یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
199. باب حسن الخلق - ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن هذا الخبر تفرد به عبدة بن سليمان
حسنِ اخلاق کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اُن لوگوں کے قول کو باطل کرتی ہے جنہوں نے گمان کیا کہ یہ حدیث صرف عبدالہ بن سلیمان نے روایت کی ہے۔
حدیث نمبر: 470
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ بِالصُّغْدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الأَوْدِيِّ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَلا أُخْبِرُكُمْ بِمَنْ تُحَرَّمُ عَلَيْهِ النَّارُ؟" قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" عَلَى كُلِّ هَيِّنٍ، لَيِّنٍ، قَرِيبٍ، سَهْلٍ" .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”تمہیں اس شخص کے بارے میں نہ بتاؤں جس پر جہنم کو حرام قرار دیا گیا ہے؟ لوگوں نے عرض کی: جی ہاں، یا رسول اللہ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر آسان ”نرم“ قریب اور سہل شخص۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 470]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 469، 470، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2488، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4017، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 5053، 5060، والطبراني فى(الكبير) برقم: 10562» «رقم طبعة با وزير 470»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
صحيح بشواهده.
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 470 in Urdu
عبد الله بن عمرو الأودي ← عبد الله بن مسعود