🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
27. باب في الخلافة والإمارة - ذكر الجواز للمرء أن يتخذ الكاتب لنفسه لما يعترضه من أحوال الدين في الأسباب-
خلافت و امارت کا بیان - دینی معاملات اور اسباب کے پیش آنے پر شخص کے لیے اپنے لیے کاتب مقرر کرنے کا جواز
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4507
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ السَّبَّاقِ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ حَدَّثَهُ، قَالَ:" أَرْسَلَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ إِِلَيَّ مَقْتَلَ أَهْلِ الْيَمَامَةِ، فَإِِذَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ عِنْدَهُ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: إِِنَّ عُمَرَ جَاءَنِي، فَقَالَ لِي: إِِنَّ الْقَتْلَ قَدِ اسْتَحَرَّ بِأَهْلِ الْيَمَامَةِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، وَإِِنِّي أَخْشَى أَنْ يَسْتَحِرَّ الْقَتْلُ فِي الْمَوَاطِنِ فَيَذْهَبُ كَثِيرٌ مِنَ الْقُرْآنِ لا يُوعَى، وَإِِنِّي أُرِيدُ أَنْ تَأْمُرَ بِجَمْعِ الْقُرْآنِ، قَالَ: قُلْتُ: كَيْفَ تَفْعَلُ شَيْئًا لَمْ يَفْعَلْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ عُمَرُ: هُوَ وَاللَّهِ خَيْرٌ، فَلَمْ يَزَلْ يُرَاجِعُنِي بِذَلِكَ حَتَّى شَرَحَ اللَّهُ لِذَلِكَ صَدْرِي وَرَأَيْتُ فِيهِ الَّذِي رَأَى عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ، وَعُمَرُ جَالِسٌ عِنْدَهُ لا يَتَكَلَّمُ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: إِِنَّكَ رَجُلٌ شَابٌّ عَاقِلٌ لا نَتَّهِمُكَ، وَكُنْتَ تُكْتَبُ الْوَحْيَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاتَّبِعِ الْقُرْآنَ فَاجْمَعْهُ. قَالَ: قَالَ زَيْدٌ: فَوَاللَّهِ لَوْ كَلَّفُونِي نَقْلَ جَبَلٍ مِنَ الْجِبَالِ مَا كَانَ بِأَثْقَلَ عَلَيَّ مِمَّا أَمَرَنِي بِهِ مِنْ جَمْعِ الْقُرْآنِ، قَالَ: فَقُلْتُ: وَكَيْفَ تَفْعَلُونَ شَيْئًا لَمْ يَفْعَلْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: هُوَ وَاللَّهِ خَيْرٌ، فَلَمْ يَزَلْ أَبُو بَكْرٍ يُرَاجِعُنِي حَتَّى شَرَحَ اللَّهُ صَدْرِي لِلَّذِي شَرَحَ لَهُ صَدْرَ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ، قَالَ:" فَقُمْتُ أَتَتَبَّعُ الْقُرْآنَ، أَجْمَعُهُ مِنَ الرِّقَاعِ، وَالأَكْتَافِ، وَالْعُسُبِ، وَصُدُورِ الرِّجَالِ، حَتَّى وَجَدْتُ آخِرَ سُورَةِ التَّوْبَةِ مَعَ خُزَيْمَةَ الأَنْصَارِيِّ لَمْ أَجِدْهَا مَعَ غَيْرِهِ: لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ سورة التوبة آية 128، وَكَانَتِ الصُّحُفُ الَّتِي جَمَعْتُ فِيهَا الْقُرْآنَ عِنْدَ أَبِي بَكْرٍ حَيَاتَهُ حَتَّى تَوَفَّاهُ اللَّهُ، ثُمَّ عِنْدَ عُمَرَ حَتَّى تَوَفَّاهُ اللَّهُ، ثُمَّ عِنْدَ حَفْصَةَ بِنْتِ عُمَرَ" . قَالَ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ، وَأَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ" أَنَّهُ اجْتَمَعَ لِغَزْوَةِ أَذْرِبِيجَانَ وَأَرْمِينِيَةَ أَهْلِ الشَّامِ، وَأَهْلِ الْعِرَاقِ، فَتَذَاكَرُوا الْقُرْآنَ، فَاخْتَلَفُوا فِيهِ حَتَّى كَادَ يَكُونُ بَيْنَهُمْ قِتَالٌ، قَالَ: فَرَكِبَ حُذَيْفَةُ بْنُ الْيَمَانِ لَمَّا رَأَى اخْتِلافَهُمْ فِي الْقُرْآنِ إِِلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، فَقَالَ: إِِنَّ النَّاسَ قَدِ اخْتَلَفُوا فِي الْقُرْآنِ، حَتَّى