الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
22. باب اللعان - ذكر وصف اللعان الذي يجب أن يكون بين من وصفنا نعتهما من الزوج والمرأة-
لعان کا بیان - لعان کی صفت کا ذکر جو ہمارے بیان کردہ نعت والے شوہر اور بیوی کے درمیان ہونا چاہیے
حدیث نمبر: 4286
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ ، يَقُولُ: سُئِلْتُ عَنِ الْمُتَلاعِنِينَ فِي إِِمْرَةِ مُصْعَبٍ، أَيُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا؟ فَمَا دَرَيْتُ مَا أَقُولُ فِيهِ، فَقُمْتُ مَكَانِي إِِلَى مَنْزِلِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ وَهُوَ قَائِلٌ، فَاسْتَأْذَنْتُهُ، فَقَالَ الْغُلامُ: إِِنَّهُ قَائِلٌ. فَقُلْتُ: مَا بُدَّ مِنْ أَنْ أَدْخُلَ عَلَيْهِ، فَسَمِعَ صَوْتِي فَعَرَفَهُ، وَقَالَ: أَسَعِيدٌ؟ قُلْتُ: نَعَمْ. قَالَ: ادْخُلْ، مَا جِئْتَ هَذِهِ السَّاعَةَ إِِلا لِحَاجَةٍ. فَدَخَلْتُ وَهُوَ مُفْتَرِشٌ بَرْذَعَةَ رَحْلِهِ مُتَوَسِّدٌ وِسَادَةً حَشْوهَا لِيفٌ، فَقُلْتُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، الْمُتَلاعِنَانِ، أَيُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا؟ فَقَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ، نَعَمْ، إِِنَّ أَوَّلَ مَنْ سَأَلَ عَنْ ذَلِكَ فُلانُ بْنُ فُلانٍ، أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ لَوْ أَنَّ أَحَدَنَا رَأَى امْرَأَتَهُ عَلَى فَاحِشَةٍ، كَيْفَ يَصْنَعُ؟ إِِنْ تَكَلَّمَ تَكَلَّمَ بِأَمْرٍ عَظِيمٍ، وَإِِنْ سَكَتَ سَكَتَ عَلَى مِثْلِ ذَلِكَ، فَلَمْ يُجِبْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا كَانَ بَعْدُ ذَلِكَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ: إِِنَّ الَّذِي سَأَلْتُكَ عَنْهُ قَدِ ابْتُلِيتُ بِهِ،" فَأَنْزَلَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا هَؤُلاءِ الآيَاتِ، فَدَعَا الرَّجُلَ، فَتَلاهُنَّ عَلَيْهِ وَوَعَظَهُ وَذَكَّرَهُ، وَأَخْبَرَهُ أَنَّ عَذَابَ الدُّنْيَا أَهْوَنُ مِنْ عَذَابِ الآخِرَةِ"، فَقَالَ: لا وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ، مَا كَذَبْتُ عَلَيْهَا. ثُمَّ دَعَا بِالْمَرْأَةِ فَوَعَظَهَا وَذَكَّرَهَا، وَأَخْبَرَهَا أَنَّ" عَذَابَ الدُّنْيَا أَهْوَنُ مِنْ عَذَابِ الآخِرَةِ"، فَقَالَتْ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ إِِنَّهُ لَكَاذِبٌ. فَبَدَأَ بِالرَّجُلِ، فَشَهِدَ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ بِاللَّهِ إِِنَّهُ لِمَنِ الصَّادِقِينَ، وَالْخَامِسَةُ أَنَّ لَعْنَةَ اللَّهِ عَلَيْهِ إِِنْ كَانَ مِنَ الْكَاذِبِينَ، ثُمَّ ثَنَّى بِالْمَرْأَةِ، فَشَهِدَتْ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ بِاللَّهِ إِِنَّهُ لِمَنِ الْكَاذِبِينَ، وَالْخَامِسَةُ أَنَّ غَضِبَ اللَّهِ عَلَيْهَا إِِنْ كَانَ مِنَ الصَّادِقِينَ، ثُمَّ فَرَّقَ بَيْنَهُمَا" .
