صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
11. ذكر البيان بأن المرء ممنوع عن أخذ ضوال الإبل دون غيرها من سائر الضوال-
لقطہ (گم شدہ چیز) کا بیان - بیان کہ آدمی اونٹوں کی گم شدہ چیز لینے سے روکا گیا ہے، باقی گم شدہ چیزوں میں یہ ممانعت نہیں۔
حدیث نمبر: 4898
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ يَزِيدَ مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَهُ عَنِ اللُّقَطَةِ، فَقَالَ:" اعْرِفْ عِفَاصَهَا وَوِكَاءَهَا، ثُمَّ عَرِّفْهَا سَنَةً، فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا، وَإِلا فَشَأْنَكَ بِهَا"، قَالَ: فَضَالَّةُ الْغَنَمِ، قَالَ:" هِيَ لَكَ أَوْ لأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِ"، قَالَ: فَضَالَّةُ الإِبِلِ، قَالَ:" مَا لَكَ وَلَهَا مَعَهَا سِقَاؤُهَا وَحِذَاؤُهَا تَرِدُ الْمَاءَ، وَتَأْكُلُ الشَّجَرَ حَتَّى يَلْقَاهَا رَبُّهَا" .
سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں۔ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے گمشدہ ملنے والی چیز کے بارے میں دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اس کی تھیلی اور اس کی ڈوری کی شناخت یاد رکھو اور ایک سال تک اس کا اعلان کرو۔ اگر اس کا مالک آ جاتا ہے تو ٹھیک ہے ورنہ اسے تم استعمال کرو۔ اس نے دریافت کیا گمشدہ ملنے والی بکری (کا کیا حکم ہے) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ یا تمہیں ملے گی یا تمہارے کسی بھائی کو ملے گی یا پھر بھیڑیوں کو ملے گی۔ اس نے دریافت کیا گمشدہ ملنے والے اونٹ (کا کیا حکم ہے) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا اس کے ساتھ کیا واسطہ ہے۔ اس کا پیٹ اس کے ساتھ ہے۔ اس کے پاؤں اس کے ساتھ ہیں۔ وہ خود ہی پانی پی لے گا۔ درخت کے پتے کھا لے گا۔ یہاں تک کہ اس کا مالک بھی اس تک پہنچ جائے گا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب اللقطة/حدیث: 4898]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 4878»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: ق - مضى (4869) سنداً ومتناً. تنبيه!! رقم (4869) = (4889) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
الرواة الحديث:
يزيد مولى المنبعث ← زيد بن خالد الجهني