صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
9. ذكر خبر ثان يصرح بصحة ما ذكرنا معنى قوله صلى الله عليه وسلم الجار أحق بسقبه-
- یہ دوسری خبر جو اس بات کی تصدیق کرتی ہے جو ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان "الجار أحق بسقبه" کے معنی میں ذکر کی۔
حدیث نمبر: 5186
أَخْبَرَنَا الْقَطَّانُ بِالرَّقَّةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ حَبِيبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ:" قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الشُّفْعَةِ فِي كُلِّ مَا لَمْ يُقْسَمْ، فَإِذَا وَقَعَتِ الْحُدُودُ وَصُرِفَتِ الطُّرُقُ فَلا شُفْعَةَ" .
سیدنا جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شفعہ کے بارے میں یہ فیصلہ دیا ہے یہ ہر اس چیز میں ہوتا ہے، جو تقسیم نہ ہوئی ہو لیکن جب حدود واقع ہو جائیں اور راستے مختلف ہو جائیں، تو پھر شفعہ نہیں رہے گا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الشفعة/حدیث: 5186]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 5163»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: خ، وهو مكرر (5161). تنبيه!! رقم (5161) = (5184) من «طبعة المؤسسة». أي: قبل هذا الحديث بحديثين. - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
الرواة الحديث:
أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← جابر بن عبد الله الأنصاري