الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
109. باب فضل الجهاد - ذكر إيجاب الجنة للمهاجر والغازي على أية حالة أدركتهما المنية في قصدهما-
جہاد کے فضائل کا بیان - اس بات کی وضاحت کہ مہاجر اور مجاہد کو ان کے ارادے پر موت آجانے کی صورت میں جنت واجب ہے
حدیث نمبر: 4593
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَقِيلٍ الثَّقَفِيُّ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ الْمُسَيَّبِ ، أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ سَبْرَةَ بْنِ أَبِي فَاكِهٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِِنَّ الشَّيْطَانَ قَعَدَ لابْنِ آدَمَ بِطَرِيقِ الإِِسْلامِ، فَقَالَ لَهُ: تَسْلَمُ وَتَذَرُ دِينَكَ وَدِينَ آبَائِكَ، فَعَصَاهُ فَأَسْلَمَ فَغَفَرَ لَهُ، فَقَعَدَ لَهُ بِطَرِيقِ الْهِجْرَةِ، فَقَالَ لَهُ: تُهَاجِرُ وَتَذَرُ أَرْضَكَ وَسَمَاءَكَ، فَعَصَاهُ فَهَاجَرَ، فَقَعَدَ لَهُ بِطَرِيقِ الْجِهَادِ، فَقَالَ لَهُ: تُجَاهِدُ وَهُوَ جَهْدُ النَّفْسِ، وَالْمَالِ، فَتُقَاتِلُ فَتَقْتُلُ، فَتُنْكَحُ الْمَرْأَةُ، وَيُقْسَمُ الْمَالُ، فَعَصَاهُ فَجَاهِدَ"، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ فَمَاتَ، كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ، أَوْ قُتِلَ كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ، وَإِِنْ غَرِقَ كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ، أَوْ وَقَصَتْهُ دَابَّةٌ كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةُ" .
سیدنا سبرہ بن ابوفاکہہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”بے شک شیطان، انسان (کو گمراہ کرنے) کیلئے اسلام کے راستے میں بیٹھ جاتا ہے وہ اس سے دریافت کرتا ہے کیا تم اسلام قبول کرنے لگے ہو اور اپنے دین کو اور اپنے آباؤ اجداد کے دین کو ترک کرنے لگے ہو؟ اگر آدمی اس کی بات کو نہ مانے اور اسلام قبول کر لے تو اس کی مغفرت ہو جاتی ہے پھر شیطان اسے (پھنسانے کیلئے) ہجرت کے راستے میں بیٹھتا ہے۔ شیطان اس سے کہتا ہے: کیا تم ہجرت کرنے لگے ہو تم اپنی زمین اور آسمان کو چھوڑنے لگے ہو اگر وہ شخص اس شیطان کی نافرمانی کر کے ہجرت کر لے تو پھر شیطان اس کو (گمراہ کرنے کیلئے) جہاد کے راستے میں بیٹھتا ہے۔ شیطان اس سے کہتا ہے تم جہاد میں حصہ لینے لگے ہو یہ تو جان اور مال دونوں کے ساتھ ہوتا ہے تم لڑائی میں حصہ لو گے تو تم مارے جاؤ گے تمہاری بیوی کہیں اور شادی کر لے گی۔ تمہارا مال تقسیم ہو جائے گا۔ آدمی اس کی بات نہیں مانتا اور جہاد میں حصہ لے لیتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص ایسا کرتا ہے اور پھر انتقال کر جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے ذمے یہ بات لازم ہے وہ اس شخص کو جنت میں داخل کرے اور جو شخص (جہاد کے دوران) قتل ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے ذمے یہ بات لازم ہے اسے جنت میں داخل کرے اور اگر وہ شخص ڈوب کر مر جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے ذمے یہ بات لازم ہے وہ اسے جنت میں داخل کرے اور اگر وہ شخص اپنی سواری سے گر کر مر جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے ذمے یہ بات لازم ہے، اسے جنت میں داخل کرے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4593]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 4574»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «التعليق الرغيب» (2/ 173).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده قوي
الرواة الحديث:
سالم بن أبي الجعد الأشجعي ← سبرة بن أبي الفاكه المخزومي