صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
4. ذكر الإخبار عما يجب على المرء من معونة الضعفاء وأخذ مالهم من الأقوياء-
- یہ خبر کہ انسان پر لازم ہے کہ وہ کمزوروں کی مدد کرے اور ان کا حق طاقتوروں سے دلائے۔
حدیث نمبر: 5058
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: لَمَّا رَجَعَتْ مُهَاجِرَةُ الْحَبَشَةِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" أَلا تُحَدِّثُونِي بِأَعْجَبَ مَا رَأَيْتُمْ بِأَرْضِ الْحَبَشَةِ"، قَالَ فِتْيَةٌ مِنْهُمْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بَيْنَا نَحْنُ جُلُوسٌ مَرَّتْ عَلَيْنَا عَجُوزٌ مِنْ عَجَائِزِهِمْ تَحْمِلُ عَلَى رَأْسِهَا قُلَّةً مِنْ مَاءٍ، فَمَرَّتْ بِفَتًى مِنْهُمْ، فَجَعَلَ إِحْدَى يَدَيْهِ بَيْنَ كَتِفَيْهَا، ثُمَّ دَفَعَهَا عَلَى رُكْبَتَيْهَا، فَانْكَسَرَتْ قُلَّتُهَا، فَلَمَّا ارْتَفَعَتِ الْتَفَتَتْ إِلَيْهِ، ثُمَّ قَالَتْ: سَتَعْلَمُ يَا غُدَرُ، إِذَا وَضَعَ اللَّهُ الْكُرْسِيَّ، وَجَمَعَ الأَوَّلِينَ وَالآخِرِينَ، وَتَكَلَّمَتِ الأَيْدِي وَالأَرْجُلُ بِمَا كَانَا يَكْسِبُونَ، فَسَوْفَ تَعْلَمُ أَمْرِي وَأَمْرَكَ عِنْدَهُ غَدًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" صَدَقَتْ، ثُمَّ صَدَقَتْ، كَيْفَ يُقَدِّسُ اللَّهُ قَوْمًا لا يُؤْخَذُ لِضَعِيفِهِمْ مِنْ شَدِيدِهِمْ" .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب حبشہ کے مہاجرین واپس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگوں نے حبشہ کی سرزمین پر جو حیران کن بات دیکھی ہے اس بارے میں ہمیں کچھ بتاؤ تو ان میں سے کچھ نوجوانوں نے عرض کی: یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم )! ایک مرتبہ ہم بیٹھے ہوئے تھے۔ اسی دوران ایک بوڑھی عورت ہمارے پاس سے گزری۔ اس نے اپنے سر پر پانی کا مٹکا اٹھایا ہوا تھا وہ حبشیوں سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان کے پاس سے گزری تو اس نوجوان نے اپنا ایک ہاتھ اس کے دونوں کندھوں کے درمیان رکھا اور پھر اسے گھٹنوں کے بل گرا دیا۔ اس عورت کا مٹکا ٹوٹ گیا، پھر وہ عورت کھڑی ہوئی اور اس نوجوان کی طرف متوجہ ہو کر اس نے کہا: اے نالائق عنقریب تم جان لو گے اللہ تعالیٰ جب کرسی کو رکھے گا اور تمام پہلے اور بعد والوں کو جمع کرے گا اس دن ہاتھ اور پاؤں اس بارے میں کلام کریں گے کہ انہوں نے کیا کچھ کیا اس وقت تم میرے اور اپنے معاملے کے بارے میں جان لو گے۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس عورت نے سچ کہا: ہے اس نے سچ کہا: ہے اللہ تعالیٰ ایسی قوم کو کیسے پاک کر سکتا ہے جس میں کمزور کے لئے طاقت ور سے مواخذہ نہیں کیا جاتا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب القضاء/حدیث: 5058]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 5036»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح لغيره - «مختصر العلو» (59)، «الظلال» (1/ 257 / 582).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث قوي بشواهده
الرواة الحديث:
محمد بن مسلم القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري