صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
358. باب الغنائم وقسمتها - ذكر البيان بأن سلب القتيل يكون للقاتل سواء كان المقتول منابذا أو موليا-
غنائم اور ان کی تقسیم کا بیان - وضاحت کہ مقتول کا سلب قاتل کو ملے گا خواہ مقتول لڑنے والا ہو یا پیٹھ پھیرنے والا
حدیث نمبر: 4843
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ: غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَوَازِنَ، فَبَيْنَا نَحْنُ قُعُودٌ نَتَضَحَّى إِذَا رَجُلٌ عَلَى جَمَلٍ أَحْمَرَ، فَانْتَزَعَ طَلَقًا مِنْ حَقْوِ الْبَعِيرِ فَقَيَّدَ بِهِ بَعِيرَهُ، ثُمَّ جَاءَ حَتَّى يَتَغَدَّى، فَنَظَرَ فِي وجُوهِ الْقَوْمِ، فَإِذَا ظَهْرُهُمْ فِيهِ رِقَّةٌ وَأَكْثَرُهُمْ مُشَاةٌ، فَلَمَّا نَظَرَ فِي وجُوهِ الْقَوْمِ خَرَجَ يَعْدُو حَتَّى أَتَى بَعِيرَهُ، فَقَعَدَ عَلَيْهِ يُرْكِضُهُ وَهُوَ طَلِيعَةٌ لِلْكُفَّارِ، فَاتَّبَعَهُ رَجُلٌ مِنَّا مِنْ أَسْلَمَ عَلَى نَاقَةٍ لَهُ وَرْقَاءَ، قَالَ إِيَاسٌ: قَالَ أَبِي: فَاتَّبَعْتُهُ أَعْدُو وَاخْتَرَطْتُ سَيْفِي، فَضَرَبْتُ رَأْسَهُ، ثُمَّ جِئْتُ بِنَاقَتِهِ أَقُودُهَا عَلَيْهَا سَلَبُهُ، فَاسْتَقْبَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ النَّاسِ، فَقَالَ: " مَنْ قَتَلَ الرَّجُلَ؟" قَالَ: ابْنُ الأَكْوَعِ، قُلْتُ: أَنَا، قَالَ:" لَكَ سَلَبُهُ أَجْمَعُ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ:" هَذَا النَّوْعُ لَوِ اسْتَقْصَيْنَا فِيهِ لَدَخَلَ فِيهِ أَكْثَرُ السُّنَنِ، لأَنَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُبَيِّنُ عَنْ مُرَادٍ اللَّهِ جَلَّ وَعَلا مِنَ الْكِتَابِ قَوْلا وَفِعْلا، وَفِيمَا ذَكَرْنَا مِنَ الإِيمَاءِ إِلَيْهِ الْغُنْيَةُ لِمَنْ تَدَبَّرَ الْقَصْدَ فِيهِ.
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ہوازن کے ساتھ جنگ کی، ایک دن ہم بیٹھے ہوئے دوپہر کا کھانا کھا رہے تھے، اسی دوران ایک شخص اپنے سرخ اونٹ پر سوار ہو کر آیا، اس نے اونٹ کی نکیل کو کھینچ کر اس کے ذریعے اونٹ کو باندھ دیا، پھر وہ شخص آیا اور ہمارے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھانے لگا، اس نے لوگوں کا جائزہ لیا کہ ان کے پاس سواریاں کم ہیں اور ان میں سے زیادہ تر لوگ پیدل ہیں۔ جب اس نے لوگوں کا جائزہ لے لیا تو پھر وہ وہاں سے روانہ ہوا، یہاں تک کہ اپنے اونٹ کے پاس آیا اور اس کو ایڑھ لگا دی، وہ کفار کا جاسوس تھا۔ ہم میں سے اسلم قبیلے سے تعلق رکھنے والا ایک شخص اپنی خاکستری اونٹنی پر سوار ہو کر اس کے پیچھے گیا۔ ایاس نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے: میرے والد نے یہ بات بیان کی ہے: میں اس کے پیچھے گیا، میں نے اپنی تلوار سونت کر اس کا سر اڑا دیا، پھر میں اس کی اونٹنی کو ہانک کر ساتھ لے آیا جس پر اس کا ساز و سامان بھی تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں کے ہمراہ میرے سامنے آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اسے کس نے قتل کیا ہے؟“ سیدنا ابن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے جواب دیا: میں نے! تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس کا سارا ساز و سامان تمہیں ملتا ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اگر اس نوعیت کی تمام روایات کی ہم تحقیق کریں، تو اس میں اکثر سنن داخل ہو جائیں گی کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کی کتاب میں اللہ تعالیٰ کے بیان کردہ حکم کو اپنے قول اور فعل کے ذریعے بیان کرنے والے تھے اور جو چیز ہم نے ذکر کی ہے اس میں اس شخص کے لیے کافی اشارہ ہے جو اس بارے میں غور و فکر کرنے کا قصد کرتا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4843]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3051، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1754، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4744، 4747، 4748، 4839، 4843، 4860، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2531، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2596، 2638،وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2836، 2840، 2846، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 12889، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16755» «رقم طبعة با وزير 4823»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن - «صحيح أبي داود» (2384): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 4843 in Urdu
إياس بن سلمة الأسلمي ← سلمة بن الأكوع الأسلمي