🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
363. باب الغلول - ذكر الزجر عن الغلول إذ الغال يأتي بما غل به يوم القيامة على رقبته-
الغلول کا بیان - ممانعتِ غلول کا بیان کہ خیانت کرنے والا قیامت کے دن اپنی خیانت کی ہوئی چیز اپنی گردن پر لائے گا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4848
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ التَّيْمِيُّ أَبُو حَيَّانَ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ فَذَكَرَ الْغُلُولَ فَعَظَّمَ مِنْ أَمْرِهِ، ثُمَّ قَالَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، لا أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رَقَبَتِهِ بَعِيرٌ لَهُ رُغَاءٌ، فَيَقُولُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَغِثْنِي، فَأَقُولَ: لا أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا قَدْ أَبْلَغْتُكَ، لا أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رَقَبَتِهِ شَاةٌ لَهَا يُعَارٌ، فَيَقُولُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَغِثْنِي، فَأَقُولَ: لا أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا قَدْ أَبْلَغْتُكَ، لا أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رَقَبَتِهِ فَرَسٌ لَهَا حَمْحَمَةٌ، فَيَقُولُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَغِثْنِي، فَأَقُولَ: لا أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا قَدْ أَبْلَغْتُكَ، وَلا أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رَقَبَتِهِ نَفْسٌ لَهَا صِيَاحٌ، فَيَقُولُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَغِثْنِي، فَأَقُولَ: لا أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا قَدْ أَبْلَغْتُكَ، لا أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رَقَبَتِهِ رِقَاعٌ تَخْفِقُ، فَيَقُولُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَغِثْنِي، فَأَقُولَ: لا أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا قَدْ أَبْلَغْتُكَ، لا أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رَقَبَتِهِ صَامِتٌ، يَقُولُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَغِثْنِي، فَأَقُولَ: لا أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا قَدْ أَبْلَغْتُكَ" ، الرِّقَاعُ أَرَادَ ثِيَابًا، قَالَهُ أَبُو حَاتِمٍ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان کھڑے ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (مالِ غنیمت) میں خیانت کا تذکرہ کرتے ہوئے اس کی اہمیت کو اجاگر کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے لوگو! میں تم میں سے کسی شخص کو ایسی حالت میں ہرگز نہ پاؤں کہ جب وہ قیامت کے دن آئے تو اس کی گردن پر اونٹ ہو جو آواز نکال رہا ہو۔ وہ شخص یہ کہے: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میری مدد کیجیے، تو میں یہ کہوں: میں اللہ تعالیٰ کے فیصلے کے مقابلے میں تمہارے لیے کچھ نہیں کر سکتا، میں نے تمہیں تبلیغ کر دی تھی۔ میں تم میں سے کسی بھی شخص کو ایسی حالت میں ہرگز نہ پاؤں کہ جب وہ قیامت کے دن آئے تو اس کی گردن پر کوئی بکری ہو جو آواز نکال رہی ہو۔ وہ شخص یہ کہے: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! (میری مدد کیجیے) تو میں یہ کہوں: میں اللہ تعالیٰ کے فیصلے کے مقابلے میں تمہاری کوئی مدد نہیں کر سکتا، میں نے تمہیں تبلیغ کر دی تھی۔ میں تم میں سے کسی شخص کو ایسی حالت میں ہرگز نہ پاؤں کہ جب وہ قیامت کے دن آئے تو اس کی گردن پر کوئی گھوڑا ہو جو آواز نکال رہا ہو، وہ شخص یہ کہے: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میری مدد کیجیے تو میں یہ کہوں: میں تمہارے لیے کچھ نہیں کر سکتا، میں نے تمہیں تبلیغ کر دی تھی۔ میں تم میں سے کسی شخص کو ایسی حالت میں ہرگز نہ پاؤں کہ جب وہ قیامت کے دن آئے تو اس کی گردن پر کوئی شخص ہو جو چیخ رہا ہو، وہ شخص یہ کہے: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میری مدد کیجیے تو میں یہ کہوں: میں تمہارے لیے کچھ نہیں کر سکتا، میں نے تمہیں تبلیغ کر دی تھی۔ میں تم میں سے کسی بھی شخص کو ایسی حالت میں ہرگز نہ پاؤں کہ وہ قیامت کے دن آئے اور اس کی گردن میں «رِقَاعٌ» (یعنی کپڑے کے ٹکڑے) ہوں، وہ شخص یہ کہے: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میری مدد کیجیے اور میں کہوں: میں تمہارے لیے کچھ نہیں کر سکتا، میں نے تمہیں تبلیغ کر دی تھی۔ میں تم میں سے کسی بھی شخص کو ایسی حالت میں ہرگز نہ پاؤں کہ وہ قیامت کے دن آئے تو اس کی گردن پر کوئی خاموش (مال) ہو، وہ شخص عرض کرے: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میری مدد کریں اور میں کہوں: میں تمہارے لیے کچھ نہیں کر سکتا، میں نے تمہیں تبلیغ کر دی تھی۔ لفظ «رِقَاعٌ» سے مراد کپڑے ہیں۔ یہ بات امام ابوحاتم رحمہ اللہ نے بیان کی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4848]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3073، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1831، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4847، 4848، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 18276، 18277، وأحمد فى (مسنده) برقم: 9634» «رقم طبعة با وزير 4828»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥أبو زرعة بن عمرو البجلي، أبو زرعة
Newأبو زرعة بن عمرو البجلي ← أبو هريرة الدوسي
ثقة
👤←👥يحيى بن سعيد التيمي، أبو حيان
Newيحيى بن سعيد التيمي ← أبو زرعة بن عمرو البجلي
ثقة
👤←👥جرير بن عبد الحميد الضبي، أبو عبد الله
Newجرير بن عبد الحميد الضبي ← يحيى بن سعيد التيمي
ثقة
👤←👥زهير بن حرب الحرشي، أبو خيثمة
Newزهير بن حرب الحرشي ← جرير بن عبد الحميد الضبي
ثقة ثبت
👤←👥أبو يعلى الموصلي، أبو يعلى
Newأبو يعلى الموصلي ← زهير بن حرب الحرشي
ثقة مأمون
Sahih Ibn Hibban Hadith 4848 in Urdu