إِِنِّي وَاللَّهِ لأَخْشَى أَنْ يُصِيبَهُمْ مَا أَصَابَ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى مِنَ الاخْتِلافِ، فَفَزِعَ لِذَلِكَ عُثْمَانُ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ فَزِعًا شَدِيدًا، وَأَرْسَلَ إِِلَى حَفْصَةَ فَاسْتَخْرَجَ الصُّحُفَ الَّتِي كَانَ أَبُو بَكْرٍ أَمَرَ زَيْدًا بِجَمْعِهَا، فَنَسَخَ مِنْهَا الْمَصَاحِفَ، فَبَعَثَ بِهَا إِِلَى الآفَاقِ، ثُمَّ لَمَّا كَانَ مَرْوَانُ أَمِيرُ الْمَدِينَةِ أَرْسَلَ إِِلَى حَفْصَةَ يَسْأَلُهَا عَنِ الصُّحُفِ لِيُمَزِّقَهَا، وَخَشِيَ أَنْ يُخَالِفَ بَعْضُ الْعَامِ بَعْضًا، فَمَنَعْتُهُ إِِيَّاهَا" . قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: فَحَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ:" لَمَّا تُوُفِّيَتْ حَفْصَةُ، أَرْسَلَ إِِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بِعَزِيمَةٍ لِيُرْسِلَ بِهَا، فَسَاعَةَ رَجَعُوا مِنْ جَنَازَةِ حَفْصَةَ أَرْسَلَ ابْنُ عُمَرَ إِِلَى مَرْوَانَ فَحَرَقَهَا مَخَافَةَ أَنْ يَكُونَ فِي شَيْءٍ مِنْ ذَلِكَ اخْتِلافٌ لَمَّا نَسْخَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ".
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے جنگ یمامہ کے بعد مجھے بلوایا وہاں ان کے پاس سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی بیٹھے ہوئے تھے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: عمر میرے پاس آئے اور انہوں نے مجھ سے کہا: کہ جنگ یمامہ میں بہت سے مسلمان شہید ہو گئے مجھے یہ اندیشہ ہے، اگر مختلف علاقوں میں اسی طرح لوگ شہید ہوتے رہے، تو قرآن کا بہت سا حصہ ضائع ہو جائے گا، جس محفوظ نہیں کیا گیا میں یہ چاہتا ہوں کہ آپ قرآن کو جمع کرنے کا حکم دیں۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے کہا: تم ایک ایسا کام کیسے کر سکتے ہو جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ زیادہ بہتر ہے اس کے بعد یہ مسلسل اس بارے میں بات چیت کرتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں مجھے شرح صدر عطا کر دیا اور اس بارے میں میری بھی وہی رائے ہوئی جو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی ہے (سیدنا زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں) سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ان کے پاس بیٹھے ہوئے تھے انہوں نے کوئی بات نہیں کی سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم ایک نوجوان اور عقلمند آدمی ہو ہم تم پر کوئی الزام عائد نہیں کرتے تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے وحی کو نوٹ کرتے رہے ہو تو تم قرآن کو تلاش کر کے اس کو جمع کرو۔ سیدنا زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: اللہ کی قسم! اگر مجھے وہ کسی پہاڑ کو منتقل کرنے کا پابند کر دیتے تو میرے لیے یہ اتنا مشکل نہ ہوتا جتنا ان کا قرآن جمع کرنے کا حکم دینا مشکل تھا۔ میں نے کہا: آپ لوگ ایک ایسا کام کیسے کر سکتے ہیں جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کیا تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم! یہ کام زیادہ بہتر ہے اس کے بعد سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ مسلسل میرے ساتھ بات چیت کرتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں مجھے بھی وہی شرح صدر عطا کر دیا جو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو عطا کیا تھا۔ سیدنا زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: تو میں نے قرآن کو تلاش کرنے کا کام شروع کر دیا۔ میں نے اسے تحریر کے پرزوں اور لوگوں کے سینوں سے اکٹھا کیا، یہاں تک کہ سورۃ توبہ کی آخری آیات مجھے سیدنا خزیمہ انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس ملیں مجھے یہ آیات ان کے علاوہ اور کسی کے پاس نہیں ملیں۔ تمہارے پاس ایک رسول آیا ہے، جو تم میں سے ہے۔ وہ صحیفہ جسے میں نے جمع کیا تھا وہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس ان کی زندگی میں رہا یہاں تک کہ جب ان کا انتقال ہو گیا تو وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آ گیا، یہاں تک کہ جب ان کا انتقال ہو گیا تو وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس آ گیا۔
ابن شباب بیان کرتے ہیں: سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ بات بتائی ہے وہ آذر بائیجان اور آرمینیا کے ساتھ لڑائی اور اہل شام اور اہل عراق کے ساتھ جنگ میں شریک ہوئے انہوں نے قرآن کے بارے میں بات چیت کی تو اس بارے میں ان کے درمیان اختلاف ہو گیا یہاں تک کہ اس بات کا امکان موجود تھا کہ ان کے درمیان جنگ شروع ہو جائے جب سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ نے لوگوں کے درمیان قرآن کے بارے میں اختلاف دیکھا تو وہ سوار ہو کر سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں آئے اور بولے: لوگوں کا قرآن کے بارے میں اختلاف ہو گیا ہے مجھے یہ اندیشہ ہے انہیں بھی وہی صورت لاحق ہو جائے گی جو یہودیوں اور عیسائیوں کو اختلاف کی وجہ سے لاحق ہوئی تھی، تو سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ اس بات پر انتہائی پریشان ہو گئے انہوں نے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کو پیغام بھجوایا اور وہ صحیفہ نکالا جسے جمع کرنے کا سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سیدنا زید رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تھا اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اس صحیفے کی مختلف نقلیں تیار کروائیں اور انہیں مختلف علاقوں میں بھجوایا پھر جب مروان مدینہ منورہ کا گورنر بنا تو اس نے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کو پیغام بھیجا اور ان سے وہ مصحف منگوایا تاکہ اسے پھاڑ دے اسے یہ اندیشہ تھا کہ بعض لوگ اس حوالے سے بعض کی مخالفت کریں گے تو میں نے اسے ایسا کرنے سے منع کیا۔ ابن شہاب بیان کرتے ہیں: سالم بن عبداللہ نے مجھے یہ بات بتائی ہے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کا جب انتقال ہو گیا تو مروان نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو قسم دے کر یہ پیغام بھجوایا (کہ وہ اس مصحف کو مجھے بھجوا دیں) تو جس وقت سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے جنازے سے واپس آ رہے تھے اس وقت سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے وہ نسخہ مروان کو بھجوا دیا، تو مروان نے اسے جلوا دیا اس اندیشے کے تحت کہ کہیں اس میں اختلاف نہ ہو یعنی اس نسخے سے اختلاف نہ ہو، جو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے نقل تیار کروائی تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4507]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 4490»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عثمان بن عفان، أبو عمروصحابي
👤←👥زيد بن ثابت الأنصاري، أبو سعيد، أبو عبد الله، أبو خارجة، أبو عبد الرحمن
Newزيد بن ثابت الأنصاري ← عثمان بن عفان
صحابي