🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
19. باب الولاء - ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن عائشة أعانت بريرة في كتابتها من غير أن تكون قد اشترتها أو أعتقتها-
ولاء کا بیان - اس خبر کا بیان جو ان لوگوں کے قول کو باطل کرتی ہے جنہوں نے کہا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بریرہ کی مکاتبت میں مدد کی تھی بغیر خریدے یا آزاد کیے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4326
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ بَرِيرَةَ جَاءَتْ تَسْتَعِينُ عَائِشَةَ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: إِِنْ أَحَبَّ أَهْلُكِ أَنْ أَصُبَّ لَهُمْ عَنْكِ صَبَّةً، فَأُعْتِقَكِ فَعَلْتُ، وَيَكُونُ لِي وَلاؤُكِ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ بَرِيرَةُ لأَهْلِهَا، فَقَالُوا لا، إِِلا أَنْ يَكُونَ الْوَلاءُ لَنَا. قَالَ يَحْيَى: فَزَعَمَتْ عَمْرَةُ أَنَّ عَائِشَةَ ذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" لا يَمْنَعُكِ ذَلِكَ اشْتَرِيهَا وَأَعْتِقِيهَا، فَإِِنَّمَا الْوَلاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: فَهَذَا آخِرُ جَوَامِعِ أَنْوَاعِ الأَمْرِ عَنِ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرْنَاهَا بِفُصُولِهَا وَأَنْوَاعِ تَقَاسِيمِهَا، وَقَدْ بَقِيَ مِنَ الأَوَامِرِ أَحَادِيثُ بَدَّدْنَاهَا فِي سَائِرِ الأَقْسَامِ، لأَنَّ تِلْكَ الْمَوَاضِعَ بِهَا أَشْبَهُ، كَمَا بَدَّدْنَا مِنْهَا فِي الأَوَامِرِ لِلْبُغْيَةِ فِي الْقَصْدِ فِيهَا، وَإِِنَّمَا نُمْلِي بَعْدَ هَذَا الْقِسْمَ الثَّانِي الَّذِي هِيَ النَّوَاهِي بِتَفْصِيلِهَا وَتَقْسِيمِهَا عَلَى حَسَبِ مَا أَمْلَيْنَا الأَوَامِرَ إِِنْ قَضَى اللَّهُ ذَلِكَ وَشَاءَهُ، جَعَلَنَا اللَّهُ مِمَّنْ أَغْضَى فِي الْحُكْمِ فِي دِينِ اللَّهِ عَنْ أَهْوَاءِ الْمُتَكَلِّفِينَ، وَلَمْ يُعَرِّجْ فِي النَّوَازِلِ عَلَى آرَاءِ الْمُقَلِّدِينَ مِنَ الأَهْوَاءِ الْمَعْكُوسَةِ وَالآرَاءِ الْمَنْحُوسَةِ، إِِنَّهُ خَيْرُ مَسْئُولٍ.
عمرہ بنت عبدالرحمن بیان کرتی ہیں کہ بریرہ رضی اللہ عنہا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مدد مانگنے کے لیے آئیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ اگر تمہارے مالکان چاہیں تو میں انہیں ایک ہی مرتبہ میں ادائیگی کر دیتی ہوں اور پھر میں تمہیں آزاد کر دوں گی اور تمہاری ولاء کا حق مجھے حاصل ہو گا۔ بریرہ رضی اللہ عنہا نے اپنے مالکان کے سامنے اس کا تذکرہ کیا تو انہوں نے کہا: جی نہیں، ولاء کا حق ہمیں حاصل رہے گا۔ یحییٰ نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے اور عمرہ نامی خاتون نے یہ بات بیان کی ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ چیز تمہیں اس بات سے نہ روکے، تم اسے خرید کر اسے آزاد کر دو، کیونکہ ولاء کا حق آزاد کرنے والے کو ملتا ہے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول اوامر کی مختلف اقسام کے مجموعے کا یہ آخری حصہ ہے، ان اوامر کو ہم نے فصول اور ذیلی تقسیم کے تحت ذکر کیا ہے، اب اوامر میں سے کچھ احادیث باقی رہ گئی ہیں جنہیں ہم نے دیگر اقسام میں مختلف مقامات پر نقل کیا ہے کیونکہ وہ اس مقام کے ساتھ زیادہ مناسبت رکھتی ہیں، جس طرح ہم نے ان میں سے کچھ احادیث کو اوامر کے تحت بھی نقل کیا ہے تاکہ اس بارے میں مقصد حاصل ہو جائے، اس کے بعد ہم دوسری قسم املاء کروائیں گے جو نواہی سے تعلق رکھتی ہے، ہم اسے مختلف فصلوں اور ذیلی تقسیم کے تحت ذکر کریں گے جس طرح ہم نے اوامر کو املا کروایا تھا، اگر اللہ تعالیٰ نے یہ فیصلہ دیا اور یہ چاہا؛ اللہ تعالیٰ ہمیں ان لوگوں میں شامل کرے جو اللہ کے دین کے بارے میں حکم بیان کرتے ہوئے تکلف کرنے والوں کی نفسانی خواہشات سے لاتعلق رہتے ہیں اور نئے پیش آمدہ مسائل میں الٹی خواہشات اور منحوس آراء کی پیروی کرنے والوں کی رائے کے مطابق نہیں چلتے ہیں، بے شک وہ (یعنی اللہ تعالیٰ) سب سے بہتر مسئول ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب العتق/حدیث: 4326]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 456، 1493، 2155، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1075، وابن الجارود فى "المنتقى"، 802، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2449، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4269، 4271، 4272، 4325، 4326، 5115، 5116، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2613،وأبو داود فى (سننه) برقم: 2233، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2074، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 279، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 10954، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2871، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24687» «رقم طبعة با وزير 4311»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥عمرة بنت عبد الرحمن الأنصارية
Newعمرة بنت عبد الرحمن الأنصارية ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة
👤←👥يحيى بن سعيد الأنصاري، أبو سعيد
Newيحيى بن سعيد الأنصاري ← عمرة بنت عبد الرحمن الأنصارية
ثقة ثبت
👤←👥مالك بن أنس الأصبحي، أبو عبد الله
Newمالك بن أنس الأصبحي ← يحيى بن سعيد الأنصاري
رأس المتقنين وكبير المتثبتين
👤←👥أحمد بن أبي بكر القرشي، أبو مصعب
Newأحمد بن أبي بكر القرشي ← مالك بن أنس الأصبحي
ثقة
👤←👥الحسين بن إدريس الأنصاري، أبو علي
Newالحسين بن إدريس الأنصاري ← أحمد بن أبي بكر القرشي
ثقة
Sahih Ibn Hibban Hadith 4326 in Urdu