یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
178. باب صلة الرحم وقطعها - ذكر وصية المصطفى صلى الله عليه وسلم بصلة الرحم وإن قطعت
صلہ رحمی اور قطع رحمی کا بیان - اس وصیت کا ذکر جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صلہ رحمی کرنے کی فرمائی اگرچہ رشتہ دار قطع تعلقی کریں۔
حدیث نمبر: 449
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ إِسْحَاقَ الأَصْبَهَانِيُّ بِالْكَرْخِ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ يَزِيدَ الْقَطَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ شَيْبَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ وَاسِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: أَوْصَانِي خَلِيلِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِخِصَالٍ مِنَ الْخَيْرِ: أَوْصَانِي " بِأَنْ لا أَنْظُرَ إِلَى مَنْ هُوَ فَوْقِي، وَأَنْ أَنْظُرَ إِلَى مَنْ هُوَ دُونِي، وَأَوْصَانِي بِحُبِّ الْمَسَاكِينِ وَالدُّنُوِّ مِنْهُمْ، وَأَوْصَانِي أَنْ أَصِلَ رَحِمِي وَإِنْ أَدْبَرَتْ، وَأَوْصَانِي أَنْ لا أَخَافَ فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لائِمٍ، وَأَوْصَانِي أَنْ أَقُولَ الْحَقَّ وَإِنْ كَانَ مُرًّا، وَأَوْصَانِي أَنْ أُكْثِرَ مِنْ قَوْلِ لا حَوْلَ وَلا قُوَّةَ إِلا بِاللَّهِ، فَإِنَّهَا كَنْزٌ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ" .
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میرے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بھلائی کی کچھ باتوں کی تلقین کی تھی۔ آپ نے مجھے یہ تلقین کی تھی کہ میں اپنے سے اوپر والے شخص کی طرف نہ دیکھوں میں اپنے سے نیچے والے شخص کی طرف دیکھوں آپ نے مجھے مسکینوں کے ساتھ محبت رکھنے اور ان کے قریب رہنے کی تلقین کی تھی اور آپ نے مجھے یہ تلقین کی تھی کہ میں صلہ رحمی کروں اگرچہ وہ مجھ سے منہ موڑے اور آپ نے مجھے یہ تلقین کی تھی کہ میںاللہ تعالیٰ کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے خوف زدہ نہ ہوں اور آپ نے مجھے یہ تلقین کی تھی کہ میں حق بات کہوں اگرچہ وہ کڑوا ہو اور آپ نے مجھے یہ تلقین کی تھی کہ میں بکثرت لا حول ولا قوة الا باللہ پڑھتا رہوں، کیونکہ یہ جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 449]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 361، 449، 820، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 3133، 4188، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 5522، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3825، 4218، وأحمد فى (مسنده) برقم: 21693، والحميدي فى (مسنده) برقم: 130» «رقم طبعة با وزير 450»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (2166).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح، إسماعيل بن يزيد صاحب المسند والتفسير، وكان يذكر بالزهد والعبادة، كثير الغرائب والفوائد، وقال أبو حاتم: صدوق. وباقي رجال الإسناد ثقات على شرط مسلم، أبو داود هو الطيالسي.
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 449 in Urdu
عبد الله بن الصامت الغفاري ← أبو ذر الغفاري