صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
8. ذكر نفي الشفعة عن العقد إذا اشتراها غير شريك لبائعها منها-
- یہ بیان کہ اگر کوئی خریدار فروخت کنندہ کا شریک نہ ہو تو اس خرید پر شفعہ کا حق نہیں۔
حدیث نمبر: 5185
أَخْبَرَنَا الْحَرُّ بْنُ سُلَيْمَانَ بِأَطْرَابُلْسَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمَاجِشُونُ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الشُّفْعَةُ فِيمَا لَمْ يُقْسَمْ، فَإِذَا وَقَعَتِ الْحُدُودُ وَصُرِفَتِ الطُّرُقُ فَلا شُفْعَةَ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: رَفَعَ هَذَا الْخَبَرَ عَنْ مَالِكٍ أَرْبَعَةُ أَنْفَسٍ الْمَاجِشُونُ، وَأَبُو عَاصِمٍ، وَيَحْيَى بْنُ أَبِي قُتَيْلَةَ، وَأَشْهَبُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَأَرْسَلَهُ عَنْ مَالِكٍ سَائِرُ أَصْحَابِهِ، وَهَذِهِ كَانَتْ عَادَةً لِمَالِكٍ يَرْفَعُ فِي الأَحَايِينِ الأَخْبَارِ، وَيُوقِفُهَا مِرَارًا، وَيُرْسِلُهَا مَرَّةً، وَيُسْنِدُهَا أُخْرَى عَلَى حَسَبِ نَشَاطِهِ، فَالْحُكْمُ أَبَدًا لِمَنْ رَفَعَ عَنْهُ وَأَسْنَدَ بَعْدَ أَنْ يَكُونَ ثِقَةً حَافِظًا مُتْقِنًا عَلَى السَّبِيلِ الَّذِي وَصَفْنَاهُ فِي أَوَّلِ الْكِتَابِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”شفعہ اس چیز میں ہوتا ہے جو تقسیم نہ ہوئی ہو جب حدود واقع ہو جائیں اور راستے مختلف ہو جائیں تو شفعہ نہیں رہے گا۔“
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) امام مالک کے حوالے سے اس روایت کو چار حضرات نے مرفوع حدیث کے طور پر نقل کیا ہے ماجشون، ابوعاصم، یحیی بن ابوقتیلہ اور الشہب بن عبدالعزیز۔ جب کہ امام مالک کے حوالے سے ان کے دیگر تمام شاگردوں نے اس روایت کو مرسل حدیث کے طور پر نقل کیا ہے امام مالک کی یہ عادت تھی کہ وہ بعض اوقات روایت کو مرفوع حدیث کے طور پر نقل کر دیتے تھے اور بعض اوقات موقوف روایت کے طور پر نقل کر دیتے تھے اور کبھی مرسل کے طور پر نقل کر دیتے تھے اور کبھی مسند کے طور پر نقل کر دیتے تھے۔ یہ ان کی مرضی کے مطابق ہوتا تھا تو جس روایت کو انہوں نے مرفوع حدیث کے طور پر مسند کے طور پر نقل کیا ہو اور ان سے نقل کرنے والا راوی ثقہ اور حافظ ہو اور متقن ہو تو اس کی وہی صورت حال ہو گی جو ہم کتاب کے آغاز میں بیان کر چکے ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الشفعة/حدیث: 5185]
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) امام مالک کے حوالے سے اس روایت کو چار حضرات نے مرفوع حدیث کے طور پر نقل کیا ہے ماجشون، ابوعاصم، یحیی بن ابوقتیلہ اور الشہب بن عبدالعزیز۔ جب کہ امام مالک کے حوالے سے ان کے دیگر تمام شاگردوں نے اس روایت کو مرسل حدیث کے طور پر نقل کیا ہے امام مالک کی یہ عادت تھی کہ وہ بعض اوقات روایت کو مرفوع حدیث کے طور پر نقل کر دیتے تھے اور بعض اوقات موقوف روایت کے طور پر نقل کر دیتے تھے اور کبھی مرسل کے طور پر نقل کر دیتے تھے اور کبھی مسند کے طور پر نقل کر دیتے تھے۔ یہ ان کی مرضی کے مطابق ہوتا تھا تو جس روایت کو انہوں نے مرفوع حدیث کے طور پر مسند کے طور پر نقل کیا ہو اور ان سے نقل کرنے والا راوی ثقہ اور حافظ ہو اور متقن ہو تو اس کی وہی صورت حال ہو گی جو ہم کتاب کے آغاز میں بیان کر چکے ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الشفعة/حدیث: 5185]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 5162»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - المصدر نفسه: خ - جابر.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو هريرة الدوسي | صحابي | |
👤←👥سعيد بن المسيب القرشي، أبو محمد سعيد بن المسيب القرشي ← أبو هريرة الدوسي | أحد العلماء الأثبات الفقهاء الكبار | |
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر محمد بن شهاب الزهري ← سعيد بن المسيب القرشي | الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه | |
👤←👥مالك بن أنس الأصبحي، أبو عبد الله مالك بن أنس الأصبحي ← محمد بن شهاب الزهري | رأس المتقنين وكبير المتثبتين | |
👤←👥عبد الملك بن عبد العزيز الماجشون، أبو مروان عبد الملك بن عبد العزيز الماجشون ← مالك بن أنس الأصبحي | مقبول | |
👤←👥سعد بن عبد الله المصري، أبو عمر سعد بن عبد الله المصري ← عبد الملك بن عبد العزيز الماجشون | ثقة | |
👤←👥الحر بن سليمان الأطرابلسي، أبو شعيب الحر بن سليمان الأطرابلسي ← سعد بن عبد الله المصري | مجهول الحال |
سعيد بن المسيب القرشي ← أبو هريرة الدوسي