صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
357. باب الغنائم وقسمتها - ذكر البيان بأن السلب للقاتل وإن لم يكن له-
غنائم اور ان کی تقسیم کا بیان - وضاحت کہ سلب قاتل ہی کا حق ہے اگرچہ (اصل ملکیت) کسی اور کی ہو
حدیث نمبر: 4842
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ ،" أَنَّ مَدَدِيًّا فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ رَافَقَهُمْ، وَأَنَّ رُومِيًّا كَانَ يَسْمُو عَلَى الْمُسْلِمِينَ وَيُغْرِي عَلَيْهِمْ فَتَلَطَّفَ الْمَدَدِيُّ، فَقَعَدَ تَحْتَ صَخْرَةٍ، فَلَمَّا مَرَّ بِهِ عَرْقَبَ فَرَسَهُ، وَخَرَّ الرُّومِيُّ لِقَفَاهُ، وَعَلاهُ الْمَدَدِيُّ بِالسَّيْفِ فَقَتَلَهُ، وَأَقْبَلَ بِسَرْجِهِ، وَلِجَامِهِ، وَسَيْفِهِ، وَمِنْطَقَتِهِ، وَسِلاحِهِ، فَذَهَبَا بِالذَّهَبِ وَالْجَوْهَرِ إِلَى خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ، فَأَخَذَ خَالِدٌ مِنْهُ طَائِفَةً وَنَفَّلَهُ بَقِيَّتَهُ، فَقُلْتُ لَهُ: يَا خَالِدُ، مَا هَذَا؟ أَمَا تَعْلَمُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَفَّلَ السَّلَبَ كُلَّهُ لِلْقَاتِلِ؟ قَالَ: بَلَى، وَلَكِنِّي اسْتَكْثَرْتُهُ، فَقُلْتُ: أَمَا لَعَمْرِ اللَّهِ لأُعَرِّفَنَّهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ خَبَرَهُ، فَدَعَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَمَرَهُ أَنْ يَدْفَعَ إِلَى الْمَدَدِيِّ بَقِيَّةَ سَلَبِهِ، فَوَلَّى خَالِدٌ لِيَفْعَلَ، فَقُلْتُ لَهُ: فَكَيْفَ رَأَيْتَ يَا خَالِدُ أَلَمْ أَفِ لَكَ بِمَا وَعَدْتُكَ؟ فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ، وَقَالَ: يَا خَالِدُ، لا تُعْطِهِ وَأَقْبِلْ عَلَيَّ، فَقَالَ: " هَلْ أَنْتُمْ تَارِكُوا لِي أُمَرَائِي؟ لَكُمْ صَفْوَةُ أَمْرِهِمْ، وَعَلَيْهِمْ كَدَرُهُ"، قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا خَالِدُ، لا تُعْطِهِ، أَرَادَ بِهِ فِي ذَلِكَ الْوَقْتِ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَعْطَاهُ" .
سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مددی شخص نے غزوہ تبوک کے موقع پر ان کا ساتھ دیا۔ رومیوں نے مسلمانوں پر حملہ کر دیا تو اس مددی نے یہ حیلہ اختیار کیا کہ وہ ایک چٹان کے نیچے بیٹھ گیا، جب رومی شخص اس کے پاس سے گزرا تو اس نے اس کے گھوڑے پر حملہ کیا، تو رومی شخص گدی کے بل نیچے گر گیا۔ مددی شخص تلوار لے کر اس پر غالب آیا اور اس نے اسے قتل کر دیا، پھر وہ اس کی زین، اس کی لگام، اس کی تلوار، اس کا پٹکا اور اس کے ہتھیار لے کر آیا۔ یہ دونوں صاحبان سونا اور جواہرات لے کر سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے پاس گئے تو سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے اس میں سے کچھ چیزیں رکھ لیں اور بقیہ چیزیں اس مددی کو انعام کے طور پر دے دیں۔ میں نے ان سے کہا: اے سیدنا خالد رضی اللہ عنہ! یہ آپ نے کیا کیا؟ کیا آپ یہ بات نہیں جانتے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سارا ساز و سامان قتل کرنے والے کو عطیے کے طور پر دیتے ہیں؟ سیدنا خالد رضی اللہ عنہ جواب دیتے ہیں: جی ہاں! لیکن میں نے اسے زیادہ خیال کیا (اس لیے میں نے اسے نہیں دیا)۔ (سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:) تو میں نے یہ کہا: اللہ کی قسم! میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ضرور اس بارے میں آگاہ کروں گا۔ جب ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس صورت حال کے بارے میں بتایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کو بلایا اور انہیں یہ حکم دیا کہ وہ اس مددی کو باقی رہ جانے والا ساز و سامان بھی دیں۔ سیدنا خالد رضی اللہ عنہ ایسا کرنے کے لیے مڑ کر جانے لگے تو میں نے ان سے کہا: اے خالد! آپ نے دیکھا کہ میں نے آپ کے ساتھ کیا ہوا وعدہ پورا کر دیا ہے؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غصے میں آ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے خالد! تم اسے نہ دینا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم میری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”کیا تم میرے مقرر کردہ امیروں سے درگزر نہیں کر سکتے؟ ان کے معاملے کی اچھائی کا فائدہ تمہیں مل جائے اور ان کی کوتاہی کا وبال ان پر ہو۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ”اے خالد! تم اسے نہ دو“ کے ذریعے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ مراد تھی کہ اس وقت میں نہ دو۔ بعد میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا تھا تو سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے اسے وہ چیز دے دی تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4842]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1753، وابن الجارود فى "المنتقى"، 1155، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4842، 4844، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2719، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 2697، 2698، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 12907، وأحمد فى (مسنده) برقم: 17097» «رقم طبعة با وزير 4822»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (2432): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 4842 in Urdu
جبير بن نفير الحضرمي ← عوف بن مالك الأشجعي