمراہ میں بھی حج کے لیے گیا راستے میں کسی جگہ پر وہ ایک طرف ہٹ گئے (انہوں نے قضائے حاجت کی) پھر وہ وضو کرنے لگے میں بھی ان کے ہمراہ ایک برتن لے کر ہٹ گیا تھا انہوں نے قضائے حاجت کی پھر وہ میرے پاس آئے میں نے ان کے دونوں ہاتھوں پر پانی انڈیلا انہوں نے وضو کیا میں نے کہا: اے امیر المؤمنین! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج سے تعلق رکھنے والی وہ دو خواتین کون سی تھیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے۔ اگر تم دونوں اللہ کی بارگاہ میں، توبہ کر لو (تو یہ مناسب ہو گا) کیونکہ تم دونوں کے دل مائل ہو گئے تھے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے ابن عباس تم پر حیرت ہے (کہ تم نے پہلے اس بارے میں سوال کیوں نہیں کیا) پھر انہوں نے بتایا: وہ عائشہ اور حفصہ تھیں اس کے بعد انہوں نے پورا واقعہ بیان کیا۔ انہوں نے بتایا: ہم قریش کے لوگ اپنی بیویوں پر غالب تھے جب ہم مدینہ آئے تو ہمیں ایسے لوگوں سے واسطہ پڑا جن کی عورتیں ان پر غالب تھیں ہماری خواتین نے ان سے طریقہ سیکھنا شروع کر دیا میری رہائش نواحی علاقے میں بنوامیہ بن زید کے محلے میں تھی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک دن میں نے اپنی بیوی پر غصے کا اظہار کیا، تو اس نے مجھے پلٹ کر جواب دیا: میں اس کے پلٹ کر جواب دینے پر بہت حیران ہوا تو اس نے کہا: آپ اس بات پر اعتراض کر رہے ہیں کہ میں آپ کو جواب دے رہی ہوں حالانکہ اللہ کی قسم! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جواب دے دیتی ہیں اور ان میں سے ایک تو صبح سے لے کر شام تک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے لاتعلق (یا ناراض) رہتی ہیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں وہاں سے روانہ ہوا اور حفصہ کے پاس آیا میں نے کہا: کیا تم پلٹ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جواب دیتی ہو انہوں نے جواب دیا: جی ہاں اور ہم میں سے ایک تو صبح سے لے کر شام تک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے لاتعلق رہتی ہے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تم یہ بات کہہ رہی ہو تم میں سے جو بھی ایسا کرتی ہے وہ رسواء ہو جائے گی اور خسارے کا شکار ہو جائے گی؟ کیا تمہیں اس بات سے ڈر نہیں لگتا کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول کی ناراضگی کی وجہ سے اس پر ناراض ہو جائے گا اور اس صورت میں وہ ہلاکت کا شکار ہو جائے گی تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پلٹ کر جواب نہ دیا کرو اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی چیز کا مطالبہ نہ کیا کرو تمہاری جو ضرورت ہو مجھے کہہ دیا کرو اور یہ چیز تمہیں غلط فہمی کا شکار نہ کرے کہ تمہاری پڑوسن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک زیادہ خوب صورت اور زیادہ محبوب ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی مراد سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا تھیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میرا ایک انصاری پڑوسی تھا ہم لوگ باری باری نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا کرتے تھے ایک دن وہ چلا جاتا تھا ایک دن میں آ جایا کرتا تھا ایک مرتبہ وہ وحی یا اس سے متعلق دیگر کسی چیز کی اطلاع لے آتا تھا جب میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آتا تھا تو اس طرح اطلاع میں بھی لے آتا تھا (اور اسے بتا دیتا تھا) ان دنوں ہم یہ بات چیت کر رہے تھے کہ غسان قبیلے کے لوگ ہمارے ساتھ لڑائی کی تیاریاں کر رہے ہیں ایک دن میرا ساتھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا پھر وہ میرے پاس آیا اس نے میرے دروازے کو کھٹکھٹایا اور مجھے آواز دی میں نکل کر اس کے پاس آیا تو اس نے کہا: ایک عظیم واقعہ رونما ہو گیا ہے میں نے دریافت کیا: کیا ہوا ہے کیا غسان قبیلے کے لوگ آ گئے ہیں اس نے کہا: نہیں اس سے زیادہ بڑا اور زیادہ لمبا واقعہ ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج کو طلاق دے دی ہے تو میں نے کہا: حفصہ رسوا ہو گئی اور خسارے کا شکار ہو گئی مجھے اندازہ تھا کہ یہ ہو کے رہے گا۔ (سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں) جب میں نے صبح کی نماز ادا کی تو میں نے چادر لپیٹی اور (مدینہ منورہ کی طرف آ گیا) میں حفصہ کے پاس آیا وہ رو رہی تھی میں نے دریافت کیا: اللہ کے رسول نے تم لوگوں کو طلاق دے دی ہے؟ اس نے جواب دیا: مجھے نہیں معلوم وہ وہاں ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس بالا خانے میں علیحدہ رہ رہے ہیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سیاہ فام غلام کے پاس آیا میں نے کہا: تم عمر کے لیے اندر آنے کی اجازت مانگو وہ لڑکا اندر گیا پھر وہ نکل کر باہر آیا اور بولا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آپ کا تذکرہ کیا ہے لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ ارشاد نہیں فرمایا۔ (سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں) میں وہاں سے چلا اور مسجد میں آ گیا اور وہاں منبر کے قریب کچھ لوگ بیٹھے ہوئے تھے اور رو رہے تھے میں ان کے پاس تھوڑی دیر بیٹھا رہا پھر میری پریشانی مجھ پر غالب آ گئی میں اس لڑکے کے پاس آیا میں نے کہا: تم عمر کے لیے اجازت مانگو وہ اندر گیا پھر نکل کر باہر آیا اور بولا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آپ کا ذکر کیا تھا، لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے (سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں) میں وہاں سے واپس آیا اور منبر کے پاس بیٹھ گیا پھر میری پریشانی مجھ پر غالب آ گئی میں اس لڑکے کے پاس آیا اور میں نے کہا: تم عمر کے لیے اندر آنے کی اجازت مانگو وہ اندر گیا پھر وہ نکل کر باہر آیا اور بولا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آپ کا ذکر کیا، لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے۔ (سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں) میں مڑ کر واپس آیا اسی دوران اس لڑکے نے مجھے بلایا اور بولا: آپ اندر تشریف لے جائیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو اجازت دے دی ہے۔ (سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں) میں اندر داخل ہوا تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت چٹائی پر ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے جس کا نشان آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو پر موجود تھا میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج کو طلاق دے دی ہے؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھا کر میری طرف دیکھا اور فرمایا: جی نہیں، تو میں نے اللہ اکبر کہا: (میں نے عرض کی) یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے یہ بات ملاحظہ فرمائی ہے ہم قریش کے لوگ ایسے لوگ تھے جو اپنی بیویوں پرغالب تھے جب ہم مدینہ آئے تو ہم نے وہاں ایسے لوگوں کو پایا جن کی عورتیں ان پر غالب تھیں ہماری خواتین نے ان کی خواتین سے طریقہ سیکھنا شروع کر دیا ایک دن میں اپنی بیوی پر غضب ناک ہوا تو اس نے مجھے پلٹ کر جواب دیا: میں نے اس کی اس بات پر حیرانگی کا اظہار کیا تو اس نے کہا: آپ اس بات پر حیرانگی کا اظہار کر رہے ہیں کہ میں نے آپ کو پلٹ کر جواب دیا ہے: اللہ کی قسم! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جواب دے دیتی ہیں اور ان میں سے کوئی ایک صبح سے لے کر شام تک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے لا تعلق (یا ناراض) رہتی ہے تو میں نے کہا: ان میں سے جو ایسا کرتی ہے وہ رسوا ہو جائے گی اور خسارے کا شکار ہو جائے گی کیا اسے اس بات کا ڈر نہیں ہے، اللہ تعالیٰ اپنے رسول کی ناراضگی کی وجہ سے جو اس سے ناراض ہو جائے گا اس صورت میں وہ ہلاکت کا شکار ہو جائے گی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دئیے میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں حفصہ کے پاس گیا میں نے اس سے کہا: تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو آگے سے جواب نہ دیا کرو اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی چیز کا مطالبہ نہ کیا کرو۔ تمہیں جو چاہئیے ہو مجھ سے کہہ دیا کرو، اور یہ چیز تمہیں غلط فہمی کا شکار نہ کر دے کہ تمہاری پڑوسن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک تمہارے مقابلے میں زیادہ خوب صورت اور محبوب ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دوسری مرتبہ مسکرا دیئے۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا میں ٹھہر جاؤں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں تو میں بیٹھ گیا میں نے اپنا سر اٹھا کر گھر کا جائزہ لیا اللہ کی قسم! میری نگاہ صرف تین کھالوں پر پڑی میں نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کو کشادگی عطا کرے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اہل فارس اور اہل روم کو کشادگی عطا کی ہے حالانکہ وہ لوگ اللہ تعالیٰ کی عبادت بھی نہیں کرتے ہیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدھے ہو کر بیٹھ گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے خطاب کے صاحبزادے! کیا تمہیں شک ہے یہ وہ لوگ ہیں، جنہیں ان کی نعمتیں دنیاوی زندگی میں پہلے دے دی گئی ہیں میں نے عرض کی: یا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم آپ میرے لیے دعائے مغفرت کیجئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ قسم اٹھائی تھی کہ آپ اپنی ازواج کے پاس ایک ماہ تک تشریف نہیں لے جائیں گے یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے شدید ناراضگی کی وجہ سے فرمایا: تھا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اس حوالے سے آپ کو تنبیہ کی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں۔ جب انتیس دن گزر گئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے پہلے مجھے شرف بخشا میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے تو یہ قسم اٹھائی تھی کہ آپ ایک ماہ تک ہمارے پاس تشریف نہیں لائیں گے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم انتیس دن کے بعد تشریف لے آئے ہیں میں نے ان کی گنتی کی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مہینہ کبھی انتیس دن کا بھی ہوتا ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے عائشہ! میں تمہارے سامنے ایک معاملے کا ذکر کرنے لگا ہوں میں یہ نہیں چاہتا کہ تم اس بارے میں جلد بازی کا مظاہرہ کرو جب تک تم اس بارے میں اپنے والدین سے مشورہ نہیں کر لیتی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سامنے یہ آیت تلاوت کی۔ اے نبی! تم اپنی ازواج سے کہہ دو کہ اگر تم لوگ دنیاوی زندگی اور اس کی زینت حاصل کرنا چاہتی ہو، تو آگے آؤ میں تمہیں مال و دولت دیتا ہوں اور مناسب طریقے سے رخصت کر دیتا ہوں اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول اور آخرت کے گھر کو چاہتی ہو، تو بے شک اللہ تعالیٰ نے تم میں سے نیکی کرنے والوں کے لیے عظیم اجر تیار کیا ہوا ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ بات جانتے تھے کہ اللہ کی قسم! میرے والدین مجھے کبھی بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے علیحدگی کی ہدایت نہیں کریں گے میں نے عرض کی: کیا میں اس معاملے میں اپنے والدین سے مشورہ کروں؟ بے شک میں اللہ تعالیٰ اس کے رسول اور آخرت کے گھر کو اختیار کرتی ہوں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطلاق/حدیث: 4268]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 4254»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «تخريج فقه السيرة» (449): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
Null

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله
Newعروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة فقيه مشهور
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← عروة بن الزبير الأسدي
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥عمر بن الخطاب العدوي، أبو حفص
Newعمر بن الخطاب العدوي ← محمد بن شهاب الزهري
صحابي
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباس
Newعبد الله بن العباس القرشي ← عمر بن الخطاب العدوي
صحابي
👤←👥عبيد الله بن عبد الله القرشي
Newعبيد الله بن عبد الله القرشي ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← عبيد الله بن عبد الله القرشي
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥معمر بن أبي عمرو الأزدي، أبو عروة
Newمعمر بن أبي عمرو الأزدي ← محمد بن شهاب الزهري
ثقة ثبت فاضل
👤←👥عبد الرزاق بن همام الحميري، أبو بكر
Newعبد الرزاق بن همام الحميري ← معمر بن أبي عمرو الأزدي
ثقة حافظ
👤←👥محمد بن المتوكل القرشي، أبو عبد الله
Newمحمد بن المتوكل القرشي ← عبد الرزاق بن همام الحميري
صدوق حسن الحديث
👤←👥محمد بن الحسن بن قتيبة اللخمي، أبو العباس
Newمحمد بن الحسن بن قتيبة اللخمي ← محمد بن المتوكل القرشي
ثقة