پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
3. ذكر السبب الذي من أجله أنزل الله جل وعلا وأصلحوا ذات بينكم-
- اس سبب کا بیان جس کی وجہ سے اللہ جل وعلا نے آیت «وَأَصْلِحُوا ذَاتَ بَيْنِكُمْ» نازل فرمائی۔
حدیث نمبر: 5093
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، قَالَ: سَمِعْتُ دَاوُدَ بْنَ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ أَتَى مَكَانَ كَذَا وَكَذَا، أَوْ فَعَلَ كَذَا وَكَذَا، فَلَهُ كَذَا وَكَذَا"، فَتَسَارَعَ إِلَيْهِ الشُّبَّانُ وَبَقِيَ الشُّيُوخُ تَحْتَ الرَّايَاتِ، فَلَمَّا فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ، جَاءُوا يَطْلُبُونَ مَا قَدْ جَعَلَ لَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُمُ الأَشْيَاخُ: لا تَذْهَبُونَ بِهِ دُونَنَا، فَإِنَّا كُنَّا رِدْءًا لَكُمْ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ هَذِهِ الآيَةَ: فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَصْلِحُوا ذَاتَ بَيْنِكُمْ سورة الأنفال آية 1 .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ب کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص فلاں اور فلاں جگہ پر جائے گا اور ایسا اور ایسا کرے گا تو اسے یہ اور یہ ملے گا، تو نوجوان لوگ تیزی سے وہاں پہنچ گئے جبکہ عمر رسیدہ لوگ باقی رہ گئے۔ وہ جھنڈوں کے نیچے ہی رہے جب اللہ تعالیٰ نے انہیں فتح عطا کر دی تو وہ لوگ اس چیز کو حاصل کرنے کے لئے آئے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لئے مقرر کی تھی، تو عمر رسیدہ افراد نے ان سے کہا: تم ہمیں چھوڑ کر اسے نہیں لے جا سکتے کیونکہ ہم تمہارے پشت پناہ تھے تو اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں یہ آیت نازل کی: ”تم اللہ سے ڈرو اور آپس میں صلح کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلح/حدیث: 5093]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5093، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2610، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 11133، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2737، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 12835» «رقم طبعة با وزير 5071»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (2445). * [فَلَهُ كَذَا، وَكَذَا] قال الشيخ: ما بين المعقوفين سقط من الأصل.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 5093 in Urdu
عكرمة مولى ابن عباس ← عبد الله بن العباس القرشي