سعید بن جبیر بیان کرتے ہیں: مجھ سے مصعب کی حکومت کے دور میں لعان کرنے والوں کے بارے میں یہ سوال کیا گیا کہ کیا ان کے درمیان علیحدگی کروا دی جائے گی تو مجھے یہ علم نہیں تھا کہ میں اس بارے میں کیا جواب دوں میں اپنی جگہ سے اٹھ کر سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے گھر آیا وہ اس وقت دوپہر کے وقت آرام کر رہے تھے میں نے اندر آنے کی اجازت مانگی تو غلام نے یہ کہا: وہ آرام کر رہے ہیں میں نے کہا: میرا اس وقت ان کی خدمت میں حاضر ہونا ضروری ہے۔ انہوں نے میری آواز سن کر مجھے پہچان لیا۔ انہوں نے دریافت کیا: کیا سعید ہے میں نے جواب دیا: جی ہاں۔ انہوں نے فرمایا: تم اندر آ جاؤ تم اس وقت کسی ضروری کام کے سلسلے میں ہیں آئے ہو گے میں اندر چلا گیا وہ اس وقت اپنے پالان کی چادر کو بچھائے ہوئے تھے اور انہوں نے تکیے کے ساتھ ٹیک لگائی ہوئی تھی جو کھجور کے پتوں سے بنا ہوا تھا میں نے کہا: اے ابوعبد الرحمن لعان کرنے والے دو فریقوں کے درمیان کیا علیحدگی کروا دی جائے گی۔ انہوں نے فرمایا: سبحان اللہ جی ہاں سب سے پہلے اس بارے میں فلاں بن فلاں نے دریافت کیا تھا: وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ہم میں سے کوئی ایک شخص اپنی بیوی کو زنا کرتے ہوئے دیکھتا ہے تو اسے کیا کرنا چاہئے اگر وہ اس بارے میں بات کرتا ہے تو وہ ایک بڑے معاملے کے بارے میں بات کرے گا اور اگر وہ خاموش رہتا ہے تو وہ بھی اس کی مانند (یعنی بڑے معاملے کے بارے میں) خاموش رہے گا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو کوئی جواب نہیں دیا اس کے بعد وہ شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جس چیز کے بارے میں دریافت کیا تھا: میں خود اس آزمائش میں مبتلا ہو گیا ہوں۔ (راوی کہتے ہیں) تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل کر دیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو بلوایا اور ان آیات کو اس کے سامنے تلاوت کیا اسے وعظ و نصیحت کی اسے ترغیب دی اور اسے یہ بتایا کہ دنیا کا عذاب آخرت کے عذاب کے مقابلے میں زیادہ آسان ہے اس شخص نے کہا: جی نہیں اس ذات کی قسم جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے میں نے اس عورت پر جھوٹا الزام نہیں لگایا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کو بلوایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے وعظ و نصیحت کی اور اسے یہ بتایا کہ دنیا کا عذاب آخرت کے عذاب کے مقابلے میں زیادہ آسان ہے اس عورت نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے وہ شخص جھوٹ بول رہا ہے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مرد سے آغاز کیا اس نے چار مرتبہ اللہ کے نام کی (قسم اٹھا کر) اس بات کی گواہی دی کہ وہ سچ بول رہا ہے اور پانچویں مرتبہ یہ کہا: اگر وہ جھوٹ بول رہا ہو تو اس پر اللہ کی لعنت ہو پھر دوسری مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت سے لعان کروایا اس نے چار مرتبہ اللہ کے نام کی قسم اٹھا کر یہ گواہی دی کہ وہ مرد جھوٹ بول رہا ہے اور پانچویں مرتبہ یہ کہا: اگر وہ مرد سچا ہے، تو اس عورت پر اللہ تعالیٰ کا غضب نازل ہو۔ (راوی بیان کرتے ہیں) پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کے درمیان علیحدگی کروا دی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطلاق/حدیث: 4286]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 4272»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (1955): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
الرواة الحديث:
سعيد بن جبير الأسدي ← عبد الله بن عمر العدوي