پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
222. باب إفشاء السلام وإطعام الطعام - ذكر كتبة الحسنات لمن سلم على أخيه المسلم بتمامه
سلام کو عام کرنا اور کھانا کھلانے کا بیان - اس بات کا ذکر کہ جو مسلمان اپنے بھائی کو مکمل سلام کرے تو اس کے لیے نیکیاں لکھی جاتی ہیں۔
حدیث نمبر: 493
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمَذَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأُوَيْسِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ زَيْدٍ التَّيْمِيِّ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ رَجُلا مَرَّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي مَجْلِسٍ، فقَالَ: سَلامٌ عَلَيْكُمْ، فقَالَ:" عَشْرُ حَسَنَاتٍ" ثُمَّ مَرَّ رَجُلٌ آخَرَ، فقَالَ: سَلامٌ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ، فقَالَ:" عِشْرُونَ حَسَنَةً"، فَمَرَّ رَجُلٌ آخَرَ، فقَالَ: سَلامٌ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، فقَالَ:" ثَلاثُونَ حَسَنَةً" فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الْمَجْلِسِ وَلَمْ يُسَلِّمْ، فقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا أَوْشَكَ مَا نَسِيَ صَاحِبُكُمْ! إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمْ إِلَى الْمَجْلِسِ فَلْيُسَلِّمْ، فَإِنْ بَدَا لَهُ أَنْ يَجْلِسَ فَلْيَجْلِسْ، فَإِنْ قَامَ فَلْيُسَلِّمْ، فَلَيْسَتِ الأُولَى بِأَحَقَّ مِنَ الآخِرَةِ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت ایک محفل میں تشریف فرما تھے۔ اس نے عرض کی: سلام علیکم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (اس کو) دس نیکیاں ملیں پھر ایک اور شخص گزرا اس نے کہا: السلام علیکم ورحمة الله، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیس نیکیاں پھر اور ایک شخص گزرا اس نے کہا: السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیس نیکیاں، پھر حاضرین میں سے ایک شخص اٹھا اور اس نے سلام نہیں کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہو سکتا ہے تمہارا یہ ساتھی (سلام کرنا) بھولا نہ ہو گا، جو شخص کسی محفل میں آئے، تو سلام کرے اگر اسے مناسب لگے، تو وہاں بیٹھ جائے اور اگر اٹھ کر جانا چاہے، تو پھر سلام کرے، کیونکہ پہلا دوسرے کے مقابلے میں زیادہ حق دار نہیں ہوتا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 493]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 493، 494، 495، 496، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 10102، وأبو داود فى (سننه) برقم: 5208، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2706، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7263،، والحميدي فى (مسنده) برقم: 1196، والطبراني فى (الصغير) برقم: 371، 1046، 1047» «رقم طبعة با وزير 493»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (183).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح.
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 493 in Urdu
سعيد بن أبي سعيد المقبري ← أبو هريرة الدوسي