صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
3. ذكر ما يجب للمدعي عندما يدعي من الحقوق على غيره-
- اس بات کا بیان کہ مدعی کے لیے اپنے دعوے میں کیا حقوق ثابت ہوتے ہیں جب وہ کسی دوسرے پر کوئی حق جتائے۔
حدیث نمبر: 5082
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْذِرِ بْنِ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، أَنَّ امْرَأَتَيْنِ كَانَتَا تَخْرُزَانِ لَيْسَ مَعَهُمَا فِي الْبَيْتِ غَيْرَهُمَا، فَخَرَجَتْ إِحْدَاهُمَا، قَدْ طُعِنَ فِي بَطْنِ كَفِّهَا بِإِشْفَى خَرَجَ مِنْ ظَهْرِ كَفِّهَا، تَقُولُ: طَعَنَتْهَا صَاحِبَتُهَا، وَتُنْكِرُ الأُخْرَى، فَأَرْسَلَتْ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فِيهِمَا، فَأَخْبَرَتْهُ الْخَبَرَ، فَقَالَ: لا تُعْطِي شَيْئًا إِلا بِالْبَيِّنَةِ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَوْ يُعْطَى النَّاسُ بِدَعْوَاهُمْ، لادَّعَى رِجَالٌ أَمْوَالَ رِجَالٍ وَدِمَاءَهُمْ، وَلَكِنَّ الْيَمِينَ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ"، فَادْعُهَا، فَاقْرَأْ عَلَيْهَا الْقُرْآنَ، وَاقْرَأْ: إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلا سورة آل عمران آية 77، فَفَعَلْتُ، فَاعْتَرَفَتْ .
ابن ابوملیکہ بیان کرتے ہیں: دو خواتین گھر میں اکیلی تھیں گھر میں ان دونوں کے علاوہ اور کوئی نہیں تھا ان دونوں میں سے ایک گھر سے باہر نکلی تو اس کے پیٹ میں نیزہ مارا جا چکا تھا جو اس کی کمر کی طرف سے باہر نکل آیا تھا۔ اس عورت نے یہ بتایا: دوسری عورت نے اسے یہ نیزہ مارا ہے جبکہ دوسری عورت نے اس کا انکار کیا میں نے یہ مقدمہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس بھیج دیا اس عورت نے انہیں اس بارے میں بتایا تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا تم صرف ثبوت پیش کرو کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے۔ اگر لوگوں کو ان کے دعویٰ جات کی بنیاد پر دینا شروع کر دیا جائے تو کچھ لوگ دوسرے لوگوں کے مال اور جانوں کے بارے میں دعویٰ کرنا شروع کر دیں گے جس شخص کے خلاف دعویٰ کیا گیا ہے اس پر قسم اٹھانا لازم ہے تم اس عورت کو بلاؤ اس کے سامنے قرآن کی تلاوت کرو اور یہ آیت پڑھو: ”بے شک وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کے عہد اور اس کی قسم کے عوض میں تھوڑی قیمت حاصل کر لیتے ہیں۔“ پھر میں نے ایسا ہی کیا تو (اس عورت نے) اپنے جرم کا اعتراف کر لیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الدعوى/حدیث: 5082]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 5059»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (8/ 264 / 2641)، «البيوع»: خ.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
الرواة الحديث:
عبد الله بن أبي مليكة القرشي ← عبد الله بن العباس القرشي