صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
33. باب العدة - ذكر القدر الذي وضعت فيه سبيعة حملها بعد وفاة زوجها-
عدت کا بیان - حضرت سُبیعہ رضی اللہ عنہا نے شوہر کی وفات کے بعد کتنے عرصے میں بچہ جنا اس کی مقدار کا ذکر
حدیث نمبر: 4297
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ: سُئِلَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ وَأَبُو هُرَيْرَةَ عَنِ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا وَهِيَ حَامِلٌ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: آخِرُ الأَجَلَيْنِ. وَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ إِِذَا وَلَدَتْ فَقَدْ حَلَّتْ. فَدَخَلَ أَبُو سَلَمَةَ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ ، فَسَأَلَهَا عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَتْ: " وَلَدَتْ سُبَيْعَةُ الأَسْلَمِيَّةُ بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِنِصْفِ شَهْرٍ، فَخَطَبَهَا رَجُلانِ أَحَدُهُمَا شَابٌّ وَالآخَرُ كَهْلٌ، فَحَطَّتْ إِِلَى الشَّابِّ، فَقَالَ الْكَهْلُ: لَمْ تَحْلُلْ، وَكَانَ أَهْلُهَا غَيْبًا وَرَجَا إِِذَا جَاءَ أَهْلُهَا أَنْ يُؤْثِرُوهُ بِهَا، فَجَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" قَدْ حَلَلْتِ، فَانْكِحِي مَنْ شِئْتِ" .
ابوسلمہ بن عبدالرحمن بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ایسی بیوہ عورت کے بارے میں دریافت کیا گیا: جو حاملہ ہو، تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: جو عدت بعد میں پوری ہو گی (وہ عورت وہ والی عدت پوری کرے گی) سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جب وہ بچے کو جنم دے گی تو اس کی عدت ختم شمار ہو گی پھر ابوسلمہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان سے اس بارے میں دریافت کیا: تو انہوں نے بتایا: سبیعہ اسلمیہ نامی خاتون نے اپنے شوہر کے انتقال کے پندرہ دن بعد بچے کو جنم دیا دو آدمیوں نے اس سے نکاح کا پیغام بھیجا ان میں سے ایک نوجوان تھا اور دوسرا عمر رسیدہ تھا وہ عورت نوجوان کی طرف مائل ہوئی تو عمر رسیدہ شخص نے کہا: تمہاری تو ابھی عدت ہی ختم نہیں ہوئی اس خاتون کے خاندان کے افراد وہاں موجود نہیں تھے اس بوڑھے کو یہ امید تھی کہ جب اس کے گھر کے افراد وہاں آ جائیں گے تو اسے (نوجوان پر) ترجیح دیں گے وہ خاتون نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم حلال ہو چکی ہو (یعنی تمہاری عدت ختم ہو چکی ہے) اب تم جس سے چاہو شادی کر لو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطلاق/حدیث: 4297]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 4283»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما
الرواة الحديث:
أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← أم سلمة زوج النبي