صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
132. باب فضل الجهاد - ذكر وصف الدرجة التي يعطيها الله لمن بلغ سهما في سبيله-
جہاد کے فضائل کا بیان - اس درجے کی صفت کا بیان جو اللہ تعالیٰ اپنی راہ میں تیر پہنچانے والے کو دیتا ہے
حدیث نمبر: 4616
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ السِّمْطِ ، قَالَ: قُلْنَا لِكَعْبِ بْنِ مُرَّةَ : يَا كَعْبُ، حَدِّثْنَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاحْذَرْ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ بَلَغَ الْعَدُوَّ بِسَهْمٍ رَفَعَ اللَّهُ بِهِ دَرَجَةً لَهُ". فَقَالَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ النَّحَّامِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا الدَّرَجَةُ؟ قَالَ:" أَمَا إِِنَّهَا لَيْسَتْ بِعَتَبَةِ أُمِّكَ، مَا بَيْنَ الدَّرَجَتَيْنِ مِائَةُ عَامٍ" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: قَوْلُهُمْ لِكَعْبِ بْنِ مُرَّةَ: حَدِّثْنَا وَاحْذَرْ، يُرِيدُونَ بِقَوْلِهِمْ: وَاحْذَرْ أَنْ لا تَزِلَّ فَتُزِيدَ أَوْ تَنْقُصَ، وَلَمْ يُرِيدُوا بِقَوْلِهِمْ: وَاحْذَرْ أَنْ لا تَكْذِبَ لأَنَّهُمْ كُلُّهُمْ عُدُولٌ رَحِمَهُمُ اللَّهُ وَأَلْحَقَنَا بِهِمْ.
شرحبیل بن سمط بیان کرتے ہیں: ہم نے سیدنا کعب بن مرہ رضی اللہ عنہ سے کہا: اے سیدنا کعب رضی اللہ عنہ آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے ہمیں کوئی حدیث بیان کیجئے اور احتیاط کیجئے گا، تو انہوں نے بتایا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو شخص دشمن کو تیر مارتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اس کا درجہ بلند کر دیتا ہے۔“ تو سیدنا عبدالرحمن بن نحام رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! درجے سے مراد کیا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ (تمہاری والدہ کے گھر کی) چوکھٹ کی طرح نہیں ہے، بلکہ دو درجوں کے درمیان ایک سو سال کی مسافت کا فاصلہ ہوتا ہے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) لوگوں کا سیدنا کعب بن مرہ رضی اللہ عنہ سے یہ کہنا کہ آپ ہمیں حدیث بیان کیجئے اور احتیاط کیجئے گا اس قول کے ذریعے ان کی مراد یہ تھی کہ آپ اس بات سے احتیاط کیجئے گا کہ کہیں آپ غلطی نہ کر جائیں اور زیادہ یا کم الفاظ نہ بیان کریں ان لوگوں کی یہ مراد نہیں تھی کہ آپ غلط بیانی کرنے سے احتیاط کیجئے گا، کیونکہ تمام صحابہ عادل ہیں اللہ تعالیٰ ان پر رحم کرے اور ہمیں بھی (آخرت میں) ان کا ساتھ نصیب کرے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4616]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 4597»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - المصدر نفسه.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
الرواة الحديث:
شرحبيل بن السمط الكندي ← كعب بن مرة البهزي