صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
124. باب فضل الجهاد - ذكر تمثيل النبي صلى الله عليه وسلم غزاة البحر بالملوك على الأسرة-
جہاد کے فضائل کا بیان - نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بحری جہاد کرنے والوں کو تختوں پر بادشاہوں سے تشبیہ دینا
حدیث نمبر: 4608
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ خَالَتِهِ أُمِّ حَرَامٍ بِنْتِ مِلْحَانَ ، أَنَّهَا قَالَتْ: نَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا قَرِيبًا مِنِّي، ثُمَّ اسْتَيْقَظَ يَتَبَسَّمُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا أَضْحَكَكَ؟ قَالَ: " نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي عُرِضُوا عَلَيَّ، يَرْكَبُونَ ظَهْرَ هَذَا الْبَحْرِ الأَخْضَرِ كَالْمُلُوكِ عَلَى الأَسِرَّةِ". قَالَتْ: فَادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، فَدَعَا لَهَا، ثُمَّ نَامَ الثَّانِيَةَ فَفَعَلَ مِثْلَهَا، فَقَالَتْ مِثْلَ قَوْلِهَا، فَأَجَابَهَا مِثْلَ قَوْلِهَا الأَوَّلِ، قَالَتْ: فَادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، قَالَ: أَنْتِ مِنَ الأَوَّلِينَ. فَخَرَجَتْ مَعَ زَوْجِهَا عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ غَازِيَةً أَوَّلَ مَا رَكِبَ الْمُسْلِمُونَ الْبَحْرَ مَعَ مُعَاوِيَةَ، فَلَمَّا انْصَرَفُوا مِنْ غَزَاتِهِمْ قَرَّبَ إِِلَيْهَا دَابَّتِهَا لِتَرْكَبَهَا فَصُرِعَتْ فَمَاتَتْ . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: قَبْرُهَا بِجَزِيرَةٍ فِي بَحْرِ الرُّومِ، يُقَالُ لَهَا: قُبْرُسُ مِنَ الْمُسْلِمِينَ إِِلَيْهَا قَلْعُ ثَلاثَةِ أَيَّامٍ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ اپنی خالہ سیدہ ام حرام بنت ملحان رضی اللہ عنہا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں سو گئے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے تو مسکرا رہے تھے میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کیوں مسکرا رہے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگ میرے سامنے پیش کیے گئے جو اس سبز سمندر پر یوں سوار تھے جس طرح بادشاہ اپنے تختوں پر بیٹھے ہوئے ہوتے ہیں۔ سیدہ ام حرام رضی اللہ عنہا نے عرض کی: آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ مجھے بھی ان میں شامل کر دے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون کیلئے دعا کر دی پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دوسری مرتبہ سوئے پھر ایسا ہی ہوا اس خاتون نے اسی کی مانند بات کہی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی کی مانند جواب دیا: جو پہلے دیا تھا اس خاتون نے عرض کیا: آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ مجھے بھی ان میں شامل کر دے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم پہلے والوں میں ہو۔ (راوی بیان کرتے ہیں) وہ خاتون اپنے شوہر سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے ہمراہ جہاد میں حصہ لینے کیلئے گئی تھیں یہ اس پہلی جنگ کی بات ہے جس میں مسلمانوں نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے عہد حکومت میں سمندر میں جنگ کی تھی جب یہ خاتون اس جنگ سے واپس تشریف لائی ان کی سواری ان کے قریب کی گئی یہ اس پر سوار ہوئی تو یہ اس سے گر گئی اور ان کا انتقال ہو گیا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس خاتون کی قبر بحر روم میں ایک جزیرے میں ہے اس جزیرے کو قبرس کہا: جاتا ہے۔ مسلمانوں کے علاقے سے وہاں تک تین دن کا سفر ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4608]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 4589»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (2249 - 2250): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
الرواة الحديث:
أنس بن مالك الأنصاري ← أم حرام بنت ملحان الأنصارية