صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
34. باب في الخلافة والإمارة - ذكر تعوذ المصطفى صلى الله عليه وسلم من إمارة السفهاء-
خلافت و امارت کا بیان - رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فاسق و ناسمجھی کرنے والے حکمرانوں سے پناہ مانگنا
حدیث نمبر: 4514
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَابِطٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِكَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ: يَا كَعْبَ بْنَ عُجْرَةَ" أَعَاذَنَا اللَّهُ مِنْ إِِمَارَةِ السُّفَهَاءِ". قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا إِِمَارَةُ السُّفَهَاءِ؟ قَالَ: " أُمَرَاءُ يَكُونُونَ بَعْدِي لا يَهْتَدُونَ بِهَدْيِي، وَلا يَسْتَنُّونَ بِسُنَّتِي، فَمَنْ صَدَّقَهُمْ بِكِذْبِهِمْ وَأَعَانَهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ، فَأُولَئِكَ لَيْسُوا مِنِّي وَلَسْتُ مِنْهُمْ، وَلا يَرِدُوا عَلَيَّ حَوْضِي، وَمَنْ لَمْ يُصَدِّقْهُمْ بِكِذْبِهِمْ، وَلَمْ يُعِنْهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ، فَهُمْ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُمْ، وَسَيَرِدُونَ عَلَيَّ حَوْضِي، يَا كَعْبَ بْنَ عُجْرَةَ: الصَّوْمُ جُنَّةٌ، وَالصَّدَقَةُ تُطْفِئُ الْخَطِيئَةَ، وَالصَّلاةُ بُرْهَانٌ، أَوْ قَالَ: قُرْبَانٌ، يَا كَعْبَ بْنَ عُجْرَةَ: النَّاسُ غَادِيَانِ: فَمُبْتَاعٌ نَفْسَهُ فَمُعْتِقُهَا، وَبَائِعٌ نَفْسَهُ فَمُوبِقُهَا" .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اے کعب بن عجرہ! اللہ تعالیٰ تمہیں بے وقوفوں کی حکمرانی «إِمَارَةِ السُّفَهَاءِ» سے اپنی پناہ میں رکھے۔“ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! بے وقوفوں کی حکمرانی سے کیا مراد ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میرے بعد کچھ ایسے حکمران آئیں گے جو ہدایت کی پیروی نہیں کریں گے اور نہ ہی میری سنت کی پیروی کریں گے، تو جو شخص ان کے جھوٹ کی تصدیق کرے گا اور ان کے ظلم میں ان کی مدد کرے گا تو ان لوگوں کا مجھ سے کوئی واسطہ نہیں ہوگا اور نہ ہی میرا ان سے کوئی واسطہ ہوگا اور وہ لوگ میرے حوض پر میرے پاس نہیں آ سکیں گے۔ اور جو شخص ان کے جھوٹ میں ان کی تصدیق نہیں کرے گا اور ان کے ظلم میں ان کی مدد نہیں کرے گا اس کا مجھ سے تعلق ہوگا اور میرا اس سے تعلق ہوگا اور وہ عنقریب میرے حوض پر میرے پاس آئے گا۔ اے کعب بن عجرہ! «الصَّوْمُ جُنَّةٌ» ”روزہ ڈھال ہے“، «وَالصَّدَقَةُ تُطْفِئُ الْخَطِيئَةَ» ”صدقہ گناہ کو ختم کر دیتا ہے“، «وَالصَّلَاةُ بُرْهَانٌ» ”نماز برہان ہے“ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) «أَوْ قُرْبَانٌ» ”قربت کے حصول کا ذریعہ ہے“۔ اے کعب بن عجرہ! لوگ صبح کے وقت نکلتے ہیں اور اپنے آپ کا سودا کر لیتے ہیں، تو کوئی شخص اپنے آپ کو (اللہ کی اطاعت کر کے) آزاد کروا دیتا ہے اور کوئی اپنے آپ کو فروخت کر کے اسے غلام بنا دیتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4514]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1723، 4514، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 265، 6084، 7256، 8396، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2818، وأحمد فى (مسنده) برقم: 14665» «رقم طبعة با وزير 4497»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «التعليق الرغيب» (3/ 150)، «الظلال» (756).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 4514 in Urdu
عبد الرحمن بن سابط القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري