الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
26. باب في الخلافة والإمارة - ذكر ما يستحب للإمام اتخاذ الكاتب لنفسه لما يقع من الحوادث والأسباب في أمور المسلمين-
خلافت و امارت کا بیان - مسلمانوں کے امور میں پیش آنے والے واقعات و اسباب کے پیش نظر امام کے لیے اپنا کاتب مقرر کرنے کا استحباب
حدیث نمبر: 4506
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، قَالَ:" أَرْسَلَ إِِلَيَّ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ رِضْوَانُ اللَّهُ عَلَيْهِ مَقْتَلَ أَهْلِ الْيَمَامَةِ، فَإِِذَا عُمَرُ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ جَالِسٌ عِنْدَهُ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: إِِنَّ عُمَرَ جَاءَنِي، فَقَالَ: إِِنَّ الْقَتْلَ قَدِ اسْتَحَرَّ يَوْمَ الْيَمَامَةِ بِقُرَّاءِ الْقُرْآنِ، وَإِِنِّي أَخْشَى أَنْ يَسْتَحِرَّ الْقَتْلُ فِي الْمَوَاطِنِ كُلِّهَا فَيَذْهَبُ مِنَ الْقُرْآنِ كَثِيرٌ، وَإِِنِّي أَرَى أَنْ تَأْمُرَ بِجَمْعِ الْقُرْآنِ، قَالَ: قُلْتُ: كَيْفَ أَفْعَلُ شَيْئًا لَمْ يَفْعَلْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ عُمَرُ: هُوَ وَاللَّهِ خَيْرٌ، فَلَمْ يَزَلْ يُرَاجِعُنِي فِي ذَلِكَ حَتَّى شَرَحَ اللَّهُ صَدْرِي لِلَّذِي شَرَحَ لَهُ صَدْرَ عُمَرَ، وَرَأَيْتُ فِي ذَلِكَ الَّذِي رَأَى، فَقَالَ لِي أَبُو بَكْرٍ: إِِنَّكَ شَابٌّ عَاقِلٌ، لا نَتَّهِمُكَ، وَقَدْ كُنْتَ تُكْتَبُ الْوَحْيَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَتَبَّعِ الْقُرْآنَ فَاجْمَعْهُ. قَالَ زَيْدٌ: فَوَاللَّهِ لَوْ كَلَّفَنِي نَقْلَ جَبَلٍ مِنَ الْجِبَالِ، مَا كَانَ أَثْقَلَ عَلَيَّ مِمَّا أَمَرَنِي بِهِ مِنْ جَمْعِ الْقُرْآنِ، قُلْتُ: فَكَيْفَ تَفْعَلُونَ شَيْئًا لَمْ يَفْعَلْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: هُوَ وَاللَّهِ خَيْرٌ، فَلَمْ يَزَلْ أَبُو بَكْرٍ يُرَاجِعُنِي حَتَّى شَرَحَ اللَّهُ صَدْرِي لِلَّذِي شَرَحَ لَهُ صَدْرَ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ، قَالَ: فَتَتَبَّعْتُ الْقُرْآنَ أَجْمَعُهُ مِنَ الرِّقَاعِ، وَاللِّخَافِ، وَالْعُسُبِ، وَصُدُورِ الرِّجَالِ حَتَّى وَجَدْتُ آخِرَ سُورَةِ التَّوْبَةِ مَعَ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ الأَنْصَارِيِّ، لَمْ أَجِدْهَا مَعَ أَحَدٍ غَيْرِهِ: لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ سورة التوبة آية 128 خَاتِمَةُ بَرَاءَةَ، قَالَ: فَكَانَتِ الصُّحُفُ عِنْدَ أَبِي بَكْرٍ حَتَّى تَوَفَّاهُ اللَّهُ، ثُمَّ عِنْدَ عُمَرَ حَتَّى تَوَفَّاهُ اللَّهُ، ثُمَّ عِنْدَ حَفْصَةَ بِنْتِ عُمَرَ" . قَالَ قَالَ إِِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، وَحَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ حُذَيْفَةَ قَدِمَ عَلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ وَكَانَ يُغَازِي أَهْلَ الشَّامِ، وَأَهْلَ الْعِرَاقِ، وَفَتَحَ أَرْمِينِيَةَ، وَأَذْرَبِيجَانَ، فَأَفْزَعَ حُذَيْفَةُ اخْتِلافُهُمْ فِي الْقِرَاءَةِ، فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، أَدْرِكْ هَذِهِ الأُمَّةَ قَبْلَ أَنْ يَخْتَلِفُوا فِي الْكِتَابِ كَمَا اخْتَلَفَ الْيَهُودُ، وَالنَّصَارَى، فَبَعَثَ عُثْمَانُ إِِلَى حَفْصَةَ أَنْ أَرْسِلِي الصُّحُفَ لِنَنْسَخَهَا فِي الْمَصَاحِفِ، ثُمَّ نَرُدُّهَا إِِلَيْكِ. فَبَعَثَتْ بِهَا إِِلَيْهِ، فَدَعَا زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ وَسَعِيدَ بْنَ الْعَاصِ، وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَنْسَخُوا الصُّحُفَ فِي الْمَصَاحِفِ، وَقَالَ لَهُمْ: " مَا اخْتَلَفْتُمْ أَنْتُمْ وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ فِي شَيْءٍ، فَاكْتُبُوهُ بِلِسَانِ قُرَيْشٍ، فَإِِنَّهُ نَزَلَ بِلِسَانِهِمْ". وَكَتَبَ الصُّحُفَ فِي الْمَصَاحِفِ، وَبَعَثَ إِِلَى كُلِّ أُفُقٍ بِمُصْحَفٍ مِمَّا نَسَخُوا، وَأَمَرَ مِمَّا سِوَى ذَلِكَ مِنَ الْقُرْآنِ فِي كُلِّ صَحِيفَةٍ أَوْ مُصْحَفٍ أَنْ يُمْحَى أَوْ يُحْرِقَ . قَالَ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: فَأَخْبَرَنِي خَارِجَةُ بْنُ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّهُ سَمِعَ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ ، يَقُولُ: " فَقَدْتُ آيَةً مِنْ سُورَةِ الأَحْزَابِ حِينَ نَسَخْتُ الْمُصْحَفَ، كُنْتُ أَسْمَعُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَؤُهَا، فَالْتَمَسْتُهَا، فَوَجَدْتُهَا مَعَ خُزَيْمَةَ بْنَ ثَابِتٍ الأَنْصَارِيِّ: مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ سورة الأحزاب آية 23، فَأَلْحَقْتُهَا فِي سُورَتِهَا فِي الْمُصْحَفِ" . قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: اخْتَلَفُوا يَوْمَئِذٍ فِي التَّابُوتِ، فَقَالَ زَيْدٌ: التَّابُوهُ، وَقَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ وَسَعِيدُ بْنُ الْعَاصِ: التَّابُوتُ، فَرُفِعَ اخْتِلافُهُمْ إِِلَى عُثْمَانَ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ، فَقَالَ:" اكْتُبُوهُ التَّابُوتُ، فَإِِنَّهُ لِسَانُ قُرَيْشٍ".
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جنگ یمامہ کے بعد سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے مجھے بلوایا اس وقت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی ان کے پاس بیٹھے ہوئے تھے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: عمر میرے پاس آیا اور اس نے کہا: جنگ یمامہ میں قرآن کے بہت سے حافظ شہید ہو گئے ہیں مجھے یہ اندیشہ ہے اگر مختلف جگہوں پر اسی طرح لوگ شہید ہوتے رہے تو قرآن کا بہت سا حصہ ضائع ہو سکتا ہے اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ آپ قرآن کو جمع کرنے کا حکم دیں۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے جواب دیا: میں ایک ایسا کام کیسے کر سکتا ہوں جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کیا تو اس نے کہا: اللہ کی قسم! یہ بہتر ہے اس کے بعد یہ اس بارے میں مجھے مسلسل تلقین کرتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں مجھے بھی وہی شرح صدر عطا کر دیا جو عمر کو عطا کیا ہے اور میری بھی وہی رائے ہو گئی جو عمر کی رائے ہے (سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں) سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا: تم نوجوان بھی ہو سمجھدار بھی ہو ہم تم پر کوئی تہمت عائد نہیں کرتے اور تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے وحی نوٹ بھی کرتے رہتے ہو تو تم قرآن کو تلاش کرو اور اسے ایک جگہ جمع کر دو۔ سیدنا زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: اللہ کی قسم! اگر وہ مجھے کسی پہاڑ کو منتقل کرنے کا حکم دیتے تو یہ میرے لیے اتنا مشکل نہ ہوتا جتنا وہ حکم تھا جو انہوں نے مجھے قرآن جمع کرنے کے حوالے سے دیا تھا میں نے کہا: آپ لوگ ایک ایسا کام کیسے کر سکتے ہیں جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کیا تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم! یہ زیادہ بہتر ہے اس کے بعد سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ مسلسل میرے ساتھ اس بارے میں بات چیت کرتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے بھی وہی شرح صدر عطا کر دیا جو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو عطا کیا تھا۔ سیدنا زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے قرآن کی تلاش شروع کی اور اسے تحریر کے پرزوں اور لوگوں کے سینوں سے اکٹھا کرنا شروع کیا یہاں تک کہ مجھے سورۃ توبہ کی آخری آیتیں سیدنا خزیمہ بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس ملیں مجھے ان کے علاوہ اور کسی کے پاس یہ آیات نہیں ملیں۔ ”تحقیق تمہارے پاس ایک رسول آیا ہے جو تم میں سے ہے تمہارا پریشانی کا شکار ہونا اسے بہت گراں گزرتا ہے۔“ یہ سورت توبہ کی آخری آیات ہیں۔ راوی بیان کرتے ہیں: پھر وہ صحیفہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس رہا، یہاں تک کہ جب ان کا انتقال ہو گیا تو وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس رہا، یہاں تک کہ جب ان کا انتقال ہو گیا تو وہ سیدہ حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہا کے پاس آ گیا۔ ابن شہاب زہری بیان کرتے ہیں: سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی ہے سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے وہ اہل شام اور اہل عراق کی جنگوں میں شریک ہوئے سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ اس حوالے سے پریشان تھے کہ لوگوں کا قرأت میں اختلاف ہو رہا ہے انہوں نے کہا: اے امیر المؤمنین آپ اس امت کی خبر لیجئے اس سے پہلے کہ یہ کتاب اللہ کے بارے میں اس طرح اختلاف کا شکار ہو جائے جس طرح یہودیوں اور عیسائیوں میں اختلاف ہو گیا تھا تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کو پیغام بھیجا کہ آپ اپنا مصحف مجھے بھجوائے تاکہ ہم اس کی مختلف نقلیں تیار کریں یہ پھر ہم آپ کو واپس کر دیں گے تو سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے وہ نسخہ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی طرف بھجوایا سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ، سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ اور سیدنا سعید بن العاص رضی اللہ عنہ کو بلوایا اور انہیں یہ حکم دیا کہ وہ اس مصحف کی مختلف نقلیں تیار کر لیں۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا: جہاں تمہارے اور زید بن ثابت کے درمیان کسی لفظ کے بارے میں اختلاف ہو، تو تم لوگ اسے قریش کے محاور ے کے مطابق نوٹ کرو، کیونکہ یہ ان کے محاور ے میں نازل ہوا ہے۔ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے مختلف مصاحف تیار کروائے اور انہیں مختلف علاقوں میں بھیجا اور انہوں نے یہ حکم دیا کہ اس کے علاوہ قرآن جس بھی صحیفے اور مصحف کی شکل میں موجود ہے اسے مٹا دیا جائے یا جلا دیا جائے۔ ابن شہاب زہری کرتے ہیں: خارجہ بن زید نے مجھے یہ بات بتائی ہے، انہوں نے سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے، جب میں مصحف کو نقل کر رہا تھا تو مجھے اس میں سورۃ الاحزاب کی ایک آیت نہیں ملی جو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہوئی تھی میں نے اس آیت کو تلاش کیا، تو وہ مجھے سیدنا خزیمہ بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس ملی (وہ آیت یہ ہے) ”اہل ایمان میں سے کچھ لوگ وہ ہیں، جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کیے ہوئے وعدے کو سچ ثابت کر دکھایا۔“ تو میں نے اس آیت کو اس سورت میں مصحف میں شامل کر لیا۔ ابن شہاب بیان کرتے ہیں: اس موقع پر لوگوں کے درمیان تابوت کے بارے میں اختلاف ہوا تو سیدنا زید رضی اللہ عنہ کا یہ کہنا تھا کہ اس کی قرأت تابوہ ہو گی جبکہ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ اور سیدنا سعید بن العاص رضی اللہ عنہ کا کہنا تھا یہ لفظ تابوت ہے جب ان کے اختلاف کا معاملہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے سامنے پیش کیا گیا تو انہوں نے فرمایا: تم لوگ اسے تابوت لکھو کیونکہ یہ قریش کے محاور ے کے مطابق ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4506]
تخریج الحدیث: «0»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: خ (4987 و 4988).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
(1) إسناده صحيح على شرطهما استحر: اشتد وكثُر. (2) إسناده صحيح على شرطهما (3) إسناده صحيح على شرطهما Null (4)
الرواة الحديث:
عثمان بن عفان ← زيد بن ثابت الأنصاري