صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
72. باب قطع الطريق - ذكر خبر قد يوهم عالما من الناس ضد ما ذهبنا إليه-
راہزنی کی حد کا بیان - ایک ایسی خبر کا بیان جو بعض اہل علم کو ہمارے بیان کردہ مفہوم کے برعکس گمان دلا سکتی ہے۔
حدیث نمبر: 4473
أَخْبَرَنَا الْقَطَّانُ بِالرَّقَّةِ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَزَّانُ ، حَدَّثَنَا إِِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لِعِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ : إِِنَّ لِي عَبْدًا أَبَقَ، وَإِِنِّي نَذَرْتُ لِلَّهِ إِِنْ أَصَبْتُهُ لأَقْطَعَنَّ يَدَهُ، فَقَالَ: لا تَقْطَعْ يَدَهُ، فَإِِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُومُ فِينَا " فَيَأْمُرُنَا بِالصَّدَقَةِ وَيَنْهَانَا عَنِ الْمُثْلَةِ" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: الْمُثْلَةُ الْمَنْهِيُّ عَنْهَا لَيْسَ الْقَوَدُ الَّذِي أَمَرَ بِهِ، لأَنَّ أَخْبَارَ الْعُرَنِيِّينَ الْمُرَادُ مِنْهَا كَانَ الْقَوَدَ لا الْمُثْلَةَ.
حسن بصری بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے کہا: ہمارا ایک غلام ہے میں نے اللہ کے نام کی یہ نذر مانی ہے، وہ اگر مجھے مل گیا تو میں اس کا ہاتھ ضرور کاٹوں گا، تو سیدنا عمران رضی اللہ عنہ نے کہا: تم اس کا ہاتھ مت کاٹنا، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن ہمارے درمیان کھڑے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں صدقہ کرنے کا حکم دیا اور مثلہ کرنے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں منع کر دیا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ممنوعہ مثلہ سے مراد یہ ہے: وہ کسی قصاص کے طور پر نہ ہو کیونکہ عرینہ قبیلے کے لوگوں کے بارے میں روایات میں یہ بات مذکور ہے اس سے مراد قصاص ہے مثلہ کرنا نہیں ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحدود/حدیث: 4473]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 4456»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح لغيره - «المشكاة» (3540)، «الإرواء» (2230)، «صحيح أبي داود» (2393).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح
الرواة الحديث:
الحسن البصري ← عمران بن حصين الأزدي