صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
113. باب الربا - ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن نافعا لم يسمع هذا الخبر من أبي سعيد الخدري-
سود کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس قول کو باطل کرتی ہے جس میں یہ گمان کیا گیا کہ نافع نے یہ حدیث ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے نہیں سنی
حدیث نمبر: 5017
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْكَلاعِيُّ بِحِمْصٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ رَجُلا حَدَّثَ ابْنَ عُمَرَ ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يُحَدِّثُ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ نَافِعٌ: فَانْطَلَقَ ابْنُ عُمَرَ وَذَلِكَ الرَّجُلُ وَأَنَا مَعَهُمْ حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ لأَبِي سَعِيدٍ: أَرَأَيْتَ حَدِيثًا حَدَّثَنِيهِ هَذَا الرَّجُلُ، أَنَّكَ تُحَدِّثُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَسَمِعْتَهُ؟ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: وَمَا هُوَ؟ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: بَيْعُ الذَّهَبِ بِالذَّهَبِ، وَالْوَرِقِ بِالْوَرِقِ، فَأَشَارَ أَبُو سَعِيدٍ بِأُصْبُعِهِ إِلَى عَيْنَيْهِ وَإِلَى أُذُنَيْهِ، فَقَالَ: بَصُرَ عَيْنِي، وَسَمِعَ أُذُنِيَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لا تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ إِلا مِثْلا بِمِثْلٍ، وَلا تُشِفُّوا بَعْضَهَا عَلَى بَعْضٍ، وَلا تَبِيعُوا الْوَرِقَ بِالْوَرِقِ إِلا مِثْلا بِمِثْلٍ، وَلا تُشِفُّوا بَعْضَهَا عَلَى بَعْضٍ، وَلا تَبِيعُوا مِنْهَا شَيْئًا غَائِبًا بِنَاجِزٍ" .
نافع بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو بتایا: سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے بیان کی ہے۔ نافع بیان کرتے ہیں: پھر سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اور وہ شخص تشریف لے گئے میں بھی ان کے ساتھ تھا۔ یہاں تک ہم سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بی کی خدمت میں حاضر ہوئے تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا آپ اس حدیث سے واقف ہیں جو اس شخص نے مجھے بیان کی ہے کیا آپ نے وہ روایت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے نقل کی ہے۔ کیا آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی یہ بات سنی ہے۔ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا وہ کیا بات ہے، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا سونے کے عوض میں سونے اور چاندی کے عوض میں چاندی کو فروخت کرنے والی روایت تو سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے اپنی انگلیوں کے ذریعے اپنی آنکھوں اور کانوں کی طرف اشارہ کیا اور یہ بات بیان کی۔ میری آنکھوں نے یہ بات دیکھی اور میرے کانوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا جب آپ نے یہ بات ارشاد فرمائی۔ ”سونے کے عوض میں سونے کو صرف برابر برابر فروخت کرو۔ ان میں سے کسی ایک طرف سے کم ادائیگی نہ کرو اور چاندی کے عوض میں چاندی کو صرف برابر برابر فروخت کرو ان میں کسی ایک طرف سے کم ادائیگی نہ کرو اور تم ان میں سے کسی بھی غیر موجود کو موجود چیز کے عوض میں فروخت نہ کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 5017]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 4996»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (5/ 189)، «أحاديث البيوع»: ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
الرواة الحديث:
عبد الله بن عمر العدوي ← أبو سعيد الخدري