الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
303. باب الخروج وكيفية الجهاد - ذكر البيان بأن خبر الصعب بن جثامة منسوخ نسخه خبر ابن عمر الذي ذكرناه قبل-
خروج اور جہاد کا طریقہ کا بیان - حدیث ابن جثامہ صعب کے متعلق نسخ (منسوخ ہونا) کا بیان بمقابلہ جو پہلے ابن عمر سے نقل کیا گیا
حدیث نمبر: 4787
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ ، قَالَ: كَانَ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلاثَةَ أَحَادِيثَ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَوْلادِ الْمُشْرِكِينَ، أَنْ نَقْتُلَهُمْ مَعَهُمْ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَإِنَّهُمْ مِنْهُمْ، ثُمَّ نَهَى عَنْهُمْ يَوْمَ حُنَيْنٍ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا حِمَى إِلا لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ" . قَالَ: فَصِدْتُ لَهُ حِمَارَ وَحْشٍ بِالأَبْوَاءِ وَهُوَ مُحْرِمٌ، فَرَدَّ ذَلِكَ، فَعَرَفَ ذَلِكَ فِي وَجْهِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّا لَمْ نَرُدَّهُ عَلَيْكَ إِلا أَنَّا حُرُمٌ" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سیدنا صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں: وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے تین احادیث بیان کیا کرتے تھے وہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین کی اولاد کے بارے میں دریافت کیا: کیا ہم ان کے ہمراہ انہیں بھی قتل کر دیں گے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: جی ہاں، کیونکہ وہ ان کا حصہ ہیں، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ حنین کے موقع پر اس سے منع کر دیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: چراگاہ صرف اللہ اور اس کے رسول کے لیے مخصوص ہے۔ (تیسری روایت یہ ہے) میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ابواء کے مقام پر زیبرے کا شکار کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت حالت احرام میں تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قبول نہیں کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے چہرے پر (پریشانی) کے آثار دیکھے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہم نے یہ تمہیں صرف اس لیے واپس کیا ہے کیونکہ ہم حالت احرام میں ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4787]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 4767»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن صحيح: خ دون الحديث الأول - انظر (136).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن
الرواة الحديث:
عبد الله بن العباس القرشي ← الصعب بن جثامة الليثي