صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
227. باب فرض الجهاد - ذكر الإخبار عما يجب على المرء من ترك الاتكال على لزوم عمارة أرضه وصلاح أحواله دون التشمير للجهاد في سبيل الله-
فرضِ جہاد کا بیان - یہ بیان کہ اپنی زمین کی آبادکاری اور دنیاوی اصلاحات پر مکمل انحصار چھوڑ کر جہاد کے لیے تیار رہنا لازم ہے
حدیث نمبر: 4711
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الضَّحَّاكِ بْنِ مَخْلَدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ يَزِيدَ بْنَ أَبِي حَبِيبٍ ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي أَسْلَمُ أَبُو عِمْرَانَ مَوْلًى لِكِنْدَةَ، قَالَ: كُنَّا بِمَدِينَةِ الرُّومِ، فَأَخْرَجُوا إِلَيْنَا صَفًّا عَظِيمًا، مِنَ الرُّومِ، وَخَرَجَ إِلَيْهِمْ مِثْلُهُ، أَوْ أَكْثَرُ، وَعَلَى أَهْلِ مِصْرَ عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَحَمَلَ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ عَلَى صَفِّ الرُّومِ، حَتَّى دَخَلَ فِيهِمْ، فَصَاحَ بِهِ النَّاسُ، وَقَالُوا: سُبْحَانَ اللَّهِ، تُلْقِي بِيَدِكَ إِلَى التَّهْلُكَةِ، فَقَامَ أَبُو أَيُّوبَ الأَنْصَارِيُّ ، فَقَالَ:" أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّكُمْ تَتَأَوَّلُونَ هَذِهِ الآيَةَ عَلَى هَذَا التَّأْوِيلِ، إِنَّمَا نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ فِينَا مَعْشَرَ الأَنْصَارِ، إِنَّا لَمَّا أَعَزَّ اللَّهُ الإِسْلامَ وَكَثَّرَ نَاصِرِيهِ، قُلْنَا بَعْضُنَا لِبَعْضٍ سِرًّا، مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ إِنَّ أَمْوَالَنَا قَدْ ضَاعَتْ، وَإِنَّ اللَّهَ قَدْ أَعَزَّ الإِسْلامَ وَكَثَّرَ نَاصِرِيهِ، فَلَوْ أَقَمْنَا فِي أَمْوَالِنَا، فَأَصْلَحْنَا مَا ضَاعَ مِنَّا، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَلَى نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرُدُّ عَلَيْنَا مَا قُلْنَا: وَأَنْفِقُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ وَأَحْسِنُوا إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ سورة البقرة آية 195، فَكَانَتِ التَّهْلُكَةُ الإِقَامَةَ فِي أَمْوَالِنَا، وَإِصْلاحَهَا، وَتَرْكَنَا الْغَزْوَ" ، قَالَ: وَمَا زَالَ أَبُو أَيُّوبَ شَاخِصًا، فِي سَبِيلِ اللَّهِ، حَتَّى دُفِنَ بِأَرْضِ الرُّومِ.
ابوعمران اسلم بیان کرتے ہیں: ہم لوگ روم کے ایک شہر میں تھے تو اہل روم کی طرف سے ایک بڑا لشکر ہمارے سامنے آ گیا۔ ان کی طرف سے بھی ایک بڑا لشکر گیا تھا۔ جو شاید ان سے زیادہ تھے۔ ان دنوں مصر کے گورنر سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ تھے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں۔ مسلمانوں کا ایک شخص اہل روم کی صف میں داخل ہو گیا لوگوں نے بلند آواز میں چیخ کر کہا: سبحان اللہ تم اپنے ہاتھ کو ہلاکت میں ڈال رہے ہو تو سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے انہوں نے فرمایا: اے لوگو! تم اس آیت کی یہ تاویل کرتے ہو حالانکہ یہ آیت ہمارے یعنی انصار کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔ جب اللہ تعالیٰ نے اسلام کو غلبہ عطا کر دیا اور اس کے مددگار بکثرت ہو گئے تو ہم میں سے کسی ایک نے دوسرے سے خفیہ طور پر یہ بات کہی تمہارے اموال ضائع ہو گئے اور اللہ تعالیٰ نے اسلام کو عزت عطا کر دی اور اس کے مددگار زیادہ ہو گئے اب اگر ہم اپنی کھیتی باڑی کی طرف دھیان دیں اور اپنے نقصان کو ٹھیک کرنے کی کوشش کریں (تو یہ مناسب ہو گا) تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی پر یہ بات نازل کی جس میں ہماری اس بات کا جواب دیا: ”تم لوگ اللہ کی راہ میں خرچ کرو اور تم اپنے ہاتھوں کو ہلاکت میں نہ ڈالو اور اچھائی کرو بے شک اللہ تعالیٰ اچھائی کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔“ تو ہلاکت یہ ہے: آدمی اپنی کھیتی باڑی میں مشغول رہے اور اسے ٹھیک کرے اور جنگ کو ترک کر دے۔ راوی بیان کرتے ہیں: اس کے بعد سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ ہمیشہ اللہ کی راہ میں جہاد کرتے رہے یہاں تک کہ انہیں روم کی سرزمین پر دفن کیا گیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4711]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 4691»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (13).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
الرواة الحديث:
أسلم بن يزيد المصري ← أبو أيوب الأنصاري