صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
19. ذكر الإخبار عن إباحة أكل المرء الهدية التي كانت تصدقت على المهدي قبل أن يهديها إليه-
- اس بات کا بیان کہ اگر کوئی چیز کسی محتاج کو صدقہ دی گئی تھی، پھر اسی نے وہ چیز ہدیہ میں دے دی، تو ہدیہ دینے والے کے لیے اس کا کھانا جائز ہے۔
حدیث نمبر: 5115
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسْنِ بْنِ مُكْرَمٍ الْبَزَّازُ بِالْبَصْرَةِ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ الطُّوسِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنَّهَا أَرَادَتْ أَنْ تَشْتَرِيَ بَرِيرَةَ لِلْعِتْقِ، فَاشْتَرَطُوا وَلاءَهَا، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اشْتَرِيهَا وَأَعْتِقِيهَا، فَإِنَّمَا الْوَلاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ"، وَأُهْدِيَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَحْمٌ، فَقُلْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَذَا تُصُدِّقَ عَلَى بَرِيرَةَ، فَقَالَ:" هُوَ لَهَا صَدَقَةٌ وَلَنَا هَدِيَّةٌ" ، قَالَ: عَبْدُ الرَّحْمَنِ، وَكَانَ زَوْجُهَا حُرًّا.
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے بریرہ کو آزاد کرنے کے لیے اسے خریدنے کا ارادہ کیا تو اس کے مالکان نے اس کے ولاء کی شرط عائد کی۔ اس بات کا تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا گیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اسے خرید کر اسے آزاد کر دو کیونکہ ولاء کا حق آزاد کرنے والے کو حاصل ہوتا ہے۔“ ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو گوشت تحفے کے طور پر دیا گیا تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی کہ یہ بریرہ کو صدقے کے طور پر دیا گیا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ اس کے لیے صدقہ تھا اور ہمارے لیے تحفہ ہے۔“ عبدالرحمن نامی راوی بیان کرتے ہیں کہ اس خاتون کا شوہر آزاد شخص تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الهبة/حدیث: 5115]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 456، 1493، 2155، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1075، وابن الجارود فى "المنتقى"، 802، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2449، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4269، 4271، 4272، 4325، 4326، 5115، 5116، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2613،وأبو داود فى (سننه) برقم: 2233، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2074، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 279، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 10954، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2871، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24687» «رقم طبعة با وزير 5093»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - إلاَّ قول عبد الرحمن وفي آخره؛ فإنه مدرج، والصحيح أنه كان عبدا - «الإرواء» (6/ 274 - 275).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الصحيح
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 5115 in Urdu
القاسم بن محمد التيمي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق