صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
9. ذكر الخبر الدال على أن البيع يقع بين المتبايعين بلفظة تؤدي إلى رضاهما وإن لم يقل البائع بعت ولا المشتري اشتريت-
بیع کا بیان - وہ خبر جو اس پر دلالت کرتی ہے کہ بیع (خرید و فروخت) فریقین کی باہمی رضامندی سے ہو جاتی ہے اگرچہ «بعت» اور «اشتریت» کے الفاظ ادا نہ کیے جائیں۔
حدیث نمبر: 4911
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ:" أَقْبَلْنَا مِنْ مَكَّةَ إِلَى الْمَدِينَةِ، فَنَزَلْنَا مَنْزِلا دُونَ الْمَدِينَةِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بِعْنِي جَمَلَكَ هَذَا"، قُلْتُ: لا، بَلْ هُوَ لَكَ، قَالَ: فَقَالَ:" لا، بِعْنِيهِ"، قُلْتُ: لا، بَلْ هُوَ لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: لا بِعْنِيهِ، قُلْتُ: كَانَ لِرَجُلٍ عَلَيَّ أُوقِيَّةٌ مِنْ ذَهَبٍ، فَهُوَ لَكَ بِهَا، قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَدْ أَخَذْتُهُ، فَتَبَلَّغْ عَلَيْهِ إِلَى الْمَدِينَةِ"، فَلَمَّا قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِبِلالٍ:" أَعْطِهِ أُوقِيَّةً مِنْ ذَهَبٍ وَزِدْهُ" ، قَالَ: فَأَعْطَانِي أُوقِيَّةً مِنْ ذَهَبٍ، وَزَادَنِي قِيرَاطًا، قَالَ: فَقُلْتُ: لا تُفَارِقُنِي زِيَادَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَانَ فِي كِيسٍ لي، فَأَخَذَهُ أَهْلُ الشَّامِ لَيَالِيَ الْحَرَّةِ".
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ مکہ سے مدینہ کی طرف آ رہے تھے ہم نے مدینہ سے کچھ پہلے ایک جگہ پر پڑاؤ کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اپنا یہ اونٹ مجھے فروخت کر دو۔ میں نے عرض کی: جی نہیں یہ ویسے ہی آپ کا ہوا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی نہیں تم اسے مجھے فروخت کرو۔ میں نے عرض کی: جی نہیں۔ یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم )! یہ ویسے ہی آپ کا ہوا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی نہیں تم اسے مجھے فروخت کرو۔ میں نے کہا: میں نے ایک شخص کا سونے کا ایک اوقیہ دینا ہے تو یہ اس کے عوض میں آپ کا ہوا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ میں نے لے لیا تم اس پر سوار ہو کر مدینے تک چلے جاؤ۔ جب میں مدینہ منورہ آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا اسے سونے کا ایک اوقیہ دو اور زیادہ ادائیگی کرنا سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: انہوں نے مجھے سونے کا ایک اوقیہ دیا اور ایک قیراط زیادہ دیا۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں تو میں نے طے کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دی ہوئی اضافی ادائیگی کبھی مجھ سے جدا نہیں ہو گی۔ وہ رقم میرے پاس ایک تھیلی میں محفوظ رہی پھر واقعہ حرہ کے موقع پر اہل شام نے اسے ہتھیا لیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 4911]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 4891»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (1304).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
الرواة الحديث:
سالم بن أبي الجعد الأشجعي ← جابر بن عبد الله الأنصاري