صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
40. فصل في إحداد المعتدة - ذكر وصف الإحداد الذي تستعمل المرأة على زوجها-
عدت گزارنے والی عورت کے سوگ کا بیان - بیوی کے سوگ منانے کا طریقہ اور کیفیت کا بیان
حدیث نمبر: 4304
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِِدْرِيسَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ بِهَذِهِ الأَحَادِيثِ الثَّلاثِ، قَالَتْ زَيْنَبُ: دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ حَبِيبَةَ حِينَ تُوُفِّيَ أَبُوهَا أَبُو سُفْيَانَ بْنُ حَرْبٍ، فَدَعَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ بِطِيبِ فِيهِ صُفْرَةٌ خَلُوقٌ أَوْ غَيْرُهُ، فَدَهَنَتْ مِنْهُ جَارِيَةً، ثُمَّ مَسَّتْ بِهِ بَطْنَهَا، ثُمّ قَالَتْ: وَاللَّهِ مَالِي بِالطِّيبِ مِنْ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لا يَحِلُّ لامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ أَنْ تَحُدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلاثِ لَيَالٍ، إِِلا عَلَى زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا" . وَقَالَتْ وَقَالَتْ زَيْنَبُ : دَخَلْتُ عَلَى زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ حِينَ تُوُفِّيَ أَخُوهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَحْشٍ، فَدَعَتْ بِطِيبٍ فَمَسَّتْ مِنْهُ، ثُمَّ قَالَتْ: وَاللَّهِ مَالِي بِالطِّيبِ مِنْ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ: " لا يَحِلُّ لامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ أَنْ تَحُدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلاثَ لَيَالٍ، إِِلا عَلَى زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا" . قَالَتْ قَالَتْ زَيْنَبُ : وَسَمِعْتُ أُمِّي أُمَّ سَلَمَةَ ، تَقُولُ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِِنَّ ابْنَتِي تُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا وَقَدِ اشْتَكَتْ عَيْنَاهَا فَنُكَحِّلُهَا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لا"، مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلاثًا، كُلُّ ذَلِكَ يَقُولُ:" لا، إِِنَّمَا هِيَ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرٌ، وَقَدْ كَانَتْ إِِحْدَاكُنَّ فِي الْجَاهِلِيَّةِ تَرْمِي بِالْبَعْرَةِ عَلَى رَأْسِ الْحَوْلِ" .
سیدہ زینب بنت ابوسلمہ رضی اللہ عنہا نے تین روایات نقل کی ہیں۔ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئی جب ان کے والد سیدنا ابوسفیان بن حرب رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تھا تو سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے زرد رنگ منگوایا جس میں خلوق یا شاید کوئی دوسری خوشبو ملی ہوئی تھی انہوں نے اس کا کچھ حصہ کسی لڑکی کو لگایا اور پھر تھوڑا سا اپنے پیٹ پر لگا لیا، پھر انہوں نے یہ بات بیان کی اللہ کی قسم! مجھے خوشبو لگانے کی کوئی ضرورت نہیں تھی، لیکن میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھنے والی کسی بھی عورت کے لیے جائز نہیں ہے وہ کسی کے مرنے پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے البتہ اپنے شوہر کا سوگ چار ماہ دس دن تک کرے گی۔“ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں ایک مرتبہ میں سیدہ زینب بن جحش رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئی جب ان کے بھائی سیدنا عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تھا انہوں نے خوشبو منگوائی اور تھوڑی سی خوشبو لگا لی پھر انہوں نے یہ بات بیان کی اللہ کی قسم! مجھے خوشبو لگانے کی ضرورت نہیں تھی، لیکن میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر فرمایا: ”اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھنے والی کسی بھی عورت کے لیے یہ بات جائز نہیں ہے وہ کسی کے مرنے پر تین دن سے زیادہ کا سوگ کرے البتہ اپنے شوہر کا سوگ وہ چار ماہ دس دن تک کرے گی۔“ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے اپنی والدہ سیدنا ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ایک خاتون نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اس نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری بیٹی بیوہ ہے اس کی آنکھیں دکھتی ہیں، تو کیا ہم اسے سرمہ لگا دیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی نہیں ایسا شاید دو یا تین مرتبہ ہوا ہر مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہی فرماتے رہے جی نہیں یہ (یعنی اس کی عدت کی مدت) چار ماہ دس دن ہے پہلے زمانہ جاہلیت میں کوئی عورت ایک سال گزرنے کے بعد مینگنی پھینکا کرتی تھی (پھر اس کی عدت پوری ہوتی تھی) حمید نامی راوی بیان کرتے ہیں: میں نے سیدہ زینب رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا: ایک سال کے بعد مینگنی بھینکنے سے کیا مراد ہے؟ تو سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے بتایا: (بیوہ عورت کی عدت گزرنے کے بعد) عورت کے پاس کوئی جانور جیسے گدھا یا بکری یا پرندہ لایا جاتا تھا تو وہ اس پر ہاتھ پھیرتی تھی۔ عام طور پر وہ جانور مر جایا کرتا تھا۔ پھر وہ عورت (اپنی کوٹھڑی سے) باہر نکلتی تھی اسے ایک مینگنی دی جاتی تھی، جسے وہ پھینک دیتی تھی۔ اس کے بعد وہ خوشبو وغیرہ استعمال کرنا شروع کرتی تھی۔ امام مالک سے سوال کیا گیا: روایت کے الفاظ تفض به سے مراد کیا ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: یہ کہ وہ عورت اپنا ہاتھ اس جانور کی کھال پر پھیرتی تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطلاق/حدیث: 4304]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 4290»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (1990): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
الحديث إسناده صحيح على شرطهما
الرواة الحديث:
زينب بنت أم سلمة المخزومية ← أم سلمة زوج النبي