الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
110. باب فضل الجهاد - ذكر البيان بأن الجهاد في سبيل الله من أحب الأعمال إلى الله جل وعلا-
جہاد کے فضائل کا بیان - وضاحت کہ اللہ کے نزدیک جہاد سب سے محبوب اعمال میں سے ہے
حدیث نمبر: 4594
أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَاصِمٍ الأَنْصَارِيُّ بِدِمَشْقَ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلامٍ ، قَالَ: جَلَسْتُ فِي نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: أَيُّكُمْ يَأْتِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَسْأَلَهُ: أَيُّ الأَعْمَالِ أَحَبُّ إِِلَى اللَّهِ؟ قَالَ: فَهِبْنَا أَنْ يَسْأَلَهُ مِنَّا أَحَدٌ، قَالَ: فَأَرْسَلَ إِِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُفْرِدُنا رَجُلا رَجُلا، يَتَخَطَّى غَيْرَنَا، فَلَمَّا اجْتَمَعْنَا عِنْدَهُ أَوْمَأَ بَعْضُنَا إِِلَى بَعْضٍ لأَيِّ شَيْءٍ أَرْسَلَ إِِلَيْنَا؟ فَفَزِعْنَا أَنْ يَكُونَ نَزَلَ فِينَا، قَالَ: " فَقَرَأَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: سَبَّحَ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَوَاتِ وَمَا فِي الأَرْضِ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لِمَ تَقُولُونَ مَا لا تَفْعَلُون سورة الصف آية 1 - 2 َ". قَالَ: فَقَرَأَ مِنْ فَاتِحَتِهَا إِِلَى خَاتِمَتِهَا ، ثُمَّ قَرَأَ يَحْيَى مِنْ فَاتِحَتِها إِِلَى خَاتِمَتِهَا، ثُمَّ قَرَأَ الأَوْزَاعِيُّ مِنْ فَاتِحَتِهَا إِِلَى خَاتِمَتِهَا، وَقَرَأَهَا الْوَلِيدُ مِنْ فَاتِحَتِهَا إِِلَى خَاتِمَتِهَا.
سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ صحابہ کرام کے درمیان بیٹھا ہوا تھا میں نے کہا: آپ میں سے کون نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جا کر آپ سے یہ سوال کرے گا کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک کون سا عمل زیادہ پسندیدہ ہے؟ راوی بیان کرتے ہیں: تو ہم اس بات سے گھبرا گئے کہ ہم میں سے کوئی ایک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کرے۔ راوی بیان کرتے ہیں: پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک، ایک کر کے بلایا آپ نے صرف ہمیں بلایا ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں اکٹھے ہو گئے تو ہم میں سے کسی ایک نے دوسرے کی طرف اشارہ کر کے دریافت کیا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کیوں بلایا ہے؟ ہمیں اس بات کا اندیشہ ہوا کہ کہیں ہمارے بارے میں (قرآن کا کوئی حکم) نازل نہ ہو گیا ہو۔ راوی بیان کرتے ہیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے سامنے یہ آیت تلاوت کی۔ ”اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرتی ہے ہر وہ چیز جو آسمانوں میں ہے اور زمین میں ہے اور وہ غالب اور حکمت والا ہے اے ایمان والو! تم وہ بات کیوں کہتے ہو، جو تم کرتے نہیں ہو۔“ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شروع سے لے کر آخر تک یہ سورۃ ہمارے سامنے تلاوت کی۔ (راوی بیان کرتے ہیں) پھر یحیی نامی راوی نے بھی (یہ روایت نقل کرتے ہوئے) یہ سورۃ شروع سے لے کر آخر تک تلاوت کی۔ پھر اوزاعی نامی راوی نے بھی یہ سورۃ شروع سے لے کر آخر تک تلاوت کی۔ پھر ولید نامی راوی نے بھی یہ سورۃ شروع سے لے کر آخر تک تلاوت کی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4594]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 4575»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن صحيح - انظر التعليق. * [هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ] قال الشيخ: قلت: هو من شيوخ البخاري، وهو صدوق، وفيه كلام معروف. لكن تابعَه جَمعٌ: عند الدارمي (2/ 201)، والطبراني في «الكبير» (13/ 169 / 406)، والحاكم (2/ 69 و 228 - 229 و 486 - 487)، مِنْ طريقٍ أُخرى عَنِ الأوزاعيِّ ... به. وقال الحاكم: «صحيح على شرط الشيخين»، ووافقه الذهبي. وخالفَهم عبد الله بن المبارك، فقال: أنا الأوزاعي: ثنا يحيى بن أبي كثير: حدثني هلالُ بنُ أبي مَيمونة، أَنَّ عطاء بن يسار حَدَّثه، أَنَّ عبد اللهِ بن سلامٍ حدَّثه - أو قال: حدَّثني أبُو سلمة بن عبد الرحمن، عن عبد الله بن سلام - ... به. أخرجه أحمد (5/ 452)، وأبو يعلى (7497)، والطبرانيُّ (407). وهذا سندٌ صحيحُ، والشكُّ الذي فيه لا يضر؛ لأنَّه انتقالٌ أو ترددٌ بين صحيح وصحيح؛ لا سيَّما وفي رواية لأحمد .. عن أبي سلمة، وعطاء بن يسار، عن أبي سلمة، عن عبد الله بن سلام.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن
الرواة الحديث:
أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← عبد الله بن سلام الخزرجي