صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
383. باب الموادعة والمهادنة - ذكر الإباحة للإمام مصالحة الأعداء إذا علم بالمسلمين ضعفا عن قتالهم-
موادعہ اور مهادنت کا بیان - اگر مسلمانوں کی جنگ کرنے کی طاقت کم ہو تو امام کے لیے دشمن سے صلح کرنا جائز ہے
حدیث نمبر: 4869
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَرَاءِ ، قَالَ:" لَمَّا حَضَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ الْبَيْتِ صَالَحَهُ أَهْلُ مَكَّةَ عَنْ أَنْ يَدْخُلَهَا وَيُقِيمُ بِهَا ثَلاثًا، وَلا يَدْخُلُهَا إِلا بِجُلُبَّانِ السِّلاحِ السَّيْفِ وَقِرَابِهِ، وَلا يَخْرُجُ مَعَهُ أَحَدٌ مِمَّنْ دَخَلَ مَعَهُ، وَلا يَمْنَعُ أَحَدًا يَمْكُثُ فِيهَا مِمَّنْ كَانَ مَعَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَلِيٍّ: اكْتُبِ الشَّرْطَ بَيْنَنَا، هَذَا مَا قَاضَى عَلَيْهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ: لَوْ عَلِمْنَا أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ بَايَعْنَاكَ، وَلَكِنِ اكْتُبْ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: امْحُهُ وَاكْتُبْ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، فَقَالَ عَلِيٌّ: لا أَمْحُوهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: امْحُهُ وَاكْتُبْ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، فَقَالَ عَلِيٌّ: لا أَمْحُوهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَرِنِي مَكَانَهُ حَتَّى أَمْحُوَهُ، فَمَحَاهُ وَكَتَبَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، فَأَقَامَ بِهَا ثَلاثًا، فَلَمَّا كَانَ آخِرَ الْيَوْمِ الثَّالِثِ، قَالُوا لِعَلِيٍّ: قَدْ مَضَى شَرْطُ صَاحِبِكَ، فَمُرْهُ فَلْيَخْرُجْ، فَأَخْبَرَهُ بِذَلِكَ، قَالَ: نَعَمْ ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: قَوْلُهُمْ فِي الشَّرْطِ وَلا يَخْرُجُ مَعَهُ أَحَدٌ مِمَّنْ دَخَلَ مَعَهُ أَرَادُوا بِهِ عَلَى كُرْهٍ مِنْهُمْ، إِذْ مُحَالٌ أَنْ لا يُخْرِجَ أَحَدًا مِمَّنْ دَخَلَ مَعَهُ مِنْ أَصْحَابِهِ أَصْلا".
سیدنا براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کے پاس تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل مکہ کے ساتھ یہ صلح کر لی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں داخل ہوں گے وہاں تین دن قیام کریں گے آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ میں داخل ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہتھیار میان میں رکھے ہوں گے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ داخل ہونے والے لوگوں میں سے کوئی بھی شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نہیں نکلے گا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھیوں میں سے کسی ایسے شخص کو منع نہیں کریں گے جو مکہ میں ٹھہرنا چاہتا ہو تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: تم ہمارے درمیان طے پانے والے اس معاہدے کو تحریر کرو گے وہ معاہدہ ہے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ہے، تو مشرکین نے کہا: اگر ہمیں یہ پتہ ہو کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں تو ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کر لیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ لکھیں کہ محمد بن عبداللہ نے کہا: ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اسے مٹا کر محمد بن عبداللہ لکھ دو۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عرض کی: میں اسے نہیں مٹاؤں گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اسے مٹا دو اور محمد بن عبداللہ لکھ دو۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عرض کی: میں اسے ہرگز نہیں مٹاؤں گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اس کی جگہ مجھے دکھاؤ میں اسے مٹا دیتا ہوں پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مٹایا اور وہاں محمد بن عبداللہ لکھ دیا۔ (راوی بیان کرتے ہیں) پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں تین دن تک مقیم رہے، جب تیسرے دن کا آخری حصہ آیا تو لوگوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ کے آقا کی طے کردہ شرط کا وقت پورا ہونے لگا ہے، آپ ان سے کہیں کہ وہ تشریف لے جائیں، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں بتایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ٹھیک ہے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) شرط میں ان کا یہ کہنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ کوئی ایسا شخص (مکہ سے) باہر نہیں جائے گا، جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ (مکہ میں) داخل ہوا تھا۔ اس کے ذریعے مراد یہ ہے: ان کی طرف سے ناپسندیدگی کے عالم میں، کیونکہ یہ بات ناممکن ہے وہ کسی ایسے شخص کو باہر نہ جانے دیں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ (مکہ میں) آیا تھا، (یعنی وہ شخص) جس کا تعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب سے ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4869]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 4849»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (1608).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
الرواة الحديث:
أبو إسحاق السبيعي ← البراء بن عازب الأنصاري