صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
288. باب الخروج وكيفية الجهاد - ذكر الإخبار عما يجب على المرء من التصبر تحت ظلال السيوف في سبيل الله-
خروج اور جہاد کا طریقہ کا بیان - آدمی پر لازم ہے کہ وہ اللہ کی راہ میں تلواروں کے سائے تلے صبر و استقامت اختیار کرے
حدیث نمبر: 4772
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ النَّضْرِ، تَغَيَّبَ عَنْ قِتَالِ بَدْرٍ، وَقَالَ: " تَغَيَّبْتُ عَنْ أَوَّلِ مَشْهَدٍ شَهِدَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَاللَّهِ لَئِنْ أَرَانِي اللَّهُ قِتَالا لَيَرَيَنَّ مَا أَصْنَعُ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ انْهَزَمَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَقْبَلَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ، يَقُولُ: أَيْنَ، أَيْنَ؟ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، إِنِّي لأَجِدُ رِيحَ الْجَنَّةِ دُونَ أُحُدٍ، قَالَ: فَحَمَلَ، فَقَاتَلَ، فَقُتِلَ، فَقَالَ سَعْدٌ: وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا أَطَقْتُ مَا أَطَاقَ، فَقَالَتْ أُخْتُهُ: وَاللَّهِ مَا عَرَفْتُ أَخِي إِلا بِحُسْنِ بَنَانِهِ، فَوُجِدَ فِيهِ بِضْعٌ وَثَمَانُونَ جِرَاحَةً ضَرْبَةُ سَيْفٍ، وَرَمْيَةُ سَهْمٍ، وَطَعْنَةُ رُمْحٍ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ: مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ، فَمِنْهُمْ مَنْ قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ يَنْتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلا سورة الأحزاب آية 23" ، قَالَ حَمَّادٌ: وَقَرَأْتُ فِي مُصْحَفِ أَبِي، وَمِنْهُمْ مَنْ بَدَّلَ تَبْدِيلا.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا انس بن نضر رضی اللہ عنہ غزوہ بدر میں شریک نہیں ہو سکے تھے۔ انہوں نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو سب سے پہلے غزوہ کیا تھا میں اس میں شریک نہیں ہو سکا اللہ کی قسم! اگر اللہ نے اب مجھے جنگ کا موقع دیا تو اللہ تعالیٰ اس بات کو ظاہر کر دے گا کہ میں کیا کرتا ہوں، پھر غزوہ احد کا موقع آیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب پسپا ہوئے تو سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نے یہ کہنا شروع کر دیا۔ کہاں ہے کہاں ہے اللہ کی ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے مجھے جنت کی خوشبو محسوس ہو رہی ہے، جو احد کے دوسری طرف ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں: انہوں نے حملہ کیا لڑائی کی اور شہید ہو گئے تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کی: اللہ کی قسم! یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! جو انہوں نے کیا ہے اس کی میں طاقت نہیں رکھتا۔ ان کی بہن بیان کرتی ہیں: ان کی پوروں سے پہچانا تھا۔ ان کے جسم پر تلوار کی ضرب، تیر لگنے اور نیزہ لگنے کے 80 سے زیادہ زخم تھے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی۔ ”اہل ایمان میں سے کچھ وہ لوگ ہیں، جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کیے ہوئے وعدے کو سچ کر دکھایا۔ ان میں میں سے کچھ لوگوں نے اپنی نذر کو پورا کر دیا اور ان میں سے کچھ لوگ ابھی انتظار کر رہے ہیں۔ انہوں نے کوئی تبدیلی نہیں کی۔“ حماد نامی راوی کہتے ہیں: میں نے اپنے والد کے مصحف میں یہ آیت یوں پڑھی ہے: ”ان میں سے ایک وہ شخص ہے جس نے تبدیلی کر دی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4772]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 4752»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: م (1903).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
الرواة الحديث:
ثابت بن أسلم البناني ← أنس بن مالك الأنصاري