صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
176. باب صلة الرحم وقطعها - ذكر المدة التي بصحبته إياهن يعطى هذا الأجر له بها
صلہ رحمی اور قطع رحمی کا بیان - اس بات کا ذکر کہ بہنوں کے ساتھ حسنِ صحبت کی جس مدت تک پابندی کی جائے گی، اسی کے مطابق یہ اجر دیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 447
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُقَدَّمِيُّ ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ الْعَلافُ ، قَالا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ عَالَ ابْنَتَيْنِ أَوْ ثَلاثَا، أَوْ أُخْتَيْنِ أَوْ ثَلاثًا، حَتَّى يَبِنَّ، أَوْ يَمُوتَ عَنْهُنَّ، كُنْتُ أَنَا وَهُوَ فِي الْجَنَّةِ كَهَاتَيْنِ، وَأَشَارَ بِأُصْبَعِهِ الْوُسْطَى وَالَّتِي تَلِيهَا" وَالْحَدِيثُ عَلَى لَفْظِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَسَنِ الْعَلافِ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كُنْتُ أَنَا وَهُوَ فِي الْجَنَّةِ كَهَاتَيْنِ" أَرَادَ بِهِ فِي الدُّخُولِ وَالسَّبْقِ، لا أَنَّ مَرْتَبَةَ مَنْ عَالَ ابْنَتَيْنِ أَوْ أُخْتَيْنِ فِي الْجَنَّةِ كَمَرْتَبَةِ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، سَوَاءٌ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جو شخص دو بیٹیوں، یا تین بیٹیوں، یا دو بہنوں، یا تین بہنوں کی کفالت کرے، یہاں تک وہ شادی شدہ ہو جائیں، یا وہ شخص انہیں چھوڑ کر (ان کی کفالت کے دوران ہی) انتقال کر جائے، تو میں اور وہ شخص جنت میں اس طرح ہوں گے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی درمیانی انگلی اور اس کے ساتھ والی انگلی کے ذریعے اشارہ کر کے (یہ بات ارشاد فرمائی)“ روایت کے یہ الفاظ ابراہیم بن حسن علاف کے نقل کردہ ہیں۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”میں اور وہ جنت میں ان دو کی طرح ہوں گے۔“ اس سے مراد داخل ہونے اور سبقت لے جانے کے حوالے سے ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ دو بیٹیوں، یا دو بہنوں کی کفالت کرنے والا شخص جنت میں اس مرتبے پر فائز ہو گا، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 447]
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”میں اور وہ جنت میں ان دو کی طرح ہوں گے۔“ اس سے مراد داخل ہونے اور سبقت لے جانے کے حوالے سے ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ دو بیٹیوں، یا دو بہنوں کی کفالت کرنے والا شخص جنت میں اس مرتبے پر فائز ہو گا، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 447]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 448»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (296).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين، إبراهيم بن الحسن العلاف- وهو الباهلي- ثقة. المقدمي: هو محمد بن أبي بكر.
الرواة الحديث:
ثابت بن أسلم البناني ← أنس بن مالك الأنصاري