صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
4. ذكر البيان بأن المصطفى صلى الله عليه وسلم رد ماعز بن مالك في المرار الأربع وأمر به فطرد-
- ذکر اس بیان کا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ماعز بن مالک کو چار بار واپس کیا اور اسے بھگانے کا حکم دیا
حدیث نمبر: 4400
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَارِثِ الْبَزَّازُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْهِضْهَاضِ الدَّوْسِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: جَاءَ مَاعِزُ بْنُ مَالِكٍ إِِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِِنَّ الأَبْعَدَ قَدْ زَنَى. فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَيْلَكَ، وَمَا يُدْرِيكَ مَا الزِّنَى؟" ثُمَّ أَمَرَ بِهِ فَطُرِدَ وَأُخْرِجَ، ثُمَّ أَتَاهُ الثَّانِيَةَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِِنَّ الأَبْعَدَ قَدْ زَنَى. فَقَالَ:" وَيْلَكَ، وَمَا يُدْرِيكَ مَا الزِّنَى؟" فَطُرِدَ وَأُخْرِجَ، ثُمَّ أَتَاهُ الثَّالِثَةَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِِنَّ الأَبْعَدَ قَدْ زَنَى. قَالَ:" وَيْلَكَ، وَمَا يُدْرِيكَ مَا الزِّنَى؟" قَالَ: أَتَيْتُ امْرَأَةً حَرَامًا مِثْلَ مَا يَأْتِي الرَّجُلُ مِنِ امْرَأَتِهِ. فَأَمَرَ بِهِ فَطُرِدَ وَأُخْرِجَ، ثُمَّ أَتَاهُ الرَّابِعَةَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِِنَّ الأَبْعَدَ قَدْ زَنَى. قَالَ:" وَيْلَكَ، وَمَا يُدْرِيكَ مَا الزِّنَى؟" قَالَ:" أَدْخَلْتَ وَأَخْرَجْتَ؟" قَالَ: نَعَمْ. فَأَمَرَ بِهِ أَنْ يُرْجَمَ، فَلَمَّا وَجَدَ مَسَّ الْحِجَارَةِ تَحَمَّلَ إِِلَى شَجَرَةٍ، فَرُجِمَ عِنْدَهَا حَتَّى مَاتَ، فَمَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ مَعَهُ نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ لِصَاحِبِهِ: وَأَبِيكَ إِِنَّ هَذَا لَهُوَ الْخَائِبُ، أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِرَارًا، كُلُّ ذَلِكَ يَرُدَّهُ حَتَّى قُتِلَ كَمَا يَقْتُلُ الْكَلْبُ. فَسَكَتَ عَنْهُمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى مَرَّ بِجِيفَةِ حِمَارٍ شَائِلَةٌ رِجْلُهَا، فَقَالَ: " كُلا مِنْ هَذَا". قَالا: مِنْ جِيفَةِ حِمَارٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" فَالَّذِي نِلْتُمَا مِنْ عِرْضِ أَخِيكُمَا أَكْثَرُ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ، إِِنَّهُ لَفِي نَهَرٍ مِنْ أَنْهَارِ الْجَنَّةِ يَتَقَمَّصُ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ماعز رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی: ”دور والے نے زنا کا ارتکاب کیا ہے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ” «وَيْحَكَ» (تمہارا ستیاناس ہو)، کیا تم جانتے ہو کہ زنا کیا ہے؟“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں حکم دیا تو انہیں وہاں سے نکال دیا گیا، پھر وہ دوسری مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! دور کے شخص نے زنا کا ارتکاب کیا ہے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «وَيْحَكَ» (تمہارا ستیاناس ہو)، تمہیں کیا پتا زنا کیا ہے؟“ انہیں پھر وہاں سے نکال دیا گیا، پھر وہ تیسری مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! دور کے شخص نے زنا کا ارتکاب کیا ہے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «وَيْحَكَ» (تمہارا ستیاناس ہو)، تمہیں کیا پتا کہ زنا کیا چیز ہے؟“ انہوں نے عرض کی: ”میں نے ایک عورت کے ساتھ حرام طور پر وہی کام کیا ہے جو کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کرتا ہے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں حکم دیا تو انہیں وہاں سے نکال دیا گیا، وہ چوتھی مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! دور کے شخص نے زنا کا ارتکاب کیا ہے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «وَيْحَكَ» (تمہارا ستیاناس ہو)، تمہیں کیا پتا ہے کہ زنا کیا ہوتا ہے؟ کیا تم نے اندر داخل کیا اور باہر نکالا؟“ انہوں نے جواب دیا: ”جی ہاں۔“ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں حکم دیا کہ انہیں سنگسار کر دیا جائے، جب انہیں پتھر لگنے لگے تو انہوں نے درخت کی آڑ لی، پھر انہیں اس درخت کے پاس سنگسار کر دیا گیا یہاں تک کہ ان کا انتقال ہو گیا۔ اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گزر رہے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ اصحاب رضی اللہ عنہم بھی تھے، ان میں سے ایک صاحب نے اپنے ساتھی سے کہا: ”تمہارے باپ کی قسم! یہ شخص خسارے کا شکار ہونے والا ہے، یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کئی مرتبہ حاضر ہوا، ہر مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اسے واپس کرتے رہے یہاں تک کہ اسے یوں قتل کر دیا گیا جس طرح کتے کو مارا جاتا ہے۔“ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان دونوں کے حوالے سے خاموش رہے یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک گدھے کے مردار جسم کے پاس سے ہوا جس کا پاؤں اوپر کی طرف اٹھا ہوا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں سے فرمایا: ”تم دونوں اسے کھاؤ۔“ ان دونوں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا گدھے کے مردار کو کھائیں؟“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے اپنے بھائی کی عزت پر جو حملہ کیا ہے وہ اس سے زیادہ (بڑا گناہ ہے)، اس ذات کی قسم جس کے دستِ قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے! وہ شخص اب جنت کی نہروں میں غوطے لگا رہا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحدود/حدیث: 4400]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 5271، 6815، 6825، 7167، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1691، وابن الجارود فى "المنتقى"، 878، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4399، 4400، 4439، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 8174، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 7126، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4428، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1428، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2554، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 17027، والدارقطني فى (سننه) برقم: 3442، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7965» «رقم طبعة با وزير 4384»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
ضعيف - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده ضعيف كسابقه
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 4400 in Urdu
عبد الرحمن بن الصامت الدوسي ← أبو هريرة الدوسي