صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
20. ذكر العلة التي من أجلها قالت عائشة هذا تصدق على بريرة-
- اس علت (سبب) کا بیان جس کی بنا پر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: «یہ چیز برِیرہ کو صدقہ میں دی گئی تھی» ۔
حدیث نمبر: 5116
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّهَا قَالَتْ: كَانَ فِي بَرِيرَةَ ثَلاثُ سُنَنٍ، إِحْدَى السُّنَنِ الثَّلاثِ أَنَّهَا أُعْتِقَتْ، فَخُيِّرَتْ فِي زَوْجِهَا، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْوَلاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ"، وَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْبُرْمَةُ تَفُورُ بِلَحْمٍ، فَقُرِّبَ إِلَيْهِ خُبْزٌ وَإِدَامٌ مِنْ إِدَامِ الْبَيْتِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَلَمْ أَرَ بُرْمَةً فِيهَا لَحْمٌ"، قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَلَكِنْ ذَاكَ لَحْمٌ تُصُدِّقَ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ، وَأَنْتَ لا تَأْكُلُ الصَّدَقَةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هُوَ عَلَيْهَا صَدَقَةٌ وَهُوَ لَنَا هَدِيَّةٌ" .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ بریرہ کے بارے میں تین شرعی احکام سامنے آئے: جب وہ آزاد ہوئی تو اسے اس کے شوہر کے ساتھ رہنے (یا علیحدگی اختیار کرنے) کے بارے میں اختیار دیا گیا، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ولاء کا حق آزاد کرنے والے کو حاصل ہوتا ہے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں داخل ہوئے تو ہنڈیا میں گوشت پک رہا تھا، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں روٹی اور گھر کا دوسرا سالن پیش کیا گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”کیا میں نے ہنڈیا میں گوشت نہیں دیکھا تھا؟“ لوگوں نے عرض کی: جی ہاں! یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، لیکن یہ وہ گوشت ہے جو بریرہ کو صدقے کے طور پر دیا گیا تھا اور آپ صدقہ نہیں کھاتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”یہ اس کے لیے صدقہ تھا اور ہمارے لیے تحفہ ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الهبة/حدیث: 5116]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 456، 1493، 2155، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1075، وابن الجارود فى "المنتقى"، 802، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2449، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4269، 4271، 4272، 4325، 4326، 5115، 5116، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2613،وأبو داود فى (سننه) برقم: 2233، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2074، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 279، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 10954، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2871، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24687» «رقم طبعة با وزير 5094»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (6/ 274): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 5116 in Urdu
القاسم بن محمد التيمي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق