🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
19. باب اللعان - ذكر السبب الذي من أجله أنزل الله آية اللعان-
لعان کا بیان - اس وجہ کا ذکر جس کی بنا پر اللہ نے لعان کی آیت نازل کی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4283
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، أَنَّ رَجُلا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ رَجُلا رَأَى مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلا يَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُونَهُ، أَمْ كَيْفَ يَفْعَلُ بِهِ؟ فَأَنْزَلَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا مَا ذِكْرُ فِي الْقُرْآنِ مِنَ الْمُتَلاعِنِينَ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَدْ قُضِيَ فِيكَ، وَفِي امْرَأَتِكَ". قَالَ: فَتَلاعَنَا وَأَنَا شَاهِدٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِِنْ أَمْسِكُهَا فَقَدْ كَذَبْتُ عَلَيْهَا فَفَارَقَهَا، فَكَانَتْ سُنَّةٌ بَعْدُ أَنْ يُفَرَّقَ بَيْنَ الْمُتَلاعِنِينَ، فَكَانَتْ حَامِلا فَأَنْكَرَ حَمْلَهَا، وَكَانَ ابْنُهَا يُدْعَى إِِلَيْهَا، ثُمَّ جَرَتِ السُّنَّةُ فِي الْمِيرَاثِ أَنْ يَرِثَهَا وَتَرِثُ مِنْهُ مَا فَرَضَ اللَّهُ لَهَا .
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ایسے شخص کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کیا رائے ہے جو اپنی بیوی کے ساتھ کسی اور شخص کو پاتا ہے اور اسے مار دیتا ہے، تو کیا آپ لوگ (بدلے میں) اسے قتل کر دیں گے؟ ایسے شخص کو کیا کرنا چاہیے؟ (راوی کہتے ہیں) تو اللہ تعالیٰ نے قرآن میں وہ چیز ذکر فرمائی جو «لِعَان» کرنے والوں کے حوالے سے ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص سے فرمایا: تمہارے اور تمہاری بیوی کے بارے میں فیصلہ دے دیا گیا ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ پھر ان دونوں نے «لِعَان» کیا، میں اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا، اس شخص نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر اب بھی میں اس عورت کو اپنے ساتھ رکھتا ہوں، تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ میں نے اس پر جھوٹا الزام لگایا ہے، چنانچہ اس شخص نے اس عورت سے علیحدگی اختیار کر لی۔ (راوی کہتے ہیں) اس کے بعد یہ طریقہ (سنت) جاری ہو گیا کہ «لِعَان» کرنے والوں کے درمیان علیحدگی کروا دی جاتی ہے؛ وہ خاتون حاملہ تھیں اور اس شخص نے اس عورت کے حمل کا انکار کیا تھا، تو اس خاتون کے بچے کو اس کی ماں کی نسبت سے پکارا جاتا تھا، اس کے بعد میراث میں بھی یہ طریقہ جاری ہوا کہ وہ بچہ اس عورت کا وارث بنتا تھا اور وہ عورت اس بچے کی وارث بنتی تھی جو اللہ تعالیٰ نے اس کا حصہ مقرر کیا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطلاق/حدیث: 4283]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 423، 4745، 4746، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1492، وابن الجارود فى "المنتقى"، 797، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4283، 4284، 4285، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2245، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2066، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 1555، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 12616، وأحمد فى (مسنده) برقم: 23266» «رقم طبعة با وزير 4269»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (1949): خ.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده على شرطهما


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥سهل بن سعد الساعدي، أبو العباس، أبو يحيىصحابي
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← سهل بن سعد الساعدي
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥فليح بن سليمان الأسلمي، أبو يحيى
Newفليح بن سليمان الأسلمي ← محمد بن شهاب الزهري
صدوق كثير الخطأ
👤←👥سليمان بن داود العتكي، أبو الربيع
Newسليمان بن داود العتكي ← فليح بن سليمان الأسلمي
ثقة
👤←👥أبو يعلى الموصلي، أبو يعلى
Newأبو يعلى الموصلي ← سليمان بن داود العتكي
ثقة مأمون
Sahih Ibn Hibban Hadith 4283 in Urdu