🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4. ذكر البيان بأن المصطفى صلى الله عليه وسلم رد ماعز بن مالك في المرار الأربع وأمر به فطرد-
- ذکر اس بیان کا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ماعز بن مالک کو چار بار واپس کیا اور اسے بھگانے کا حکم دیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4400
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَارِثِ الْبَزَّازُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْهِضْهَاضِ الدَّوْسِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: جَاءَ مَاعِزُ بْنُ مَالِكٍ إِِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِِنَّ الأَبْعَدَ قَدْ زَنَى. فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَيْلَكَ، وَمَا يُدْرِيكَ مَا الزِّنَى؟" ثُمَّ أَمَرَ بِهِ فَطُرِدَ وَأُخْرِجَ، ثُمَّ أَتَاهُ الثَّانِيَةَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِِنَّ الأَبْعَدَ قَدْ زَنَى. فَقَالَ:" وَيْلَكَ، وَمَا يُدْرِيكَ مَا الزِّنَى؟" فَطُرِدَ وَأُخْرِجَ، ثُمَّ أَتَاهُ الثَّالِثَةَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِِنَّ الأَبْعَدَ قَدْ زَنَى. قَالَ:" وَيْلَكَ، وَمَا يُدْرِيكَ مَا الزِّنَى؟" قَالَ: أَتَيْتُ امْرَأَةً حَرَامًا مِثْلَ مَا يَأْتِي الرَّجُلُ مِنِ امْرَأَتِهِ. فَأَمَرَ بِهِ فَطُرِدَ وَأُخْرِجَ، ثُمَّ أَتَاهُ الرَّابِعَةَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِِنَّ الأَبْعَدَ قَدْ زَنَى. قَالَ:" وَيْلَكَ، وَمَا يُدْرِيكَ مَا الزِّنَى؟" قَالَ:" أَدْخَلْتَ وَأَخْرَجْتَ؟" قَالَ: نَعَمْ. فَأَمَرَ بِهِ أَنْ يُرْجَمَ، فَلَمَّا وَجَدَ مَسَّ الْحِجَارَةِ تَحَمَّلَ إِِلَى شَجَرَةٍ، فَرُجِمَ عِنْدَهَا حَتَّى مَاتَ، فَمَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ مَعَهُ نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ لِصَاحِبِهِ: وَأَبِيكَ إِِنَّ هَذَا لَهُوَ الْخَائِبُ، أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِرَارًا، كُلُّ ذَلِكَ يَرُدَّهُ حَتَّى قُتِلَ كَمَا يَقْتُلُ الْكَلْبُ. فَسَكَتَ عَنْهُمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى مَرَّ بِجِيفَةِ حِمَارٍ شَائِلَةٌ رِجْلُهَا، فَقَالَ: " كُلا مِنْ هَذَا". قَالا: مِنْ جِيفَةِ حِمَارٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" فَالَّذِي نِلْتُمَا مِنْ عِرْضِ أَخِيكُمَا أَكْثَرُ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ، إِِنَّهُ لَفِي نَهَرٍ مِنْ أَنْهَارِ الْجَنَّةِ يَتَقَمَّصُ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ماعز نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے عرض کی: دور والے نے زنا کا ارتکاب کیا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: تمہارا ستیاناس ہو کیا تم جانتے ہو کہ زنا کیا ہے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں حکم دیا تو اسے وہاں سے نکال دیا گیا پھر وہ دوسری مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! دور کے شخص نے زنا کا ارتکاب کیا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا ستیاناس ہو تمہیں کیا پتہ زنا کیا ہے اسے پھر وہاں سے نکال دیا گیا پھر وہ تیسری مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! دور کے شخص نے زنا کا ارتکاب کیا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا ستیاناس ہو تمہیں کیا پتہ کہ زنا کیا چیز ہے اس نے عرض کی: میں نے ایک عورت کے ساتھ حرام طور پر وہی کام کیا ہے جو کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کرتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں حکم دیا تو اسے وہاں سے نکال دیا گیا وہ چوتھی مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! دور کے شخص نے زنا کا ارتکاب کیا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا ستیاناس ہو تمہیں کیا پتہ ہے کہ زنا کیا ہوتا ہے کیا تم نے اندر داخل کیا اور باہر نکالا اس نے جواب دیا: جی ہاں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں حکم دیا کہ اسے سنگسار کر دیا جائے جب اسے پتھر لگنے لگے تو اس نے درخت کی آڑ لی پھر اسے اس درخت کے پاس سنگسار کر دیا گیا۔ یہاں تک کہ اس کا انتقال ہو گیا۔ اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گزر رہے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ اصحاب بھی تھے ان میں سے ایک صاحب نے اپنے ساتھی سے کہا: تمہارے باپ کی قسم یہ شخص خسارے کا شکار ہونے والا ہے یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کئی مرتبہ حاضر ہوا ہر مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اسے واپس کرتے رہے یہاں تک کہ اسے یوں قتل کر دیا گیا جس طرح کتے کو مارا جاتا ہے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان دونوں کے حوالے سے خاموش رہے یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک گدھے کے مردار جسم کے پاس سے ہوا جس کا پاؤں اوپر کی طرف اٹھا ہوا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم دونوں اسے کھاؤ ان دونوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا گدھے کے مردار کو کھائیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے اپنے بھائی کی عزت پر جو حملہ کیا ہے وہ اس سے زیادہ (بڑا گناہ ہے) اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد کی جان ہے وہ شخص اب جنت کی نہروں میں غوطے لگا رہا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحدود/حدیث: 4400]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 4384»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
ضعيف - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده ضعيف كسابقه

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥عبد الرحمن بن الصامت الدوسي، أبو عبد الله
Newعبد الرحمن بن الصامت الدوسي ← أبو هريرة الدوسي
مجهول
👤←👥محمد بن مسلم القرشي، أبو الزبير
Newمحمد بن مسلم القرشي ← عبد الرحمن بن الصامت الدوسي
صدوق إلا أنه يدلس
👤←👥زيد بن أبي أنيسة الجزري، أبو أسامة
Newزيد بن أبي أنيسة الجزري ← محمد بن مسلم القرشي
ثقة
👤←👥خالد بن أبي يزيد القرشي، أبو عبد الرحيم
Newخالد بن أبي يزيد القرشي ← زيد بن أبي أنيسة الجزري
ثقة
👤←👥محمد بن سلمة الباهلي، أبو عبد الله
Newمحمد بن سلمة الباهلي ← خالد بن أبي يزيد القرشي
ثقة
👤←👥محمد بن الحارث الليثي، أبو عبد الله، أبو جعفر
Newمحمد بن الحارث الليثي ← محمد بن سلمة الباهلي
صدوق حسن الحديث
👤←👥الحسين بن محمد الحراني، أبو عروبة
Newالحسين بن محمد الحراني ← محمد بن الحارث الليثي
ثقة إمام حافظ