الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
304. باب الخروج وكيفية الجهاد - ذكر الخبر الدال على أن الصبيان إذا قاتلوا قوتلوا-
خروج اور جہاد کا طریقہ کا بیان - اس خبر کا ذکر کہ اگر بچے لڑیں تو انہیں لڑنے پر لڑا جائے (یعنی لڑنا ان پر لازم)
حدیث نمبر: 4788
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَطِيَّةَ الْقُرَظِيِّ ، قَالَ: " كُنْتُ فِيمَنْ حَكَمَ فِيهِمْ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ، فَشَكُّوا فِيَّ، أَمِنَ الذُّرِّيَّةِ أَنَا أَمْ مِنَ الْمُقَاتِلَةِ؟ فَنَظَرُوا إِلَى عَانَتِي، فَلَمْ يَجِدُوهَا نَبَتَتْ، فَأُلْقِيتُ فِي الذُّرِّيَّةِ، وَلَمْ أُقْتَلْ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: لَمَّا جَعَلَ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْفَرْقَ بَيْنَ مَنْ يُقْتَلَ وَبَيْنَ مَنْ يُسْتَبْقَى مِنَ السَّبْيِ الإِنْبَاتَ، ثُمَّ أَمَرَ بِقَتْلِ مَنْ أَنْبَتَ صَحَّ أَنَّ الْعِلَّةَ فِيهِ أَنَّ مَنْ أَنْبَتَ كَانَ بَالِغًا يَجُوزُ أَنْ يُقَاتَلَ، وَلَمَّا صَحَّ مَا وَصَفْتُ مِنَ الْعِلَّةِ، كَانَ فِيهَا الدَّلِيلُ عَلَى أَنَّ الصِّبْيَانَ وَالنِّسَاءَ مِنْ دُورِ الْحَرْبِ إِذَا قَاتِلُوا قُوتِلُوا، إِذِ الْعِلَّةُ الَّتِي مِنْ أَجْلِهَا رُفِعَ عَنْهُمُ الْقَتْلُ، عُدِمَتْ فِيهِمْ، وَهِيَ مُجَانَبَةُ الْقِتَالِ.
عطیہ قرظی بیان کرتے ہیں: میں ان لوگوں میں شامل تھا جن کے بارے سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نے فیصلہ دیا تھا انہیں میرے بارے میں شک ہوا کہ کیا میں نابالغ بچوں میں شمار ہوں گا یا جنگ کرنے والوں میں شمار ہوں گا۔ جب انہوں نے میرے زیر ناف حصے کا جائزہ لیا تو انہیں وہاں بال اگے ہوئے نہیں ملے تو مجھے بچوں میں شامل کر لیا گیا اور مجھے قتل نہیں کیا گیا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قتل کیے جانے والے اور چھوڑ دیئے جانے والے قیدیوں کے بارے میں یہ فرق بیان کیا ہے وہ زیر ناف بالوں کا اگنا ہے اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو قتل کرنے کا حکم دیا جن کے زیر ناف بال اگ چکے ہوں، تو یہ بات ثابت ہو جائے گی اس میں علت یہ ہے: جس کے زیر ناف بال اگ چکے ہوں وہ بالغ شمار ہو گا اور اسے قتل کرنا جائز ہو گا اور جب یہ بات صحیح طور پر ثابت ہو گئی جو علت میں نے بیان کی ہے تو اس میں اس بات کی دلیل موجود ہو گی کہ غیر مسلموں کے علاقوں سے تعلق رکھنے والے وہ بچے اور خواتین اگر جنگ میں حصہ لیں، تو انہیں قتل کر دیا جائے گا کیونکہ وہ علت جس کی وجہ سے ان سے قتل کا حکم اٹھا لیا گیا تھا وہ ان میں معدوم ہو گی، اور وہ علت جنگ سے الگ رہنا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4788]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 4768»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - مضى (4760). تنبيه!! رقم (4760) = (4780) من طبعة المؤسسة، - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
الرواة الحديث:
عبد الملك بن عمير اللخمي ← عطية القرظي