🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
9. ذكر الخبر الدال على أن البيع يقع بين المتبايعين بلفظة تؤدي إلى رضاهما وإن لم يقل البائع بعت ولا المشتري اشتريت-
بیع کا بیان - وہ خبر جو اس پر دلالت کرتی ہے کہ بیع (خرید و فروخت) فریقین کی باہمی رضامندی سے ہو جاتی ہے اگرچہ «بعت» اور «اشتریت» کے الفاظ ادا نہ کیے جائیں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4911
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ:" أَقْبَلْنَا مِنْ مَكَّةَ إِلَى الْمَدِينَةِ، فَنَزَلْنَا مَنْزِلا دُونَ الْمَدِينَةِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بِعْنِي جَمَلَكَ هَذَا"، قُلْتُ: لا، بَلْ هُوَ لَكَ، قَالَ: فَقَالَ:" لا، بِعْنِيهِ"، قُلْتُ: لا، بَلْ هُوَ لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: لا بِعْنِيهِ، قُلْتُ: كَانَ لِرَجُلٍ عَلَيَّ أُوقِيَّةٌ مِنْ ذَهَبٍ، فَهُوَ لَكَ بِهَا، قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَدْ أَخَذْتُهُ، فَتَبَلَّغْ عَلَيْهِ إِلَى الْمَدِينَةِ"، فَلَمَّا قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِبِلالٍ:" أَعْطِهِ أُوقِيَّةً مِنْ ذَهَبٍ وَزِدْهُ" ، قَالَ: فَأَعْطَانِي أُوقِيَّةً مِنْ ذَهَبٍ، وَزَادَنِي قِيرَاطًا، قَالَ: فَقُلْتُ: لا تُفَارِقُنِي زِيَادَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَانَ فِي كِيسٍ لي، فَأَخَذَهُ أَهْلُ الشَّامِ لَيَالِيَ الْحَرَّةِ".
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ مکہ سے مدینہ کی طرف آ رہے تھے ہم نے مدینہ سے کچھ پہلے ایک جگہ پر پڑاؤ کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اپنا یہ اونٹ مجھے فروخت کر دو۔ میں نے عرض کی: جی نہیں یہ ویسے ہی آپ کا ہوا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی نہیں تم اسے مجھے فروخت کرو۔ میں نے عرض کی: جی نہیں۔ یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم )! یہ ویسے ہی آپ کا ہوا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی نہیں تم اسے مجھے فروخت کرو۔ میں نے کہا: میں نے ایک شخص کا سونے کا ایک اوقیہ دینا ہے تو یہ اس کے عوض میں آپ کا ہوا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ میں نے لے لیا تم اس پر سوار ہو کر مدینے تک چلے جاؤ۔ جب میں مدینہ منورہ آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا اسے سونے کا ایک اوقیہ دو اور زیادہ ادائیگی کرنا سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: انہوں نے مجھے سونے کا ایک اوقیہ دیا اور ایک قیراط زیادہ دیا۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں تو میں نے طے کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دی ہوئی اضافی ادائیگی کبھی مجھ سے جدا نہیں ہو گی۔ وہ رقم میرے پاس ایک تھیلی میں محفوظ رہی پھر واقعہ حرہ کے موقع پر اہل شام نے اسے ہتھیا لیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 4911]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 4891»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (1304).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥جابر بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥سالم بن أبي الجعد الأشجعي
Newسالم بن أبي الجعد الأشجعي ← جابر بن عبد الله الأنصاري
ثقة
👤←👥سليمان بن مهران الأعمش، أبو محمد
Newسليمان بن مهران الأعمش ← سالم بن أبي الجعد الأشجعي
ثقة حافظ
👤←👥جرير بن عبد الحميد الضبي، أبو عبد الله
Newجرير بن عبد الحميد الضبي ← سليمان بن مهران الأعمش
ثقة
👤←👥عثمان بن أبي شيبة العبسي، أبو الحسن
Newعثمان بن أبي شيبة العبسي ← جرير بن عبد الحميد الضبي
وله أوهام، ثقة حافظ شهير
👤←👥الحسن بن سفيان الشيباني، أبو العباس
Newالحسن بن سفيان الشيباني ← عثمان بن أبي شيبة العبسي
ثقة