صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
9. ذكر خبر رابع يدل على أن الإيثار في النحل من الأولاد غير جائز-
- چوتھی خبر کا بیان جو اس پر دلالت کرتی ہے کہ اولاد کے درمیان عطیہ میں ایثار جائز نہیں۔
حدیث نمبر: 5105
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَحْمُودِ بْنِ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ صَالِحٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُغِيرَةِ خَتَنُ ابْنِ الْمُبَارَكِ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ: أَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَشِيرَ بْنَ سَعْدٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ عَمْرَةَ بِنْتَ رَوَاحَةَ أَرَادَتْنِي أَنْ أَتَصَدَّقَ عَلَى ابْنِهَا بِصَدَقَةٍ، وَأَمَرَتْنِي أَنْ أُشْهِدَكَ عَلَيْهَا، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَلْ لَكَ بَنُونَ سِوَاهُ؟" قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَكُلُّهُمْ أَعْطَيْتَهُمْ مِثْلَ مَا أَعْطَيْتَ هَذَا؟" قَالَ: لا، قَالَ:" فَلا تُشْهِدْنِي عَلَى جَوْرٍ" .
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا بشیر بن سعد رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے تو انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم )! (میری بیوی) عمرہ بنت رواحہ نے یہ ارادہ کیا کہ میں اس کے بیٹے کو کوئی چیز عطیے کے طور پر دوں۔ اس نے مجھے کہا: ہے میں آپ کو اس بات پر گواہ بنا لوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا تمہارے اس کے علاوہ اور بھی بچے ہیں۔ انہوں نے عرض کی: جی ہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم نے ان سب کو عطیہ دیا ہے، جس طرح تم نے اسے عطیہ دیا ہے۔ اس نے عرض کی: جی نہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر تم زیادتی کے کام میں مجھے گواہ نہ بناؤ۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الهبة/حدیث: 5105]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 5083»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح
الرواة الحديث:
عامر الشعبي ← النعمان بن بشير الأنصاري