صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
217. باب العفو - ذكر ما يستحب للمرء أن لا ينتقم لنفسه من أحد اعترض عليها أو آذاها
عفو (درگزر) کا بیان - اس بات کا ذکر کہ انسان کے لیے پسندیدہ ہے کہ جو شخص اس پر اعتراض کرے یا اسے تکلیف پہنچائے اس سے اپنے لیے انتقام نہ لے۔
حدیث نمبر: 488
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ ذَرِيحٍ بِعُكْبَرَا، أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ضَرَبَ خَادِمًا قَطُّ، وَلا ضَرَبَ امْرَأَةً لَهُ قَطُّ، وَلا ضَرَبَ بِيَدِهِ شَيْئًا قَطُّ، إِلا أَنْ يُجَاهِدَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَلا نِيلَ مِنْهُ شَيْءٌ قَطُّ، فَيَنْتَقِمُهُ مِنْ صَاحِبِهِ إِلا أَنْ يَكُونَ لِلَّهِ فَإِنْ كَانَ لِلَّهِ، انْتَقَمَ لَهُ، وَلا عَرَضَ لَهُ أَمْرَانِ، إِلا أَخَذَ بِالَّذِي هُوَ أَيْسَرُ، حَتَّى يَكُونَ إِثْمًا، فَإِذَا كَانَ إِثْمًا كَانَ أَبْعَدَ النَّاسِ مِنْهُ" .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے کبھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی خادم کو مارتے ہوئے نہیں دیکھا، نہ ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی اپنی کسی اہلیہ کو مارا، نہ ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ کے ذریعے کسی چیز کو کبھی مارا، البتہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی راہ میں جہاد کے دوران (دشمنوں کو مارتے تھے) اور جب بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کوئی زیادتی کی گئی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس زیادتی کرنے والے سے انتقام نہیں لیا، البتہ اگر اللہ تعالیٰ کے لیے (انتقام لینا ہو، تو وہ لیا ہے)، کیونکہ اگر کوئی معاملہ اللہ تعالیٰ کے لیے ہوتا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کا انتقام لیتے تھے اور جب بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دو قسم کی صورت حال پیش آئی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے اس صورت حال کو اختیار کیا جو زیادہ آسان تھی، بشرطیکہ وہ گناہ نہ ہو، کیونکہ اگر وہ گناہ ہوتی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ اس سے دور رہتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 488]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3560، 6126، 6786، 6853، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2327، ومالك فى (الموطأ) برقم: 3351، وابن الجارود فى "المنتقى"، 871، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 488، 6444، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 4246، 5714، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2095، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 2417، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4785، 4786، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3799، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2264، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 148، 1984، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24668، والحميدي فى (مسنده) برقم: 260» «رقم طبعة با وزير 488»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «غاية المرام» (252)، «الصحيحة» (507): م نحوه، خ مختصراً.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم، أبو معاوية: هو محمد بن خازم.
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 488 in Urdu
عروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق