صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
1. ذكر الخبر المدحض قول من نفى جواز اتخاذ الأحباس في سبيل الله-
وقف کا بیان - وہ خبر جو ان لوگوں کے قول کو باطل کرتی ہے جنہوں نے اللہ کی راہ میں وقف (حبس) کے جواز کا انکار کیا۔
حدیث نمبر: 4899
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ الشَّرْقِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْكِنَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ،" أَنَّ عُمَرَ اسْتَشَارَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَدَقَتِهِ بِثَمْغٍ، فَقَالَ: " احْبِسْ أَصْلَهَا وَسَبِّلْ ثَمَرَتَهَا"، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: فَحَبَسَهَا عُمَرُ عَلَى السَّائِلِ، وَالْمَحْرُومِ، وَابْنِ السَّبِيلِ، وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَفِي الرِّقَابِ، وَالْمَسَاكِينِ، وَجَعَلَ قَيِّمَهَا يَأْكُلُ وَيُؤْكِلُ غَيْرَ مُتَأَثِّلٍ مَالا .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ”ثمغ“ میں موجود زمین کو صدقہ کرنے کے بارے میں مشورہ کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اصل کو اپنے پاس رکھو اور اس کے پھل کو (اللہ کی) راہ میں دے دو۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے مانگنے والے محروم مسافر اور اللہ کی راہ میں (جہاد پر جانے والے افراد) غلاموں اور مسکینوں کے لیے مخصوص کر دیا۔ آپ نے اس کے نگران کو اس بات کا حق دیا کہ وہ خود بھی اس کو کھا سکتا ہے اور کسی دوسرے کو بھی کھلا سکتا ہے جبکہ وہ مال کو جمع کرنے والا نہ ہو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الوقف/حدیث: 4899]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 4879»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (1513).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط البخاري
الرواة الحديث:
نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي